پاکستان کو قید خانہ بنا دیں: گریٹ فائر نظام کا اطلاق
کہا جاتا ہے اکیسویں صدی ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے، رواں سال عالمی یوم نوجوانان کے حوالے سے بھی جو موضوع رکھا گیا تھا اس کا عنوان پائیدار ترقی کے راستے ڈیجیٹل میڈیا کے سنگ ہے، پاکستان میں نو مئی دو ہزار تئیس کے بعد سے انٹرنیٹ کی بندش کا سلسلہ جاری ہے، آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کو عام انتخابات کے روز بھی ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سروسز کو بند کر دیا گیا تھا۔ جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کئی ماہ سے بند ہے، جس پر حکومت اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے والے صارفین پر پاکستان مخالف سرگرمیوں، افواج پاکستان اور اس کے سربراہ کے حوالے سے ہرزہ سرائی کیے جانے کا الزام لگایا جاتا ہے، پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کو ملک میں انتشار، فساد فی العارض اور ڈیجیٹل دہشتگردی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا میں منفی پراپیگنڈا کرنے والوں کو ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروپس کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آرمی چیف بھی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے پاک فوج اور عوام میں دوری پیدا کرنے کا ذمہ دار کہہ چکے ہیں۔ پاک فوج کی جا نب سے حکومت کو سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کا بھی بار بار کہا گیا ہے۔
حال ہی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی متنازع مواد کو کمپنی کی جانب سے متعلقہ ایجنسی یا افسر کو مواد فراہم کرنے کے پابند بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو لائسنس لینا بھی لازمی ہو گا، جبکہ مواد کو محفوظ بنانا، پرائیویسی اور مقامی قوانین کی پابندی بھی لازم ہوگی، پی ٹی اے کے مطابق یہ اقدامات پاکستان میں گریٹ فائر کے نظام میں معاون ثابت ہوں گی۔ حکومت کی جانب سے فری لانسنگ کے لیے استعمال ہونے والے سوشل میڈیا میڈیا پلیٹ فارم فائیور کی بندش سے متعلق خبروں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اسے ہیجان پھیلانے کی کوشش کہا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش اور انٹرنیٹ کی سستی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا ہے، ان کے مطابق ایسے اقدامات سے پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر پابندیوں میں مزید اضافہ ہو گا، پیکا ایکٹ اور سائبر قوانین کے تحت پہلے بہت سی پابندیاں عائد ہیں جن میں سے کئی پر عدالتوں سے رابط کیا جا چکا ہے۔ جبکہ انٹر نیٹ بندش یا اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے سے ای کامرس سے وابستہ لاکھوں افراد اور تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، انٹرنیٹ کی بندش اور سستی روی سے پاکستان کی اقتصادی ترقی پٹڑی سے اتار رہی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے جبکہ فری لانسرز مکمل طور پر پس چکے ہیں۔ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ رکاوٹیں محض تکالیف نہیں صنعتی ترقی پر براہ راست حملہ ہیں، ان رکاوٹوں سے معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تباہ کن اثرات آئیں گے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کی ابتر صورتحال دیکھ کر افسوس کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف ملکی قوانین کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہی عوامی سطح پر رائے عامہ بھی بنانا ضروری ہے، حکومت اور عسکری اداروں کو بھی سمجھنا ہو گا کہ سوشل میڈیا کا استعمال پاکستانی کی ڈوبتی معیشت کے لیے کتنی ضروری ہے۔ ہمیں سب سے پہلے عوام کو یہ آگاہی دینی ہے ہر کسی کو غدار یا ریاست مخالف کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی ہے۔ عوامی رائے عامہ کو بنانے کے لئے سیاستدانوں، عدلیہ اور خاص کر فوج کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
شہریوں کو یقین دلانا ہو گا کہ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی، سوشل میڈیا کی آڑ میں ہر کسی کو ڈیجیٹل دہشتگرد نہیں کہا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق تو ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کو دہشتگرد قرار دینا ہے نامناسب ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ پھر آپ اس چیز کو انسانوں کا قتل عام کرنے والی درندہ، وحشی گروہوں سے جوڑ دیں۔ تمام حلقوں سے یہی درخواست ہے کہ پاکستان کو قید خانہ نہ بنائیں، ساٹھ فیصد نوجوان رکھنے والے پاکستان کا سوچیں، ان میں اشتعال کی بجائے تعلیم، روزگار اور سائنس و ٹیکنالوجی عام کریں۔ حالیہ دنیا کی تاریخ نوجوانوں سے متعلق بہت حیرت انگیز ثابت ہو رہی ہیں۔ لہذا ہمیں بھی احتیاط کا دامن سنبھالے رکھنا چاہیے۔



جناب اتنے کمزور محقق اور لکھاری مت بنیں۔
نہ اپ کو فائروال کی ایف کا علم ہے اور نہ دوسری باتوں کا۔ آپ کی سیاسی لوگوں سے عقیدت اپنی جگہ۔
آپ نے لکھا
آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کو عام انتخابات کے روز بھی ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سروسز کو بند کر دیا گیا تھا۔
اس تاریخ کو انٹرنیٹ بند نہیں ہوا تھا بلکہ موبائل سروسز بند تھیں جس میں انٹرنیٹ بھی شامل ہے۔ پی ٹی سی ایل اور دوسرے فائبر آپٹک یا تار کے ذریعے سے انٹرنیٹ اس تاریخ کو دھڑا دھڑ چل رہے تھے۔
یورپ کے علاوہ دوسرے ممالک بالخصوص اسلامی ممالک میں کیا کچھ ہورہا ہے اس کے مقابلے میں ہم اتنے برے بھی نہیں ہیں۔ ہمارا مسئلہ نکھٹو اور فارغ پروفیشنلز ہیں جو سرکاری عہدوں پر براجمان تو ہوجاتے ہیں لیکن جنہیں کام کرنا نہیں آتا۔
واضح رہے فائر وال پہلے بھی زیراستعمال تھی اسی لئے مخرب اخلاق ویب سائٹس خاص طور پر پاکستان میں بلاک تھیں۔