ارشد ندیم اور ہم
انڈین کامیڈین ذاکر خان ایک ویڈیو میں کہتے ہیں کہ آپ کے پاس 700 روپے ہیں اور آپ کو 1000 کا جوتا پسند آیا آپ نے دکاندار سے کہا کہ مجھے 700 میں دے دو، میں آپ کو کچھ دنوں میں باقی پیسے دے دوں گا تو دکاندار آگے سے کہتا ہے کہ "بھاگ یہاں سے۔“
پھر آپ محنت کرتے ہو، لاکھوں کماتے ہو، مشہور ہو جاتے ہو، اور پھر وہی شخص کہتا ہے، ”یار، آ جا 700 میں لے لے۔“ اُس وقت آپ کو وہ چیز نہیں چاہیے ہوتی۔ اس کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ اب آپ اس چیز سے آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔
ارشد ندیم کو انٹرنیشنل سطح پر پریکٹس کرنے کے لیے ایک اچھی جیولن چاہیے تھی، جس کی قیمت تقریباً 7 سے 8 لاکھ تھی۔ اُس وقت اُس نے کچھ انٹرویوز میں اس بات کا ذکر بھی کیا اور حکومت سے مدد کی اپیل بھی کی، لیکن کسی نے اُس کی مدد نہیں کی۔
اب ارشد ندیم کے اولمپکس گولڈ میڈل لانے کے بعد اور بین الاقوامی سطح پر اس کا اونچا نام ہونے کے بعد سب اس کی کامیابی میں حصہ ڈالنے کے لئے پیش پیش ہیں۔ لوگ اُس کے گھر جا رہے ہیں اور اُسے 10۔ 20 ہزار روپے بطور انعام دے رہے ہیں۔ ارشد کے ایک رشتہ دار نے اُس کے لیے بھینس کا تحفہ بھی دیا۔
یہاں پر وہ بات درست ثابت ہوتی ہے کہ کامیابی کے بہت سے باپ ہوتے ہیں، لیکن ناکامی یتیم ہوتی ہے۔ ارشد کو اب 10۔ 20 ہزار کی یا 8 لاکھ کی جیولن کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اُس کے دل میں وہ حسرت، وہ باتیں کہیں نہ کہیں دبی ضرور ہوں گی کہ اُس کے مشکل حالات میں کوئی اُس کے ساتھ نہیں تھا۔
یہی زندگی کا اصول ہے۔ ہمارے گلی محلے میں بھی چھوٹے چھوٹے ارشد ندیم ہیں جو شاید دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں یا بے روزگار ہیں۔ ہمیں اُن کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کل کو اگر کوئی بھی انسان غربت سے تنگ آ کر اپنی جان دے دیتا ہے تو اُس کی مرگ پر ہم سب ہمدردی، چاہے وہ لفظی ہو یا مالی کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب کیوں؟ اب یہ کرنے کا کیا فائدہ؟
آخر سب ختم ہونے کے بعد ہی کیوں؟ بہت سے ارشدوں کی امیدیں، زندگی کی ڈوریں صرف ہمارے خیال نہ رکھنے کی وجہ سے دم توڑ چکی ہیں۔ کیا ہم ہمیشہ ہر چیز کے آخر میں ہی اپنا ردعمل دیں گے؟ کیا ہم کسی کا ہاتھ پکڑ کر اُس کو پار نہیں لگا سکتے؟
آئیں یہ سوال ہم خود سے پوچھیں۔ آپ بھی اور میں بھی۔


