کہانی سے بڑے کردار کی کہانی


میں ایک اچھا طالبعلم تھا لیکن مجھ سے رٹا نہیں لگایا جاتا تھا۔ مجبوراً مجھے طبع زاد مضامین، درخواستیں اور خطوط لکھنے پڑتے۔ پانچویں جماعت تک اردو کے جتنے بھی اساتذہ ملے، سب نے اِس کی خوب حوصلہ شکنی کی، لعن طعن اور مار پیٹ سمیت تمام حربے آزمائے، نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اردو اور انگلش کے نمبروں کی وجہ سے میری پوزیشن ماری جانے لگی۔ مس آصف توصیف عثمانی وہ پہلی استاد تھیں جنہوں نے میرے طبع زاد مضامین کو سراہا اور مجھے بہتر سے بہتر لکھنے کی ترغیب دی۔

مس آصف علامہ اقبال پبلک سکول شجاع آباد کی وائس پرنسپل، اور ایک غیر معمولی استاد تھیں۔ عام استادوں کے برعکس، وہ جلال کے بجائے جمال کا وظیفہ استعمال کرتیں۔ اُن کی وائب سرخ، توانا اور زندگی سے بھرپور تھی۔ اُنہوں نے کم از کم دو نسلوں کو اردو سکھائی۔ اُن کا پڑھایا ہوا اِس لیے بھی یاد رہ جاتا تھا کہ اِس میں موجود شفقت اور مامتا کا احساس اِسے قیمتی، معتبر اور کبھی نہ ماند پڑنے والی روشنی کا استعارہ بنا دیتا تھا۔

مجھ پر اُن کے بہت سے احسانات ہیں۔ میں بنیادی طور پر ایک شرمیلا لڑکا تھا، لیکن وہ مجھے کھینچ کھانچ کر ڈائس تک لے آتیں۔ میری خود اعتمادی کا ایک اہم حصہ اُنہی کی دین ہے۔ مجھے یاد ہے ایک بار اُنہیں میرا لکھا ہوا ایک مضمون کافی پسند آ گیا، تو اُنہوں نے مجھے روسٹرم پر بلا لیا اور اِسے پوری کلاس کو با آوازِ بلند سنانے کو کہا۔ میں نے کانپتی ٹانگوں اور خشک ہوتے گلے کے ساتھ یہ پہاڑ سٙر کیا اور لفظوں کی کوہ پیمائی کو اپنا نصب العین بنا لیا۔

میں چوتھی کلاس سے شعر کہہ رہا تھا لیکن اِتنی ہمت نہ تھی کہ اپنے کسی کلاس فیلو کے سامنے اِس امر کا اعتراف کر پاتا۔ سماج کی اکثریت شاعروں کو عاشق، دیوانہ اور سودائی سمجھتی تھی، اُن پر طرح طرح کے لیبل لگاتی تھی، اُن پر پھبتیاں کستی اور اُن کا مذاق اڑاتی تھی۔ میں کسی ایسے لیبل کے لیے تیار نہ تھا۔ مجھے جج ہونے سے ڈر لگتا تھا۔ بالآخر ایک روز میں نے اپنی کمر تھپتھپائی، ہمت بندھائی اور شاعری کی بیاض لے کر سکول چلا گیا۔ ابھی میں نے ایک ہی غزل سنائی تھی کہ فرحان نامی ایک شر پسند کلاس فیلو نے وہ بیاض اچک کر مس آصف کے سامنے رکھ دی۔ اُس کا ہی نہیں، خود میرا اپنا خیال بھی یہی تھا کہ مجھے اِس جرم کی پاداش میں پرنسپل آفس بھیجا جائے گا، جہاں میری خوب درگت بنے گی۔ چلو یہاں تک تو خیر تھی، مگر اسمبلی میں پورے سکول کے سامنے لِتًر پریڈ کا سوچ کر روح کانپ اٹھی۔ میں نے دل ہی دل میں منت مانی کہ کاش یہ معاملہ یہیں ختم ہو جائے تو میں محلے کے بچوں میں نمک پارے اور بالوشاہی بانٹوں گا۔ مس آصف نے ایک صفحہ پڑھا، پھر دوسرا، اچانک اُن کے ہونٹوں سے ایک ”واہ“ برامد ہوئی۔

”نئیر تو وہ ہے جو آسمان پر چمکتا ہے۔ یہ کیسا نئیر ہے جو گھر پڑا سسکتا ہے۔ یہ تم نے خود لکھا ہے؟“
”جی مس!“

اُن کی آنکھوں میں غصے کے بجائے محبت اور تحسین کے ملے جلے جذبات تھے۔ اُنہوں نے نہ صرف مجھے ڈائس پر بلا کر میری شاعری سنی، بلکہ مجھے انعام بھی دیا۔ وہ نہ ہوتیں تو ممکن ہے میرے اندر کا ڈرا سہما لکھاری اپنی موت آپ مر جاتا۔ اُن کی تھپکی میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ جج ہونے کا خوف جاتا رہا۔ پھر اُس کے بعد میں کبھی خود کو ادیب کے طور پر متعارف کروانے سے نہیں جھجکا۔

میں نویں جماعت تک اُن کا باضابطہ طالبعلم رہا۔ اُنہوں نے ہمیشہ میرا حوصلہ بڑھایا۔ اُن کا خیال تھا کہ اگر میں کوشش کروں تو ملتان بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے میں اُن کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہا، تاہم میری ہی ایک کلاس فیلو اقرا سلیم نے میٹرک میں ٹاپ کر کے ان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ یہ پہلی بار تھا جب تحصیل شجاع آباد سے کسی نے بورڈ میں پوزیشن لی تھی۔ پھر اِس کے بعد تو ہر سال ہی اُن کا کوئی نہ کوئی طالبعلم پوزیشن سٹینڈ پر کھڑا نظر آتا۔

وہ ایک متمول خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، پڑھانا اُن کے لیے نوکری یا روزگار کے بجائے زندگی کا مفہوم تھا۔ جب تک ممکن رہا وہ اِس مفہوم سے زندگی کا رس کشید کرتی رہیں۔ پھر اُن کی ہڈیاں جواب دے گئیں تو ڈاکٹرز نے زندگی بھر کے لیے بیڈ ریسٹ تجویز کر دیا۔ اُنہوں نے بہت کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح سے واپسی ہو پائے، مگر قسمت نے یاوری نہ کی۔ وہ دو کمروں کا کنڈر گارٹن سکول جو اُنہوں نے انیس سو پچاسی میں جوائن کیا تھا، اب اڑھائی مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ایک ہائر سیکنڈری سکول تھا، جس کا شمار ضلع ملتان کے کچھ اہم سکولوں میں ہوتا تھا۔

علامہ اقبال پبلک سکول، تحصیل شجاع آباد کی سب سے بڑی اور کامیاب کہانی تھی اور وہ پرنسپل سر الطاف بودلہ کے بعد اس کہانی کا سب سے اہم کردار۔ اُنہوں نے بہت عمدگی سے اپنا کردار نبھایا لیکن زندگی ہو یا کہانی، ایک نہ ایک دن تو سبھی کو سٹیج چھوڑنا پڑتا ہے۔ سو دو ہزار انیس میں اُنہیں بھی اِس کہانی سے نکلنا پڑا۔ وہ کہانی سے نکل گئیں، مگر کہانی اُن کے اندر سے نہیں نکل پائی۔ مس آصف زندگی بھر اپنے کردار کو یاد کرتی رہیں، یہاں تک کہ اٹھائیس جولائی سن دو ہزار چوبیس کی شام کو خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو کہانی کے اختتام سے پہلے چل بستے ہیں، مگر اُن کے گرد روشنی کا ہالہ دیر تک لو دیتا ہے، بلکہ کہنا چاہیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتا چلا جاتا ہے۔ کبھی کبھار تو یوں بھی ہوتا ہے کہ اُن کا قد اپنی کہانی سے بڑھ جاتا ہے۔ مس آصف بھی ایسا ہی ایک کردار تھیں، جنہیں شجاع آباد کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر پائے گی۔

Facebook Comments HS