ہم شرمندہ ہیں پاکستان

یہ میری زندگی کا پہلا یوم آزادی ہو گا جب دل انتہائی تکلیف میں ہے اور بے بسی کا عالم ہے کوئی امید بھی نظر نہیں آتی۔ غالب ٹھیک کہتے تھے۔
کوئی امید بر نہیں آتی،
کوئی صورت نظر نہیں آتی،
پہلے آتی تھی حال دل پر ہنسی،
اب کسی بات پر نہیں آتی۔
جب بھی یوم آزادی یا داستان جدوجہد آزادی پاکستان سامنے آئے تو دل ڈوب سا جاتا ہے آج ایسا محسوس ہوتا ہے اقبال کا خواب، چوہدری رحمت علی کا دیا ہوا نام، اور ہمارے بانی قائد اعظم کی جدوجہد ہماری تاریخ کا حصہ نہ ہو۔ ایک عجیب طرح کی اداسی اور تکلیف نظر آتی ہے۔ مسلمانوں نے انگریزوں سے آزادی لے لی مگر اپنے آپ سے نہیں لی۔
پاکستان کو آج بھی آزاد ہونا ہے اور یہ جنگ اور آزادی ہر شخص کی ہوگی۔ ہمیں اپنی نسلوں کے لیے آزادی چاہیے ہر اس حکمران سے جو قائد کا مقصد اور اقبال کے خواب کو آگ لگائے بیٹھا ہے۔ اب کی بار 14 اگست کو جھنڈیاں اور جھنڈا لگا کر فرض پورا نہیں ہو گا اس ملک کی بہتری کے لیے آواز بھی اٹھانا لازم ہو گیا ہے۔ اب نغمے سن کر پریڈ دیکھ کر پرچم کشائی سے کام نہیں چلے گا اب ہمارے ملک کو بہت ضرورت ہے اس نوجوان کی جو اس وقت بیروزگاری کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس نوجوان کی جو اس ملک سے بھاگ رہا ہے۔ اس نوجوان کی جو غربت کے بوجھ تلے خود کشی کر گیا، ان بزرگوں کی جنہوں نے اس ملک کی خیر مانگی اور اس کو پانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہمارے ملک کو آج ان بچوں کی ضرورت ہے جو اس ملک کا مستقبل ہیں اس ملک کا سرمایہ ہیں۔
پیارے پاکستان ہم شرمندہ ہیں نا ہم تمہیں سنبھال نہ سکے نہ بچا سکے ہم جھنڈا لگا کر اپنا فرض نبھانا جانتے ہیں مگر ہم موجودہ حالات سے لڑنا نہیں چاہتے۔
پیارے پاکستان ہم شرمندہ ہیں ہم تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکے۔

