خاتون کھلاڑیوں کو ہلکا مت لیں

اسکواڈرن لیڈر عامر پی اے ایف بوائے تھا یعنی ایک ایسا آفیسر جس کے والد ایئر فورس آفیسر تھے اور یوں اس کی پرورش ایئر فورس کی سہولیات کو استعمال کرتے ہوئی تھی۔ فضائیہ کے لگ بھگ ہر اڈے پر کھیلوں کی کچھ سہولیات ہمیشہ موجود ہوتی ہیں جن میں اچھے اسکواش کورٹ، سوئمنگ پول ، بلیئرڈ و اسنوکر اور ٹینس کورٹ قابل ذکر ہیں۔ عامر بھی ایک اچھا پیراک ہونے کے ساتھ بچپن سے کھیلنے کی وجہ سے ایک بہت ہی زبردست اسکواش کا کھلاڑی بھی تھا۔ لگ بھگ پی اے ایف میں چمپئین ۔ بہت ہی اچھے کھلاڑیوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ہر ایرے غیرے کھلاڑی کے ساتھ پریکٹس یا میچ نہیں کھیلتے اور عامر کے ساتھ بھی یہی مشکل تھی۔ یعنی وہ تقریباً کسی کے بھی ساتھ نہیں کھیلتا تھا۔ کیوں کہ اسلام آباد میں اس کے جوڑ کا کوئی بھی کھلاڑی موجود نہیں تھا۔
سال 2005 کی بات ہے، جب اس کی پوسٹنگ اسلام آباد میں تھی۔ اور وہ آفیسرز کے لئے مخصوص اسکواش کورٹ میں ، صرف آفیسرز کے لئے مختص وقت میں اکیلا دیواروں پر گیند ماررہا تھا یعنی پریکٹس کررہا تھا کہ اسے شیشے کی دوسری طرف کسی کی آمد محسوس ہوئی۔ پلٹ کردیکھا تو ایک انجان لڑکی جو خوب صورتی میں یکتا تھی۔ ٹریک سوٹ میں اسکواش کا ریکٹ لئے موجود تھی۔ لڑکی نے اس کی توجہ پا کر اندر آنے کی اجازت مانگی۔ عامر لگ بھگ اس کے حسن سے مسحور تھا۔ بغیر سوچے سمجھے اس نے سر ہلا دیا۔ لڑکی نے اندر آ کر معذرت کی اور انگریزی میں اس سے پوچھا کہ اگر وہ اجازت دے تو وہ اس کے ساتھ پریکٹس کر لے، کیونکہ وہ اسی دن اسلام آباد پہنچی تھی۔ مشرف کا دور تھا۔ عامر نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ کوئی نئی آفیسر ہے۔ بغیر سوچے کہ اس لیڈی آفیسر کے کھیل کا کیا معیار ہے۔ اپنی قسم توڑی اور سر ہلا دیا۔ لڑکی باہر جا کر ٹریک سوٹ اتار کر جب کورٹ میں واپس آئی تو عامر کو جھٹکا لگا کیوں کہ اس نے شارٹس پہننے کو ترجیح دی تھی۔

لڑکی نے دو تین شاٹس ہی مارے تھے کہ اپنی دانست میں ناقابل تسخیر عامر کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ تھوڑی دیر ہوئی تو لڑکی نے میچ کے لئے کہا۔ عامر نے مجبوراً ہامی بھرلی۔ لڑکی نے پھر منہ بنائے بغیر انگریزی میں پوچھا کہ بیسٹ آف فائیو۔ عامر نے کسی تنویمی سحر کے زیر اثر ایک بار پھر سر ہل ادیا۔
بیس سال سے کئی گھنٹے روزانہ اسکواش کھیلنے والے عامرکو کچھ دیر بعد وہ لڑکی کورٹ کے بیچ میں "ٹی” پر کھڑی، کسی مداری کی طرح نچا رہی تھی۔ پہلا گیم عامر بمشکل کئی گیم پوائنٹ کے بعد اس سے جیت پایا۔ شاید 10-12 سے۔ اتنے میں جانے لوگوں کو کیا خبر پہنچی کہ ایک قتالہ عالم، "اسکواڈرن لیڈر عامر” کو اسکواش کورٹ میں نچا رہی ہے۔ وہی عامر جو کسی کو کورٹ میں گھسنے نہیں دیتا۔ نوجوان لیڈی آفیسر کے ڈراپ شاٹ، وال ٹو وال کراس شاٹ، پاور فل بیک ہینڈ، کتاب میں لکھی ہر شاٹ بغیر فاؤل کئے اور بغیر”لیٹ” لئے وہ ایسے آسانی سے کھیل رہی تھی جیسے اسکواش اس کے لئے خالہ جی کا گھر ہو۔ تمام بچے، افسران، اور جانے کہاں کہاں سے لوگ آ کر اب یہ میچ دیکھ رہے تھے۔ سب اسی نئی آفیسرکو سپورٹ کررہے تھے جب کہ عامر کے پسینے چھوٹے ہوئے تھے۔
کوئی تین گھنٹے کے بعد عامر پانچویں سیٹ کے بعد لڑکی سے سخت ترین مقابلے کے بعد 2-3 سے ہارگیا۔ اب تک ان کے درمیان کوئی خاص بات نہیں ہوئی تھی۔ پانی کے وقفے میں بھی۔ لڑکی نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کا نام پوچھا۔ عامر نے اس سے انگریزی میں پوچھا کہ تم کیا یہاں نئی آفیسر پوسٹ ہوئی ہو، تو ہنس کے بولی۔ نہیں سر، میں پاکستان میں انٹرنیشنل اسکواش ٹورنامنٹ کھیلنے آئی ہوں۔ پاکستان کی نیشنل چیمپئین ہونے کے ساتھ ساتھ پی اے ایف کی ٹیم سے بھی وابستہ ہوں۔ نام ہے، "کارلا خان”۔عامر چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔ پوچھا بڑا منفرد نام ہے۔ ہنس کر بولی۔ ہاں میرے دادا نے رکھا تھا۔ شاید آپ نے نام سنا ہو۔ اعظم خان ۔ کبھی پی اے ایف کے ملازم تھے۔ کئی بار برٹش اوپن جیتی اور گریٹ ہاشم خان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ساتھ اس نے ٹکڑا لگایا کہ اس نے خود بھی متعدد مرتبہ عالمی نمبر ایک ملائشیا کی نکول ڈیوڈ کو بھی ہرایا ہوا ہے۔
بہرحال بچوں کے مزے آ گئے کیوں کہ کئی دنوں تک انکل عامر پھر کورٹ میں نظر نہیں آئے۔

ہاشم خان نے جب 1952 میں دوسری مرتبہ برٹش اوپن جیتی ۔ تو واپسی پر اس نے اپنے چھوٹے بھائی اعظم خان سے کہا کہ عالمی چیمپئین بننے سے اس پر دوہری ذمہ داری آ گئی ہے۔ مزید یہ کہ اس کی شہرت کا اعظم بھی فائدہ اٹھائے اور اسکواش میں آ جائے۔ اعظم اس وقت آرمی اور پی اے ایف کے میسز سے منسلک ٹینس کورٹس میں مارکر اور کوچ کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ اور بہت اچھا کھیلتا تھا۔ اسکواش اس کو بھی تھوڑی بہت آتی تھی لیکن وہ اس کا دیوانہ نہیں تھا۔ بڑے بھائی کی اس بات کو وہ سمجھ گیا کہ 37 سال سے اوپر ہوتے بھائی کو اپنے کھیل کا معیار بڑھانے یا کم از کم برقرار رکھنے کے لئے ساتھی کی ضرورت ہے۔ یوں اس نے ٹینس کو لگ بھگ خیرباد کہا اور بھائی کے ساتھ اسکواش کورٹ کی دیواریں توڑنے لگا۔ ہاشم نے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 26 سالہ اعظم کی تربیت شروع کردی۔
جوانی، ٹینس کے دہرے تجربے اور بڑے بھائی کی ٹریننگ نے اعظم جیسے لوہے کو چھ مہینے میں ہی تپا کر کندن بنا دیا۔ اعظم کی شہرت ہاشم کے ساتھ ساتھ عروج پر پہنچ رہی تھی اور شاید 1953 میں پہلی بار وہ برٹش اوپن کھیلنے پہنچا۔ لیکن آگے اس لئے نہیں جا سکا کیوں کہ اس کی سیڈنگ نہیں تھی اور شروع کے ہی ایک راؤنڈ میں بڑے بھائی سے میچ پڑنے کی وجہ سے وہ ہارگیا۔ حقیقت یہی ہے کہ ایک سال پریکٹس کے بعد اعظم خان کا کھیل بڑے بھائی ہاشم سے کہیں آگے تھا۔ لیکن بھائی کی عزت میں وہ اس کو کبھی بھی نہیں ہراتا تھا۔ بس میچ کو آخری لمحات تک لے جا کر آخر میں ہار جاتا تھا۔
اس اثناء میں ہاشم خان کو پاک فضائیہ نے کمیشنڈ افسر بھرتی کر لیا تھا۔ مگر اعظم بدستور کبھی ٹینس اور کبھی اسکواش کی کوچنگ سے گزارا کر رہا تھا۔
1953 میں پہلی شرکت کے بعد، 1954 میں دوسری شرکت پر اعظم کی خوش قسمتی کے اس کا واحد میچ بڑے بھائی سے فائنل میں پڑا۔ جو اس نے بھائی کی عزت میں ہارنا ہی تھا۔ مگر دنیا کو اندازہ ہو گیا کہ ایک نیا دیوانہ پیدا ہو گیا ہے۔ ناصر ادیب نے فلم مولا جٹ میں مکالمہ لکھا تھا کہ "مولے نوں مولا نا مارے تے مولا نئیں مر سکدا”۔ (مولا جٹ کو مولا (اللہ) نا مارے تو مولا جٹ نہیں مر سکتا)۔ اس زمانے میں کہتے ہیں کہا جاتا تھا کہ اسکواش کورٹ میں ،”کسی خان کو صرف خان ہی ہرا سکتا ہے”۔
اتنے میں پاکستان نیوی نے اسکواش کے ایک اور چیمپئین روشن خان (جہانگیر خان کے والد) کو اسپانسر کرتے ہوئے برٹش اوپن میں بھیجا جو پاکستان میں کھیلے جانے والے مقامی ٹورنامنٹس جیت رہے تھے۔ ہاشم اور اعظم فائنل کھیلنے لندن جاتے رہے ۔ روشن مگر 1956 کے فائنل تک پہنچ گئے۔ کیوں کہ اعظم ایک بار پھر ڈراز کی گڑبڑ کی وجہ سے بھائی سے سیمی فائنل میں ہار چکے تھے۔ 1957 میں بھی یہی ہوا کہ اعظم کو سیمی فائنل میں ہارنا پڑا۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوا کہ 42 سالہ ہاشم جن کا پاؤں زخمی تھا۔ روشن سے فائنل میں ہار گئے۔ 1958 میں ایک بار پھر دونوں بھائی فائنل میں تھے ۔مگر 1959 کے سیمی فائنل میں دونوں کا مقابلہ ہوا۔ جب کہ ہاشم کا پاؤں سوجا ہوا تھا۔ اعظم نے بڑے ادب سے بھائی کو کہا کہ اگر وہ اجازت دے تو وہ یہ میچ جیت لے کیوں کہ دوسرے سیمی فائنل میں روشن خان نے جیت کر فائنل میں ہاشم کو بہ آسانی ہرا دینا تھا۔ جس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ اور یوں 1959 میں پہلی بار اعظم نے بڑے بھائی کو ہرا کر فائنل میں کوالی فائی کیا جہاں حیران کن طور پر روشن خان کو ہرا کر ان کے خاندان کا ایک اور بچہ محب اللہ (مو خان) جیت کر فائنل میں آگیا تھا۔ اور یوں اعظم خان پہلی بار برٹش اوپن جیت گئے۔ اس اثناء میں اعظم خان کو بھی پاک فضائیہ نے نوکری دے دی۔ لیکن افسر کی حیثیت سے نہیں۔ جس کا اعظم کو ہمیشہ رنج رہا۔
اس دوران ایک دل چسپ بات ہوئی۔ پاک فضائیہ نے خصوصی طیارے سے دونوں کو آسٹریلیا ، لندن اور نیوزی لینڈ بھیجا۔ جہاں لوگوں کو کہا گیا کہ وہ کچھ رقم ادا کر کے (پانچ یا دس ڈالر) کسی بھی بھائی سے میچ کھیل سکتے ہیں۔ یاد رہے دونوں ہی ٹاپ کلاس تھے۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں بھائی ایک ایک دن میں درجنوں لوگوں سے ہارے بغیر میچ کھیلتے تھے۔ اور جب وہ ایک میچ کھیل رہے ہوتے تھے تو کھلاڑیوں کی طویل قطار پیسے دیکر لائن میں اپنی باری کا انتظار کررہی ہوتی تھی۔ یوں ان دونوں نے اس زمانے میں ایئر فورس کی مدد سے ایک اچھی رقم اپنے لئے جمع کرلی۔ اور پاکستان کی مزید ایک اچھی تصویر بھی دنیا کے سامنے آئی۔
چند سال بعد اعظم نے پاکستان کو خیر باد کہا اور لندن منتقل ہو گئے۔ یہاں آ کر انہیں پتہ چلا کہ ایک اسکواش کلب کا مالک اپنا کلب بیچ رہا ہے۔ اعظم نے مول تول کرکے ایک اچھی ڈیل کی اور کلب خرید لیا۔ یہ اور بات کہ اسی مالک کی بیٹی سے دوسری شادی کر کے وہ گھر داماد بھی بن گئے۔ اسی شادی کا نتیجہ واصل خان، کارلا خان کے والد تھے۔
پہلی شادی سے اعظم کا ایک 14 سالہ بیٹا بھی تھا جو 1963 میں ایک حادثے میں انتقال کر گیا۔ سال پہلے اسکواش کورٹ پر ہونے والی ایک انجری نے بھی اعظم کے کھیل کو متاثر کیا تھا۔ اور یوں وہ آہستہ آہستہ پروفیشنل اسکواش سے دور ہوتے گئے۔
جہانگیر خان کی اسکواش میں بادشاہت سے پہلے آسٹریلوی کھلاڑی جیف ہنٹ آٹھ دس سال تک بادشاہ رہا۔ مگر اس سے پہلے برطانوی کھلاڑی جونا بیرنگٹن چھ سات سال تک 1967 سے 1973 تک اسکواش پر راج کرتا رہا تھا۔
بیرنگٹن اپنی خود نوشت میں لکھتا ہے کہ 1967 میں میری اسکواش عروج پر تھی۔میں نے اپنے پاکستان کوچ نصراللہ خان سے کہا کہ مجھے کسی اچھے کھلاڑی کے ساتھ پریکٹس کرنی ہے۔ میرے بڑے اصرار پر وہ مجھے ایک کلب میں لے گئے جسے ایک عمر رسیدہ شخص چلا رہا تھا۔ میں نے منہ بناتے ہوئے اس کے ساتھ پریکٹس سیشن میں میچ کھیلا۔ جو اس 48 سالہ شخص نے مجھے اسٹریٹ سیٹ میں 0-3 سے ہرادیا۔ اس کے 27 پوائنٹس کے مقابلے میں بیرنگٹن صرف ایک پوائنٹ لے سکا۔ سر جونا بیرنگٹن لکھتے ہیں کہ میں ہل کر رہ گیا اور اگلے دن پھر میچ کے لئے گیا۔ اور اس بار بھی اسکور وہی رہا۔ بیرنگٹن نے اس جھٹکے کے محض دو ہفتے بعد اپنا پہلا برٹش اوپن ٹائٹل جیتا۔ جب کہ تھوڑی ہی دور دنیا سے بے گانہ اور اسے ایک نہیں دو مرتبہ بری طرح شکست دینا والا، اعظم خان بدستور اپنا اسکواش کلب اسی طرح چلا رہا تھا۔
پاکستان کے لئے متعدد بین الاقوامی اعزازات جیتنے والے اور کارلا خان کے دادا : اعظم خان (بشکریہ ورلڈ اسکواش فیڈریشن)
کارلا کے دادا، اعظم خان کرونا کی وبا سے 2020 میں انتقال کرگئے۔ کارلا خود بھی 2006 کے بعد سے مسلسل انجریز کا شکار رہی۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ و ہ مفلوج ہوکر بستر تک رہ گئی تھی۔ اس وقت وہ عالمی سطح پر 21 تک پہنچ چکی تھی مگر بد قسمتی سے پاکستان اسکواش فیڈریشن کے پاس اس کے علاج کے لئے محدود وسائل تھے۔ کارلا کے علاج کے لئے اس کے برطانوی والد ، واصل خان نے جمع پونچی خرچ کرکے اس کو پیروں پر کھڑا کر دیا ۔لیکن کارلا کا دل اب پاکستان اسکواش سے بھر گیا تھا۔ اور وہ واپس برطانیہ چلی گئی۔ کارلا خان نے بعد میں ایک پاکستانی نژاد کرکٹر شہباز خان سے شادی کی اور اب 42 سالہ کارلا، اسکواش کی عالمی کوچ ہے۔




جس طرح ہاشم خان کے چھوٹے بھائی اعظم خان اسکواش میں مشہور ہوئے۔
اسی طرح پاکستان کی طرف سے دوسرے برٹش اوپن چمپئین روشن خان نے بھی اپنے چھوٹے بھائی نصراللہ خان کو اسکواش سکھائی۔
نصراللہ نے اس مشکل وقت میں خود کھیلنے کی بجائے لندن میں رہتے ہوئے ٹرینر بننا پسند کیا اور نام کمایا۔ جونا بیرنگٹن کے کوچ کی حیثیت سے نصراللہ خان نے نام کمایا۔
بعد میں روشن خان کے بیٹے جہانگیر خان نے اسکواش پر راج کیا جب کہ نصراللہ کے بیٹے رحمت خان نے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کوچنگ کا راستہ اختیار کیا اور پہلے جہانگیر خان کے کوچ کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل کی اور پھر اداکارہ و گلوکارہ سلمی آغا سے شادی کرکے مزید شہرت کمائی۔
جونا بیرنگٹن نے اعظم خان سے ہارنے کے بعد انہیں اپنا اسٹریٹیجک کوچ اور مینٹور بنالیا تھا اور یہی اس کے سات سال تک جیتنے کا راز تھا۔
جن دنوں اعظم اور ہاشم نے برٹش اوپن کا سفر شروع کیا۔ ان کے گاؤں نواں کلے میں ہر گھرانہ اسکواش، گالف یا ٹینس کی کوچنگ یا مارکر کی حیثیت سے روزگار کماتا تھا۔
انہی گھرانوں میں ایک گھرانہ روشن خان کا تھا اور دوسرا گھرانے سے ایک کھلاڑی سفیر اللہ خان بھی تھا۔ سفیر اللہ کے والد پشاور کے برٹش کلب میں ہیڈ کوچ تھے۔
سفیر اللہ ۔۔۔ ہاشم کے گاؤں سے اور اس کا گہرا دوست بھی تھا۔ بعد میں سفیر اللہ کی شادی ہاشم خان کی ایک بہن سے ہوئی تھی۔
جب اعظم اور ہاشم برٹش اوپن کھیل رہے تھے اور اعظم 1953 میں اوپر نہ جاسکا۔ اسی برٹش اوپن میں ایک اور پاکستانی اسکوااش کا کھلاڑی بھی قسمت آزمانے پہنچ گیا تھا اور وہ سفیراللہ خان تھا اور سیمی فائنل میں شکست کھاگیا۔
سفیر اللہ خان جو ہاشم خان کا بہنوئی تھا اس نے اپنے بیٹے یعنی ہاشم اور اعظم کے بھانجے کو بھی اسکواش میں تیار کیا۔ اور اعظم ہاشم کے اس بھانجے کا نام محب اللہ سینیئر تھا جسے سب مو۔ خان کہتے تھے۔
محب اللہ نے بھی برٹش اوپن میں حصہ لینا شروع کیا اور 1959 میں روشن خان کو سیمی فائنل میں ہراکر فائنل میں ماموں اعظم خان سے شکست کھائی۔ یاد رہے روشن خان کا ہاشم کے خاندان سے کوئی سگا رشتہ نہیں تھا یہ محض اس گاؤں کے ایک فرد اور دور پار کے رشتے دار تھے وہ بھی سسرالی۔
محب اللہ ماموں سے ہارتا رہا حتی کہ اس نے 1963 میں جب ماموں اعظم زخمی تھا۔ پہلی بار برٹش اوپن جیت لیا۔
امریکی صدر کنیڈی نے اس کا جب کھیل امریکن اوپن میں دیکھا تو اسے امریکہ منتقل ہونے کی دعوت دی جو اس نے قبول کرلی۔ اعظم خان نے جہاں لندن میں رہائش اختیار کی۔ ہاشم خان اور محب اللہ نے امریکی شہریت حاصل کی۔
یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ خدا جانے یہ سب لوگ کیسے لندن پہنچ کر برٹش اوپن کھیل لیتے تھے !
نواں کلے (نیا علاقہ) جہاں لگ بھگ سبھی گھرانے اسکواش ٹینس یا گالف کے کھیلوں سے کسی نہ کسی طرح وابستہ تھے۔ پشاور سے لنڈی کوتل جانے والی ریلوے لائن پر واقع ہے۔ اس ریلوے لائن پر چلنے والی اسٹیم انجن ریل گاڑی۔۔ امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد متعدد مرتبہ دہشت گردی کے حملوں کا شکار ہوئی اور یوں بند ہوگئی۔
ہاشم خان کے برٹش اوپن جیتنے کے بعد پاکستان ریلوے نے نواں کلے کے پاس ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن بنادیا جس کا نام ہاشم کلے رکھا گیا یعنی ہاشم کا علاقہ یا گاؤں۔
یہ ایک منفرد اعزاز ہے کہ کسی کھلاڑی کے نام پر ریلوے اسٹیشن کا نام رکھا گیا ہو۔ ممکن ہے میاں چنوں کے پاس کسی اسٹیشن یا جگہ کا نام بھی ارشد ندیم پر تبدیل ہوجائے۔