!تالیاں
گزشتہ روز پوری قوم نے یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا۔ اُن سرکاری عمارتوں کو بھی برقی قمقموں سے آراستہ کیا گیا جہاں سائل کو دھتکارنے کا قومی فریضہ انجام دیا جاتا ہے۔ جہاں فائل ایک میز سے دوسری میز تک سفارش اور رشوت کے کاندھوں پر سوار ہو کر جاتی ہے۔ جہاں سائل کی جوتیاں چٹخ جاتی ہیں مگر جائز کام کی تکمیل میں ایک کلرک کی انا راستے روکے کھڑی رہتی ہے۔ جہاں موسمی اثرات سے محفوظ کمرے میں کوئی گزیٹڈ افسر اپنی پوری رعونت کے ساتھ براجمان ہو کر ہاتھوں میں عرضی تھامے سائل کو حقارت سے دیکھتا ہے۔ اُن سر کاری عمارتوں کو بھی یوم آزادی کی خوشی میں برقی قمقموں سے آراستہ کیا گیا۔ تالیاں!
گزشتہ روز قوم نے یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا۔ اُن وزیروں، مشیروں، سفیروں نے بھی اخباری بیانات میں وطن کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا عزم کیا جن پر کروڑوں روپوں کی کرپشن کے الزامات ہیں، جو دوہری شہریت رکھتے ہیں، جن کے پاس ہزاروں مربع اراضی ہے، سینکڑوں کنالوں پر محیط جن کے محل ہیں، قارون کا خزانہ رکھنے کے باوجود جنھوں نے اِس وطن کے لیے کوئی پانچ مرلے کا ہسپتال تک نہیں بنایا۔ اُن وزیروں، مشیروں، سفیروں نے بھی وطن کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا عزم کیا ہے۔ تالیاں!
گزشتہ روز قوم نے یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا۔ یوم آزادی کے حوالے سے منعقد تقریبات کے اختتام پر ہزاروں لوگوں کی موجود گی میں کیک کاٹے گئے۔ اِن ہزاروں لوگوں میں کچھ ایسے بھی تھے جن کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔ جو صاف پانی پینے سے محروم ہیں۔ جن کی گھروں میں نہ بتی ہے نہ دیا ہے۔ جن کے آنگنوں میں بھوک اور اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ہے ایسے افراد کی موجودگی میں یوم آزادی کا کیک کاٹا گیا۔ تالیاں!
گزشتہ روز قوم نے یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا۔ اُن اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی یوم آزادی کی حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ جہاں کا کم و بیش ہر طالب علم ملک کے بوسیدہ تعلیمی نصاب سے دل برداشتہ ہے، جہاں کے بیشتر طالب علم تکمیل تعلیم کے بعد گوروں کے دیس میں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں، جہاں کا ہر طالب علم فیسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا، جہاں کا ہر طالب علم تعلیمی اداروں کی ”غریب کش“ پالیسیوں سے نالاں ہے۔ اس کے باوجود اُن تعلیمی اداروں میں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا گیا۔ تالیاں!
گزشتہ روز قوم نے یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا۔ اقبال کے جن شاہینوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ جو ملک کے معمار ہیں۔ جنھوں نے ملک پر آنچ نہیں آنے دینی، ان نوجوانوں نے یوم آزادی کی خوشی میں بیچ چوراہوں پر باجے بجائے، راہ چلتی خواتین پر آوازے کسے، ون ویلنگ کی، سڑکوں پر غل غپاڑہ کیا، انڈین فلمی گیتوں پر رقص کیا، موٹر سائیکل کے سلنسر اتار کر فضائی آلودگی کو چار چاند لگائے۔ تالیاں!
گزشتہ روز قوم نے یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا۔ اس گوالے نے بھی پاکستان زندہ بادہ کا نعرہ لگایا جو روز دودھ میں پانی ملاتا ہے۔ اس مرچ فروش نے بھی اپنے سینے پر پاکستانی پرچم سجایا جو مرچوں میں ملاوٹ کرتا ہے۔ اس تاجر نے بھی پاکستان کے لیے تا قیامت قائم رہنے کی دعا کی جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔ اس سرکاری ڈاکٹر نے بھی ”جیوے جیوے پاکستان“ کہا جو مریضوں سے بے اعتنائی برتتا ہے۔ تالیاں!


