خوشی کی راہ کیا ہے؟


ہر ایک شخص زندگی میں بار بار اس بات پر غور کرتا ہے کہ خوشی کیا ہے؟
ہر اک گزرتے دن کے ساتھ زندگی کے فیصلے، تجربے اور نتیجے اسے ایک نئی سیکھ اور سمجھ دیتے ہیں۔

بیماریاں، پریشانیاں، دباؤ، موسم اور حالات اسے بسا اوقات بس یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ خوشی کا تعلق شاید صرف دولت، طاقت اور شہرت کے حصول سے ہے اور اگر وہ جزوی یا کلی طور پر اس تجزیہ پر یقین کر لے تو اس کی زندگی کا رخ دانستہ یا کسی حد تک بظاہر نادانستہ طور پر بدل کر دولت، طاقت اور شہرت کے حصول کے لیے کی جانے والی دوڑ کی جانب ہو جاتا ہے۔

دولت مند، طاقت ور اور مشہور لوگوں سے جب سوال پوچھے گئے کہ ان کی زندگی میں خوشی کیا ہے تو حیرت انگیز طور پر بہت سی ناتمام خواہشیں اور زندگی کے پرانے ادوار کے کچھ لمحات میں لوٹنے کی تمنا ان کی طرف سے خوشی حاصل کرنے کے لیے بتائی گئی خواہش یا ضرورت کے طور پر نظر آئی۔ جس سے واضح ہوا کہ صرف دولت، طاقت اور شہرت ہی خوشی حاصل کرنے کا فارمولہ یا ترکیب نہیں ہیں۔ البتہ اگر کوئی دولت، طاقت اور شہرت کو لوگوں کی بھلائی اور معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرے تو یہ خوشی کی حصول کا ایک ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔

اب اس چیز کو بہت سادہ اور عملی طور پر جاننے اور سمجھنے کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے کہ خوشی کی درست تعریف کیا ہے اور اس کو کیسے پرکھا جائے کہ یہ تعریف کتنی درست اور عملی ہے۔

اس موضوع پر صرف سننا اور سن کر ماننا ہی درست طریقہ نہیں ہو گا بلکہ اس پر تحقیق کر کے درست معلومات اور ان معلومات پر عمل کرنے کے ممکنات کو دیکھنا اور تعریف اور عمل کے باہمی تعلق کا کارگر ہونا بھی بہت ضروری امر ہے۔

آج کسی کی بھی بھی زندگی میں تباہی، بے ترتیبی، پریشانی، اور اداسی کے پیچھے صاف طور پر اک اہم سبب نظر آتا ہے :

”بغیر سوچے سمجھے سنی سنائی باتوں کو درست مان لینا“ اور بغیر کسی تحقیق اور ضروری تصدیق کے انہیں دوسروں تک پہنچانے کی غلط عادت۔

تحقیق کرنے کی عادت نہ صرف سوال کرنے کی تربیت دیتی ہے بلکہ سوالوں کے درست جواب تلاش کرنے اور ان کی درستگی کو جانچنے اور پرکھنے کے نت نئے طریقہ کار سے آگاہی بھی ملتی ہے۔ ،

مگر اس موقع پر ہر اک ذہن میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ ”خوشی کیا ہے“ ؟

اس بات کو جاننے کے لیے انسان دوست فلسفی، دانش ور اور ماہر تعلیم ایل رون ہبرڈ کی ایک بہت ہی سادہ مگر کارگر اور سائنسی بنیادوں پر لکھی گئی ایک سو سترہ سے زائد زبانوں میں ترجمہ شدہ کتاب ”خوشی کی راہ“ میں موجود خوشی کی تحریر کردہ تعریف کو پڑھتے ہیں :

سچی شادمانی اور خوشی گراں قدر ہیں۔ اگر کسی شخص کی بقا ہی جاری نہ رہے تو کوئی بھی شادمانی اور کوئی بھی خوشی قابل حصول نہیں ہو گی۔

ایک منتشر، بے ایمان اور عمومی طور پر غیر اخلاقی معاشرے میں بقا جاری رکھنے کی کوشش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کوئی بھی فرد یا گروہ زندگی سے ممکنہ حد تک لطف اندوز ہونے اور درد سے۔ نجات پانے کی جستجو کرتا ہے۔ آپ کے اطراف میں موجود لوگوں کے برے افعال سے خود آپ کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

دوسرے لوگوں کی بے ایمانی اور خراب رویہ کی بنا پر آپ کی اپنی خوشی المیے اور دکھ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ایسی مثالیں سوچ سکتے ہیں جب واقعی ایسا ہوا ہو گا۔

اس طرح کی غلط حرکات ایک شخص کی بقا کو کم کر دیتی ہیں اور اس کی خوشی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

آپ دوسرے لوگوں کے لیے اہم ہیں۔ آپ کی بات سنی جاتی ہے۔ آپ دوسروں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ ان دوسرے لوگوں کی جن کے نام آپ کے ذہن میں ہوسکتے ہیں خوشی یا ناخوشی آپ کے لیے اہم ہے۔ آپ اس کتاب کو استعمال کرتے ہوئے، بغیر کسی زیادہ دقت کے، انہیں اپنا وجود قائم رکھنے اور زیادہ خوشگوار زندگی گزارنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

ایک کم خطرناک اور زیادہ خوش گوار زندگی کی راہ کی نشان دہی کرنا آپ کے بس میں ہے۔

اب مندرجہ بالا تعریف کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اس بات کو سادگی اور آسانی سے سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے کہ زندگی کے فیصلے اور اقدام زندگی میں خوشی سے براہ راست منسلک ہیں۔

خوشی صرف کہانی میں بیان کردہ کوئی خزانہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں لیے جانے والے فیصلوں اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے تعلق رکھتی ہے۔

بہت آسانی سے آپ اس کلیہ کو یہ جاننے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کہ
آپ کا کون سا فیصلہ اور آپ کا کون سا اقدام آپ کی اور دوسروں کی زندگی کو کیسے متاثر کرتا ہے۔
اس مضمون کے اختتام پر میں کتاب ”خوشی کی راہ“ میں کہے گئے کچھ الفاظ دہرانا چاہوں گا :

اگرچہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا کہ فلاں شخص خوش رہ سکتا ہے۔ لیکن لوگوں کی بقا اور خوشی کے امکانات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ، آپ کی بقا اور خوشی کے امکانات بھی بہتر ہوجائیں گے

Facebook Comments HS