ماہ رنگ کی للکار سے ابھرتا ہے انقلاب


بلوچستان کے بدلتے سیاسی اور شعوری حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ بلوچستان انقلاب کے آخری زینے پر کھڑا ہے۔ جہاں جہاں انقلاب آیا ہے وہاں حالات کے پس منظر کو ایک نظر ضرور دیکھیں۔ چونکہ انقلاب آنے کی کچھ وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ اس میں پہلی وجہ ”جب موجودہ نظام فیل ہو جائے یا موجودہ نظام میں تبدیلی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اس کے خلاف بولنا بھی جرم اور بغاوت ہو تو اس نظام کا حصہ بن کر تبدیلی لانا ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی ظلم کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔ تو یہاں انقلاب واجب ہے۔ جب قوم پرستی کی لہر دوڑنے لگ جائے تو ریاست کو 1789 یاد کرنا چاہیے، اگر پھر بھی ریاست کی یادداشت کمزور ہے تو میں اس کو 1979 یاد دلاتا ہوں۔ ایران کے انقلاب نے مشرق و مغرب کی ساری سامراجی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایک مرد درویش جسے وقت کے فرعون نے اپنی مملکت سے نکال دیا تھا، اپنی قوم سے کوسوں دور بیٹھا انھیں پکارتا رہا اس کی پکار پر پوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور اس نے اس جابر و ظالم حکمران کو تخت سے اتار پھینکا، اس مردِ درویش کو دنیا آیت اللہ خمینی کے نام سے یاد کرتی ہے، انقلابِ ایران سے پاکستان کو سبق لینا چاہیے۔ ہر انقلاب کی آمد جبر و بربریت کی انتہا ہوتی ہے۔ جب انقلاب لوگوں کے دلوں میں پنپتا ہے تو حکمرانوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملتی۔ کیونکہ لوگوں کو انقلاب کی طرف حکمران خود راغب کرتے ہیں۔ حکمرانوں کو لاشعوری طور پر پتا نہیں چلتا کہ وہ لوگوں کو کس طرف دھکیل رہے ہیں۔

ایک نہتی لڑکی جو پورے بلوچستان کی آواز بنی ہوئی ہے، ہر مرد و عورت اور سفید ریش کماش سارے ایک آواز اور یکجا ہو کر اس لڑکی کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں۔ یہ نہتی لڑکی ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، جہاں ان کے قدم پڑتے ہیں وہاں لوگوں کا ہزاروں کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ اس کے پاس دینے کو کچھ نہیں اور نہ یہ لوگ کچھ لینے کے طلب گار ہیں۔ یہ وہ احساس ہے جو اس دکھ اور تکلیف کے یکساں کے حصہ دار ہیں۔ اس لیے ان کی ایک کال پر پورا بلوچستان یکجا ہو کر سر خم کرتا ہے۔ وہ آگہی کے چراغ کو ہر ڈگر پر آویزاں کر رہی ہے۔ اس کو پتا ہے کہ کوئی ہم سے بعد اگر اس ڈگر پر سفر کرے تو اس کو راستے کی راہنمائی لینے کی ضرورت نہ پڑھے۔ ہر انقلابی پر یہ فرض ہے کہ اپنے حصے کا چراغ روشن کرے اور بعد کے لوگوں کے لیے راستہ ہموار کرے۔ ماہ رنگ بھی اپنے حصے کی مشعل کو ہر در و دیوار پر نصب کر رہی ہے اور لوگوں کے اندر سیاسی شعور بیدار کر رہی ہے۔ دشینت کمار نے یہ شعر ایسی بہادر بیٹیوں کے لیے لکھا ہے،

میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی
ہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہیے

اب ڈاکٹر ماہ رنگ شعور کی آگ کو ہر بلوچ فرزند کے سینے میں روشن کر رہی ہے۔ یہ انقلاب کی آگ ہر گھر میں جل رہی ہے بقول ساحر

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

Facebook Comments HS

ملک جان کے ڈی

ملک جان کے ڈی بلوچستان کے ساحلِ سمندر گوادر کے گیٹ وے پسنی مکران سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب کا مطالعہ، ادبی مباحث اور ادب کی تخلیق ملک جان کے ڈی کا اوڑھنا بچھونا ہیں، جامعہ کراچی میں اردو ادب کے طالب علم اور سوشل ایکٹیوسٹ ہیں

malik-jan-k-d has 19 posts and counting.See all posts by malik-jan-k-d