خیر کے کام کرنے والی مائی خیری
سندھ میں روایتی طور پر سخت پردہ عام ہے۔ یہ روایت صدیوں سے قائم دائم ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ضرور ہوئی ہے مگر ابھی تک قائم دائم ہے۔ کبھی کبھی سخت پردہ سندھی خواتین کے لئے زحمت کا باعث بھی بنا رہا یہی وجہ ہے کہ ان کے نیکی کے کام منظر عام پر نہیں آئے۔
سندھ کے قدیم دور کی خواتین میں مائی خیری جو سخی، ہنر مندانہ ذہن پانے کے علاوہ بہت دلیر تھیں۔ اس خاتون کا تعلق سندھ کے حکمران خاندان تالپور سے تھا۔ یہ میر صوبیدار خان تالپور کی بیگم اور بعد میں بننے والے حکمران میر فتح علی خان تالپور کی والدہ تھیں۔ ان کا اصل نام خیرالنساء تھا لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں اتنے فلاحی کام کیے کہ اپنی کار خیر کی خدمت کے سبب مائی خیری کہلانے لگیں۔
مائی خیری کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ میروں کے دور میں عربی کے ساتھ ساتھ فارسی زبان بھی رائج تھی۔ اس خاتون نے دینی تعلیم کے بعد عربی اور فارسی کی تعلیم بھی گھر میں رہتے ہوئے، گھر والوں کی موجودگی میں چند لائق اساتذہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد ان کی علمی لیاقت اور شخصیت میں تعمیری فرق آیا۔
مائی خیری شروع سے ہی نیک سیرت خاتون تھیں۔ انتہائی رحمدل اور انسانی ہمدردی رکھنے والی تھیں۔ مذہبی جذبہ بھی بہت زیادہ تھا صدقات و خیرات بھی دل کھول کر کرتی تھیں۔ خود سادہ مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ سادہ لباس بھی زیب تن کیا کرتی تھیں جو کہ شاہی اطوار کے خلاف بات تھی، کیونکہ وہ بے تحاشا دولت مند خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنے نجی اخراجات میں کئی مسکینوں، نادار اور بیوہ خواتین کے لئے وظیفے مقرر کیے۔ ان کی حویلی کے دروازے ہمیشہ حاجت مندوں کے لئے کھلے رہتے تھے اور کبھی بھی کوئی سوالی ان کے در سے خالی نہیں جاتا تھا۔
مائی خیری کو فن تعمیر کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے حیدرآباد میں، جو کہ تالپور حکومت کے دوران دارالحکومت تھا، وہاں کئی مدارس، مساجد، خواتین کے لئے ہنر مندی کے مراکز، دوا خانے اور یتیم خانے بنوائے۔
مائی خیری کو شہرت حیدرآباد کے علاقے فقیر جو پڑ میں ان کی تعمیر کروائی ہوئی عالیشان مسجد سے ملی جو کہ اب ایک تاریخی مسجد کی حیثیت رکھتی ہے۔ حیدرآباد کا علاقہ فقیر جو پڑ تالپور صاحبان کے اہم سپاہی فقیر محمد جونیجو کا آباد کیا ہوا تھا۔ ان صاحب نے یہاں پہ ایک امام بارگاہ تعمیر کروائی تھی۔ سندھی زبان میں امام بارگاہ کو پڑ کہا جاتا ہے، اس لئے بعد میں یہ پورا علاقہ فقیر جو پڑ کے نام سے ہی مشہور ہو گیا۔
مائی خیری نے 1791 میں جب یہ مسجد تعمیر کروائی تھی، تب اس کے ساتھ ایک مدرسہ بھی تعمیر کروا دیا۔ یہ مسجد علاقے میں اونچی جگہ پر بنائی گئی تھی اس لئے دور سے ہی نظر آتی تھی۔ مدرسے میں بیرون شہر سے آنے والے طالب علموں کے لئے رہائش و کھانے پینے کا بندو بست تھا۔ اس کے علاوہ ایران اور ہندوستان کے مختلف شہروں سے علماء بھی تعلیم دینے کی غرض سے قیام پذیر ہوتے تھے۔ نماز جمعہ اور نماز عید تالپور صاحبان خصوصی طور پر اس مسجد میں پڑھنے آیا کرتے تھے، جس کا اہتمام بھی اتنا ہی اہم ہوتا تھا۔
مائی خیری مسجد کا بیرونی دروازہ جو عالیشان موٹی لکڑی کا تھا اور اس پر بہت خوبصورت پھولوں کے ڈیزائن بنے ہوئے تھے۔ کافی عرصہ لگا رہنے کے بعد نکال دیا گیا اور اس کی جگہ لوہے کا دروازہ لگا لیا گیا ہے۔ حقیقت میں ایسی تاریخی جگہوں کی اصل اور قدیم چیزوں کی خوبصورتی منفرد ہوتی ہے۔ آج جب اس مسجد میں نماز پڑھنے جائیں گے تو آپ کو مسجد کی اندرونی بناوٹ سے بھی احساس ہو جائے گا کہ سخت گرمی کے موسم میں بھی وہاں ٹھنڈی ہوا کا گزر ہے۔
نیکی کے کام کرنے والی مائی خیری کی وفات یکم رمضان المبارک 1222 بمطابق 2 نومبر 1807 کو ہوئی۔ ان کی تدفین ہالا شہر کے قریب تاریخی علاقے خدا آباد میں ہوئی۔ اس مسجد میں جب تک نماز پڑھی جائے گی، تب تک مائی خیری کو اس کا ثواب پہنچتا رہے گا۔



