کراچی: لاپتہ شہر کا سُراغ


اپنی اس تصنیف کے حوالے سے خود رمضان بلوچ صاحب کا کہنا ہے کہ یہ دراصل ان کے جذبات اور تاثرات ہیں ایک ایسے شہر کے بارے میں جو کبھی بلندیوں کا شہر تھا، وہ پہلے شکستہ ہوا اور اب لاپتہ ہو چکا ہے، اسی عروس البلاد کے سچے عاشق کی حیثیت سے رمضان صاحب نے اسی لاپتہ شہر کی جستجو و تلاش نے اس تصنیف کو جنم دیا ہے، بقول رمضان بلوچ کہ محبتوں نے اس شہر بے مثال کو عروج تک پہنچایا اور نفرتوں نے اسے زوال کا راستہ دکھایا۔

اس تصنیف میں کیا کچھ ہے، یہ کراچی کے عروج و زوال کی ایک ایسی داستان ہے جس میں اُس کے ایک سچے عاشق کے حقیقی جذبات ہیں جو آپ کو گزشتہ صدی میں اس شہر کے اچھے دنوں تک لے جاتا ہے، تقسیم سے بہت پہلے 1729 میں اس شہر نے تلاش معاش کے لئے آنے والوں کا ہمیشہ کھلے بانہوں سے استقبال کیا، انہیں اپنے اندر یوں سمو لیا کہ گویا وہ اسی کا حصہ ہوں، تقسیم کے بعد تو یہ پورے ہندوستان کے سینکڑوں شہروں کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کا ایک خوش رنگ گُلدستہ بنا اور آج ایک میگا سٹی بن چکا ہے۔

اسی میگا کاسموپولیٹن شہر کی رنگین و سنگین داستان کو بیان کرنے کے لئے رمضان بلوچ صاحب نے بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے، سینکڑوں کتب و جرائد کے حوالے مصنف کی محنتِ شاقہ اور باریک بینی کی گواہی دے رہے ہیں، آج کی نوجوان نسل جس کے پاس اپنی دیگر ترجیحات کے باعث مطالعہ کے لئے زیادہ وقت نہیں تو ان کے لئے یہ تصنیف ایک ایسا تحفہ ہے جس میں سینکڑوں کُتب و جرائد کا نچوڑ یکجا ہے۔

اس تصنیف میں ایک خاص بات جو مشاہدے میں آئی، وہ رمضان بلوچ صاحب کا خالص تحقیقی انداز ہے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب رمضان بلوچ صاحب کی آخری کتاب ”گوادر اُبھرتے ڈوبتے سورج کی کہانی“ سامنے آئی تو مختلف حلقوں کی جانب سے اُس پر تنقید کی گئی کہ اس تصنیف میں مصنف نے بغیر کسی مُستند حوالے کے اپنا بیانیہ پیش کیا ہے، رمضان بلوچ صاحب نے اس تنقید کو بھی بڑے مُثبت انداز میں لیا اور اپنی موجودہ تصنیف میں ہر بات کا باقاعدہ حوالہ دیا اور ان حوالہ جات کی وسعت اور ہمہ گیری دیکھ کر عرق ریزی اور ریاضت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ کے ڈاکٹر سید جعفر احمد صاحب نے اس تصنیف کے حوالے سے رمضان صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ جب وہ کراچی کو ایک لاپتہ شہر قرار دیتے ہیں تو ان کے تحت الشعور میں یہی بات ہوتی ہے کہ وہ دراصل اُس شہر کو بازیافت کرنا چاہتے ہیں جو چند عشروں میں نہیں بلکہ ایک طویل دورانیے کے دوران مسلسل ناپید ہو گیا ہے، رمضان بلوچ صاحب حقیقی معنوں میں فرزند کراچی ہیں جو قیام پاکستان سے تین برس قبل اس شہر کے قدیمی علاقے لیاری میں پیدا ہوئے، دوسرے الفاظ میں وہ پاکستان کے ساتھ ہی پلے بڑے، آج جب ہم آزادی کے 77 سالوں کا جشن منارہے ہیں تو رمضان صاحب اس جشن میں اس عروس البلاد کی بازیافت کر رہے ہیں۔

رمضان بلوچ صاحب کی یہ تصنیف صرف ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ حال کی ایک روشن تصویر ہونے کے ساتھ ساتھ مُستقبل کی نوید بھی ہے، رمضان صاحب بنیادی طور پر ایک رجائیت پسند انسان ہیں تو وہ ہمیشہ سُرنگ کے آخری سرے پر موجود روشنی کو دیکھتے ہیں، وہ اس شہر کی ماضی کی لاپتہ خوبیوں کا صرف ذکر ہی نہیں کرتے بلکہ ان کو تلاش کرنے کی جستجو بھی کرتے ہیں، اُن کی یہ تصنیف ان کی اسی سوچ کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔

Facebook Comments HS