صنف نازک اور پیشہ ورانہ مسائل

پاکستان میں ہر 79 مردوں کے مقابلے میں صرف 21 خواتین ملازمت پیشہ ہیں اور ان ملازمت پیشہ خواتین کو بہت سے ان دیکھے مسائل کا سامنا ہوتا ہے کبھی اپنے کام کی جگہ پر تو کبھی اپنے کام کی بدولت گھروں پر یہی وجہ ہے کہ اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے انھیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2018 ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مختلف اداروں میں 31 ہزار 281 خواتین افسران ہیں، ایک ہزار 246 مرکزی سیکریٹریٹ میں ملازمت پیشہ ہیں جبکہ 30 ہزار 35 خواتین منسلک محکموں اور ذیلی دفتروں میں موجود ہیں۔
ویسے تو بہت سے ایسے چیلنجز ہیں جن کا بظاہر ان کی گھریلو زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن بعض دفعہ ان کے دفاتر کی روٹین ہی ان کے گھروں کو بری طرح متاثر کر رہے ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر خواتین کو اکثر ملازمتوں، اپنی ترقیوں اور تنخواہوں میں جنسی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی نہیں بلکہ انہیں بہتر مواقع ہونے کے باوجود کسی اور کو اس موقع کا حقدار بنا دیا جاتا ہے یا اسی کام کے لیے ان کے مرد ہم منصبوں سے انھیں کم معاوضہ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ دماغی تکالیف کا شکار ہونے لگتی ہیں اور مستقل دماغی تھکن ان کی صحت پر برے اثرات ڈالتی ہے جس کا اثر ان کی گھریلو زندگی پر بہت زیادہ پڑتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ بہت سی نوکری پیشہ خواتین کو ہراساں کیے جانے یا کام کے مخالف ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے کیریئر کی ترقی کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ بعض دفعہ خواتین کو ایسی غیر مرئی اور ان دیکھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انہیں اپنی تنظیموں میں اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے سے بھی روک دیتی ہے۔
اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خاندان اور گھریلو فرائض کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں توازن رکھنا ان کے لیے خاص طور پر مشکل ہوجاتا ہے اسی لیے بہت سی خواتین دیکھ بھال اور گھریلو کام میں غیر متناسب حصہ ڈالتی ہیں۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو صنفی دقیانوسی تصورات اور لاشعوری تعصب بھی اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ کام کی جگہ پر خواتین کو کس طرح سمجھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ یہ غیر مساوی مواقع اور تشخیص کا باعث بن سکتا ہے۔
خواتین کو اپنے کام کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سماجی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ جب انھیں کام اور خاندانی ذمہ داریوں کو نبھانے کے تناؤ کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ کے چیلنجوں کو بھی نبھانا پڑتا ہے تو ایک وقت آتا ہے کہ وہ جلن، اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہونے لگتی ہیں یہی نہیں بلکہ سماجی توقعات اور روایتی صنفی کردار خواتین پر کام اور گھر دونوں جگہوں پر کچھ کردار ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں، جو کہ ان میں تناؤ اور پچھتاوا پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
بہت سے ادارے ایسے ہوتے ہیں جہاں مرد کے زیر تسلط شعبوں میں خواتین خود کو الگ تھلگ یا تنہا محسوس کر سکتی ہیں، ان میں تعاون اور دوستی کی کمی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر خاتون کسی مرد کے سامنے اپنے آپ کو ارزاں نہیں سمجھتی اس لیے وہ ذہنی تناوٴ کا شکار ہونے لگتی ہے۔
جہاں بات معاشی چیلنجز کی آتی ہے تو ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے کہ خواتین اور مرد کو ایک ہی کام کرنے کے باوجود ان کی تنخواہوں میں فرق ہونے لگے اور خواتین ایک ہی کام کے لیے مردوں کے مقابلے میں کم کمانے لگیں، تو اس سے ان کی معاشی سلامتی اور کیریئر کا اطمینان متاثر ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ خواتین جو خاندانی معاشی کمزوری کی وجوہات کی بنا پر نوکری کے لیے اپنا وقت نکالتی ہیں ان کے لیے افرادی قوت میں دوبارہ داخل ہونا مشکل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ دراصل ان پر شراکت داروں کا معاشی انحصار ہوتا ہے۔
یہاں ہمیں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی ان تمام پالیسیوں میں تبدیلیاں کرنی ہوں گی اور صنفی مساوات کی حمایت کرنے والی پالیسیوں کو نافذ کرنا ہو گا، جیسے مساوی تنخواہ، انسداد امتیازی قوانین وغیرہ کے حوالے سے کام کرنا ہی نہیں ہو گا بلکہ ایک جامع اور معاون کام کی جگہ کا کلچر بھی بنانا ہو گا جو کہ خواتین کے ہراساں کرنے اور امتیازی سلوک کا فعال طور پر مقابلہ کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے اداروں کو خواتین کو کام اور ذاتی ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرنے میں مدد کے لیے لچکدار کام کے اوقات اور فاصلاتی کام کے اختیارات پیش کرنا ہوں گے ۔
اس کے علاوہ گھریلو طور پر صنفی تعصب کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات کے اقدامات کی حمایت کرنے، دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں میں حصہ لینے کے لیے مردوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔
اگر ہمارا معاشرہ کام کرنے والی خواتین کے لیے زیادہ مساوی اور معاون ماحول پیدا کر سکتا ہے، تو وہ وقت دور نہیں کہ وہ مستقبل میں پیشہ ورانہ اور ذاتی طور پر ترقی کی منازل طے کر سکتی ہیں۔ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گھریلو ذمہ داریوں میں بھی بھرپور طریقے سے حصہ لے کر ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں اپنا ہاتھ بٹا سکتی ہیں۔

