پاکستان کو سبز انقلاب کی ضرورت ہے


ایک زرعی ملک ہونے کے ناتے زراعت پاکستانی معیشت کے لئے آج بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زرعی پیداوار اور اس کی برآمدات پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت سٹریٹجک پالیسی کے تحت سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور دیگر خلیج تعاون تنظیم یا جی سی سی ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے۔ اس حوالے سے کیے جانے والے اہم اقدامات میں سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلٹیشن کونسل کا قیام بھی شامل ہے جسے دیگر شعبہ جات کے ساتھ ساتھ زراعت سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔

خلیجی ممالک پاکستان کی زرعی برآمدات کے لئے ایک زبردست منڈی بن سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ پاکستان اپنے زرعی شعبے کو مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق ترقی دے کیونکہ گلف ممالک جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کے قریب ہیں اور وہاں زرعی مصنوعات کی بے پناہ کھپت ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نعمتوں سے نواز رکھا ہے جن میں سے ایک پاکستان کے متنوع موسم ہیں۔ پاکستان کی زرعی اجناس اور پھل اپنے ذائقے اور لذت کے اعتبار سے دنیا میں منفرد حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں کا قدرتی ماحول زرعی پیداوار کے لئے انتہائی سازگار ہے۔

یہاں ہر طرح کے موسم پائے جاتے ہیں اور ہر سیزن کی الگ زرعی پیداوار ہے۔ اپنے آبی نظام اور زرخیز زمین کی بدولت پاکستان دنیا میں ایک قدرتی فوڈ باسکٹ ہے۔ زرعی پیداوار کے شعبے اور زراعت سے متعلقہ انڈسٹری کو فروغ دے کر ہم نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں بلکہ قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ پاکستان کے چاول، گندم، ٹماٹر، پیاز، سبزیاں، آم، کینو، سمندری غذا اور دیگر اجناس کی پیداوار اور پراسیسنگ ایسے شعبہ جات ہیں جہاں بے پناہ منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ ہم بین الاقوامی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی پیداوار میں اضافہ کریں۔ زرعی شعبے کی پیداوار اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے منافع بخش امکانات کی مناسب مارکیٹنگ سے پاکستان میں نہ صرف زرعی انقلاب آ سکتا ہے بلکہ معاشی خود انحصاری کی منزل بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں جتنی اہم زرعی پیداوار ہے اتنا ہی اہم اس کی پراسیسنگ کا عمل بھی ہے۔

معیاری پراسیسنگ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہماری زرعی مصنوعات کو جی سی سی ممالک کے لئے پرکشش بنا سکتا ہے۔ ان ممالک میں پہلے ہی پاکستانی مصنوعات کی ڈیمانڈ ہے لیکن ایکسپورٹ کوالٹی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں برآمدات میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی زرعی اجناس کا ایک بڑا مسئلہ ان کی شیلف لائف ہے۔ سٹوریج کی جدید سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر پیداوار گل سڑ جاتی ہے یا اونے پونے داموں فروخت ہوتی ہے۔

کسانوں کو غیر معیاری بیج کی فراہمی بھی ایک الگ المیہ ہے، خاص طور پر حال ہی میں چاول کے غیر معیاری ہائبرڈ بیج نے کسانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور کسان کھیت کی لاگت پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ اسی لئے ہمارا کسان پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے ہمیشہ معاشی گرداب میں پھنسا رہتا ہے۔ زرعی پیداوار کی بہتر سٹوریج، جدید ٹیکنالوجی اور معیاری پروسیسنگ سے ایکسپورٹ کے مواقع پیدا ہوں گے اور نتیجے کے طور پر پاکستانی کسان خوشحال ہو گا۔

جی سی سی کے اہم اقتصادی کردار پر پاکستانی قیادت میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ سعودی عرب کے ایک سینئر سفارت کار ڈاکٹر علی عوض العسیری کے مطابق پاکستان کی جانب سے اب تک، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک تیز رفتار ون ونڈو آپریشن فراہم کرنے میں ناکامی بیرونی سرمایہ کاری میں کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔ پاکستان کے زرعی شعبہ میں جی سی سی ممالک کی سرمایہ کاری ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

انشاء اللہ یہ ممکنات مستقبل قریب میں زرعی خود کفالت اور زرعی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ پاکستان کی زرعی پیداوار میں ایک بڑا مسئلہ اس کا ویلیو ایڈڈ نہ ہونا بھی ہے اور اس حوالے سے کسانوں کو ضروری تربیت اور وسائل مہیا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ زرعی پیداوار کی صنعتی پروسیسنگ سے نہ صرف ویلیو ایڈیشن میں اضافہ ہو گا بلکہ پیداوار کی کوالٹی اور معیار بھی بہتر ہو گا جو بین الاقوامی مارکیٹ کی اہم ضرورت ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان آہستہ آہستہ گلوبل مارکیٹ میں اپنی جگہ دوبارہ بنا رہا ہے اور برآمدات میں اضافے کے لئے دور رس اور سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔

پہلے سے موجود مارکیٹ کے علاوہ پاکستانی چاول کو حال ہی میں روس اور میکسیکو کی مارکیٹ بھی مل چکی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اس سال پچاس لاکھ ٹن چاول برآمد کر کے تین ارب ڈالر زر مبادلہ کمائے گی۔ پاکستانی چاول کے لئے نئی منڈیوں کا کھلنا ملکی معیشت کے لئے ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے مترادف ہے۔ چین، انڈونیشیا اور فلپائن میں بھی پاکستانی چاول کی ڈیمانڈ میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

بھارت میں چاول کی برآمد پر پابندی عائد ہونے سے پاکستانی چاول کی طلب دنیا بھر میں بڑھی ہے جس سے پاکستانی ایکسپورٹرز بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ چین نے پچھلے سال پاکستان کی اٹھارہ نئی چاول برآمد کرنے والی کمپنیوں کو رجسٹرڈ کیا ہے جس سے پاکستانی چاول کی مانگ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہائبرڈ چاول کی نئی اقسام کی دریافت نے اس فصل میں انقلاب پیدا کیا ہے۔ یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ پچھلے چند سال میں چاول کی صنعت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

بہر حال ابھی بھی اس شعبہ میں کلر سارٹر مشینوں کی درآمد، پراسیسنگ کے جدید طریقوں اور دیگر شعبوں میں بھاری اور منافع بخش سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں۔ پارک سمیت پاکستان کے تمام زرعی سرکاری ادارے اپنی تحقیقی کاوشوں اور مارکیٹنگ کے ذریعے پاکستان کی زرعی معیشت کو بحال کرنے اور زرعی مصنوعات کی کوالٹی کو بہتر کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ ماضی کی نسبت پاکستانی آم کی ایکسپورٹ میں ہر سال مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں پھلوں کے بادشاہ آم کی کاشت چار سو سال قبل شروع ہوئی۔ اس وقت دنیا میں قلمی آم کی 149 اور دیسی آم کی ایک ہزار کے قریب اقسام کاشت ہو رہی ہیں۔ مجموعی طور پر پچیس ملین ٹن عام دنیا میں پیدا ہور ہا ہے۔ پاکستان ایک سرسبز و شاداب ملک ہے جو دنیا کو درپیش فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے زبردست مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ عالمی ممالک پاکستان کی زراعت کو جدید پیمانے پر استوار کرنے کے لئے آگے بڑھیں اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔

پاکستان کی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اس وقت چاول، آلو، ٹماٹر، پیاز، سبزیوں اور آم سمیت دیگر نقد آور فصلوں کی بڑھوتری اور ان کی ایکسپورٹ کو یقینی بنانے کے لئے جدید وسائل اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا رہی ہے۔ امید ہے کے پاکستان جلد ہی زرعی شعبے میں تیز رفتار ترقی کی منازل طے کرے گا۔ اگر زرعی پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے ہم تھوڑی سی محنت کریں تو عالمی سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں لانا چنداں مشکل نہ ہو گا۔

جس طرح گورنمنٹ اس شعبے کی طرف توجہ دے رہی ہے، میرا یقین ہے کہ اب وہ وقت دور نہیں جب پاکستان گرین ریوولوشن کی بدولت اپنی معیشت کو خاطر خواہ سہارا دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ پاکستان کے ہیومن ریسورس کی اکثریت آج بھی زراعت سے منسلک ہے اس لئے ملک کو معاشی خود کفالت کے راستے پر چلانے کے لئے سبز انقلاب کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS