اسماعیل ہنیہ، جذباتی بیانیہ اور مستقبل کے خدشات
جب کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس کے اجتماعی رویوں میں جذباتی پن آ جاتا ہے، وہ حالات و واقعات کا معروضی تجزیہ کرنے سے محروم ہو جاتی ہے یہی حال پاکستانی قوم کا ہے، ہم واقعات کو صرف اوپری سطح سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں، گہرائی میں جا کر ان کا تجزیہ کرنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، بلکہ آج کل تو ہم فیسبک اور سوشل میڈیا پہ چلنے والے ٹرینڈز کے بہاؤ میں بہہ جاتے ہیں، بنا یہ سوچے کہ یہ ٹرینڈ حقائق و معروضی حالات کا تجزیہ کر کے ترتیب دیا گیا ہے یا جذبات و پاپولر اپروچ پہ۔
یہی رویہ پاکستانی قوم نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت اور اُس سے پہلے ایرانی قونصل خانے پر کیے جانے والے حملے کے جواب پہ اپنایا، مذکورہ واقعات کا معروضی تجزیہ کرنے کے بجائے ان کو مسلکی بحث کی طرف دھکیل دیا، حالانکہ مسلکی بحث بنانے والے طبقے کی اپنی پیدائش سرد جنگ کے زمانے کی ہے، انھیں سامراج مخالف ایرانی انقلاب کو روکنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا، لیکن جو گھٹی انھیں پلائی گئی تھی وہ مسلک کی تھی، اسی لیے وہ طبقہ آج تک ایران سے متعلق معاملات کو مسلکی تعصب سے ہٹ کر دیکھ ہی نہیں سکتا۔
مذکورہ واقعہ پہ پہلا بیانیہ یہ ترتیب دیا گیا کہ کوفیوں کی تاریخ ہی یہی ہے کہ انہوں نے پہلے امام عالی مقام کو بلایا اور قتل کروایا، اور اب یہی کچھ اسماعیل ہنیہ کے ساتھ کیا، حالانکہ ان عجلت پسند دانشوروں کو اتنا بھی خیال نہ آیا کہ کوفہ ایران کا نہیں عراق کا شہر ہے، چلیں اگر اس سے مراد اہل تشیع کو بھی لیا جائے تب بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ملک گھر آئے مہمان کو قتل کروا کر اپنی سکیورٹی فورسز، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور عسکری صلاحیتوں پر سوال اٹھوا کر اپنا مذاق اڑوانا چاہے گا؟ ایک ملک ایک ایسے شخص کو کیوں قتل کروائے گا جس کی تنظیم کو وہ خود فنڈ کر رہا ہے اور بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے؟
جبکہ دوسرے گروہ کا بیانیہ یہ ہے کہ وہ ایران کی محبت میں یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہ ایران کی عسکری و انٹیلی جنس صلاحیتوں کی ناکامی ہے، حالانکہ ایران گھر آئے مہمان کی حفاظت نہیں کر سکا، اور ایران کی دشمن قوتوں نے اس کی ناک کے نیچے اتنے ہائی پروفائل ٹارگٹ کو ہٹ کیا، اس گروہ کے بیانیے کی بنیاد بھی حقائق کے برعکس محبت و جذبات پہ ہے۔
اگر ان دونوں گروہوں کا حافظہ درست ہوتا تو یہ اس طرح کا بیانیہ کبھی ترتیب نہ دیتے، اگر ہم ماضی میں صرف چند سال پیچھے جائیں اور 2020 میں ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کو دیکھیں، جنھیں دن دھاڑے تہران میں قتل کیا گیا تھا، وہ پہلے بیانیہ ساز گروہ کے لیے یہ سوال چھوڑتا ہے کہ اگر اسماعیل ہنیہ کو ایران نے خود قتل کروایا ہے تو پھر کیا اپنے جوہری سائنسدان دان کو بھی ایران نے خود قتل کروایا تھا؟ کیونکہ محسن فخری زادہ جوہری سائنسدان تھے اور شاید آپ کے علم میں ہو کہ ایران پر موجود معاشی پابندیوں میں ایک وجہ اس کا جوہری پروگرام بھی ہے، جس کی وجہ سے ایرانی قوم معاشی طور پہ سخت حالات سے گزر رہی ہے، تو کیا ایسے حالات میں ایک قوم اپنے جوہری سائنسدان کے قتل میں خود ملوث ہو سکتی ہے؟
جبکہ دوسرے بیانیہ ساز گروہ کو بھی اندھی محبت سے نکل کر ماضی و حال کی سکیورٹی ناکامیوں کو سامنے رکھ کر یہ بات تسلیم کرنی ہو گی کہ محسن فخری زادہ اور اسماعیل ہنیہ کا قتل ہونا واضح طور پہ ایرانی عسکری و انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے۔ مزید یہ کہ اس واقعہ کو محض ایک شخص کے قتل کے بجائے خطے کی سیاست، طاقت کے توازن اور جنگ بندی سے کاٹ کر دیکھنا بالکل درست نہیں۔
پچھلے ہفتے چین میں ایک بیٹھک ہوئی جس میں چین نے بطور ثالث مغربی کنارے اور غزہ کی قیادت سمیت 14 دھڑوں کا ایک معاہدہ (بیجنگ اعلامیہ ) کروایا، جس میں جنگ بندی کے بعد دھڑے بندیاں ختم کر کے ایک قومی مصالحتی حکومت کے قیام کا اعلان کیا گیا، چین یہ سمجھتا ہے کہ فلسطین میں دیرپا امن کے لیے اس تقسیم اور دھڑے بندی کا ختم ہونا لازمی ہے، چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین اور فلسطین شراکت دار ہیں اور چین اتحاد اور مصالحت کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ کام اور کوششیں جاری رکھے گا۔
خبر ایجنسی ”دی انٹرسیپٹ“ کے مطابق ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کے اصول کے تحت حماس، قومی بنیادوں پہ چلنے والی تحریک پی ایل او کو کمزور کرنے کے لیے بنائے گئی تھی، جس کا عملی مشاہدہ 2006 میں ہم دیکھ چکے، چین شاید اسی لیے اس قسم کی تقسیم کا نہ صرف مخالف ہے بلکہ اسے ختم کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے، جبکہ اس ساری سفارت کاری سے چین دنیا کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ دنیا اب مزید ”یونی پولر“ نہیں!
اب جب کہ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا، اب اس واقعہ کے بعد حماس کی باقی ماندہ لیڈر شپ جذبات میں آ کر نہ صرف جنگ کو مزید طول دے سکتی ہے (حالانکہ وہ اس جنگ میں اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ جانی و مالی نقصان کروا چکی ہے ) بلکہ اپنے لیڈر کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں بھی تیز کر سکتی ہے، جس سے اسرائیل کو جنگ بندی نہ کرنے کا جواز مل جائے گا، یہاں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ حماس کی آنے والی قیادت معاملات کو کس طرح دیکھتی ہے؟ کیا وہ ”بیجنگ اعلامیے“ کا پاس رکھتی ہے؟ کیا وہ ماضی جیسا کردار اپنا کے فلسطینی اتھارٹی پی ایل او کے ساتھ ہی تو دست و گریباں نہیں ہو جائے گی؟ اس سب سے خطے کی سیاست میں یقیناً کئی تبدیلیاں آئیں گی، سعودیہ اور ایران کے سفارتی تعلقات سے شروع ہونے والا چین کا پر امن اور مستحکم مشرقِ و سطیٰ دیکھنے کا خواب ایک بار پھر چکنا چور ہو جائے گا۔
ہو سکتا ہے کہ ماضی میں قومی بنیادوں پہ مبنی سیاسی تحریک پی ایل او کو سبوتاژ کرنے کی طرح، حماس اپنے لیڈر کے قتل کا الزام ایران ہی پہ نہ دھر دے اور اپنا رخ ایران کی طرف ہی نہ کر لے، جو ابھی تک داعش، طالبان اور حماس جیسی داخلی انتشار و عسکریت پسند تنظیموں سے محفوظ ہے، کیونکہ سامراجی سیاست کی تاریخ یہی ہے کہ وہ انتشار و انارکی کے لیے ایسی تنظیموں کو نہ صرف تخلیق کرتا رہا ہے بلکہ ان کا معاون بھی رہا ہے۔


