پروفیسر زیڈ بی مرزا کی آخری کتاب


 

”Dynamics of Highlands Ecosystems of Pakistan“

زیڈ بی مرزا صاحب کی چھبیسویں کتاب ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے حوالے سے وہ پر امید بھی تھے اور بڑی حد تک بے یقینی جیسی کیفیت سے دوچار بھی تھے۔ اس کتاب کی اشاعت کی ذمہ داری جب میرے ذمے آئی تو ایک ہفتے تک کتاب کی ضروری ایڈیٹنگ میں لگا۔ کتاب کا موضوع میرے شعبے سے الگ تھا تو کافی حد تک دشواری بھی ہوئی۔ ابتدائی ضروری ایڈیٹنگ کے بعد کتاب کی ایک ڈمی کاپی پرنٹ کروا کر مرزا صاحب کے گھر پہنچا۔ یہ میری ان سے بالمشافہ پہلی ملاقات تھی۔

ان کے بیٹے ہمایوں صاحب نے والد سے کہا کہ آپ کی کتاب کے حوالے سے ملنے آئے ہیں۔ ڈرائنگ روم میں بلایا اور تعارف ہوا۔ کچھ ہی دیر کی بات چیت سے معلوم ہوا کہ زیڈ بی مرزا صاحب گلگت بلتستان، چترال اور نارتھ کے باقی علاقوں کے حیوانات، جنگلات اور ایکو سسٹم کا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ہیں یوں کافی دیر بات چیت جاری رہی۔

تھوڑی دیر بعد میرا ہاتھ پکڑا اس کے اوپر کتاب رکھی، تھوڑی دیر میری طرف دیکھ کے خاموش رہے اور کہنے لگے۔ میری بیگم کچھ عرصے قبل مجھے چھوڑ کے دور نکل گئی ہیں اب مجھے لگ رہا ہے کہ وہ مجھے اپنے پاس بلا رہی ہیں۔ میں نے کہا ایسا نہیں کہتے رب آپ کو صحت اور لمبی عمر دیں۔ کہنے لگے یہ کتاب میری زندگی کی سب سے آخری اور سب سے بڑی خواہش ہے۔ میں چاہتا ہوں اس کی ہر صورت اشاعت ممکن ہو۔ میں نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور اپنی طرف سے ہر ممکن امید دلائی کہ اس کتاب کی اشاعت ہر صورت ممکن ہوگی۔

ان کے ذاتی معالج انتظار کر رہے تھے۔ کتاب کی ڈمی فائنل چیکنگ کے حوالے سے بات کی اور نکل آیا۔ کافی عرصے بعد وٹس ایپ پر میسج آیا کہ صحت ساتھ نہیں دے رہی کتاب کے آخری کچھ چیپٹرز کو دیکھ نہیں پا رہا۔ آپ آ کر کتاب کو لے جائیں اور ان کی ایڈیٹنگ خود کریں یا کسی ماہر سے کرا دیں۔ اس بار ان کی طبیعت پہلے سے زیادہ ناساز تھے۔ ذاتی معالج گھر پر ہی تھے۔ اس بار پھر وہی الفاظ کہ میری آخری خواہش یہی ہے کہ میری کتاب کی اشاعت اچھی طرح ممکن ہو۔ اشاعت کے لئے ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی کرائی اور وہاں سے نکل لیا پر مجھے کہاں معلوم تھا کہ یہ مرزا صاحب کے ساتھ آخری ملاقات تھی۔

کتاب کے بقیہ چیپٹرز کے لئے ڈاکٹر علی نواز کی ہدایت پر ڈاکٹر جعفر الدین سے گزارش کی جو انھوں نے ایک ہفتے کے اندر کر کے حوالے کر دی۔ کتاب کے ڈیزائن پر کچھ وقت لگا۔ یہ کتاب پرنٹنگ کے پروسیس میں تھی کہ پیغام ملا کہ زیڈ بی مرزا صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ سخت افسوس ہوا جس کتاب کی باقاعدہ اشاعت وہ خود دیکھنا چاہتے تھے نہ دیکھ سکے۔ شاید وہ اپنی بیگم کی پکار کو رد نہ کر سکے۔ دونوں کی جوڑی کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جتنا پیار تھا اتنا ہی اعتماد بھی، جہاں بھی جاتے دونوں ساتھ جاتے۔

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن 2024 کی خوبصورت تقریب میں اس کتاب کی تقریب رونمائی کی گئی۔ اس کتاب میں اکثر جانوروں کے خاکے زیڈ بی مرزا نے اور ان کی بیٹی ہما مرزا نے بنائے ہیں۔ جو سب کمال کے تخلیق کیے ہیں۔ ہما مرزا اور ہمایوں مرزا نے سٹیج پر غیر ملکی سفیر، وزیر اعظم کی مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی روینہ خورشید، ڈائریکٹر ایس ایل ایف ڈاکٹر علی نواز اور دیگر مہمانوں کو کتاب کی اعزازی کاپیاں بھی پیش کیں۔

میرے لیئے یہ لمحہ پرجوش اس لئے تھا کہ ایک اہم ذمہ داری کی تکمیل ہو رہی تھی جبکہ مایوسی اس لئے کہ زیڈ بی مرزا صاحب اپنی زندگی کی اہم کاوش کی تقریب رونمائی میں خود موجود نہیں تھے۔ لیکن مجھے یقین تھا وہ جہاں بھی ہیں انھیں اپنی اس آخری علمی کاوش کی تکمیل پر سکون ملا ہو گا۔

مرزا صاحب کی کتاب 130 صفحات پر مشتمل ہے جو پاکستان کے شمال میں بالائی پہاڑی علاقوں میں موجود جنگلی حیات، پرندوں، رینگنے والے جانوروں اور پودوں کا احاطہ کرتی ہے۔ جس میں ذاتی تجربات اور سائنسی تحقیق کا نچوڑ ملے گا۔ یہ کتاب سائنسی تحقیق اور عوامی تعلیم کے درمیان فرق کو کم اور پاکستان کی منفرد حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

مرزا صاحب نے اپنے تحقیقی کیریئر کا آغاز 1957 سے کیا۔ اور پھر چھ دہائیوں سے زائد مسلسل اسی علمی تحقیق میں مصروف رہے۔ اس دوران انھوں نے چھبیس کتابوں کے علاوہ تین کنٹری رپورٹس، چھبیس منیجمنٹ پلانز اور بیس لائن اسٹڈیز، سولہ ٹیکنیکل رپورٹس، چھپن تحقیقی مقالے اور کئی پی ایچ ڈی اور ایم فل کرنے والے اسکالرز کی رہنمائی کی۔ وہ پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے پہلے ڈائریکٹر، چیئرمین سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن، ممبر اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ بھی رہے۔ عمر کے آخری وقت تک ان کے پاس چودہ قومی اور عالمی آنریری عہدے تھے۔

ان کی علمی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں بہت سارے ملکی اور عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔ سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام زیڈ بی مرزا بائیو ڈائیورسٹی گولڈ میڈل پاکستان میں ماحولیات کے تحفظ اور بائیو ڈائیورسٹی کو فروغ دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔ ذوالفقار بیگ مرزا ماحولیاتی تحفظ اور اس حوالے سے علم و تحقیق کے فروغ کے لئے خود ایک درس گاہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد اس فیلڈ میں یقیناً ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے جو کہ اتنی آسانی سے پر نہیں ہو سکے گا۔ دعا ہے رب کریم مرزا صاحب کی روح کو دائمی سکون نصیب کرے آمین۔

Facebook Comments HS