ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
ہمسایہ ملک ہندوستان کہ جن کی ثقافت، آب و ہوا، اور مزاج ہم سے حد درجہ مماثلت رکھتا ہے، میں چند دن قبل ایک واقعہ ہوتا ہے، جس کے بعد مقامی سطح پہ احتجاج شروع ہوا جو بہت جلد عالمی لیول کا سکینڈل بن گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ریاست مغربی بنگال میں ایک ٹرینی ڈاکٹر ممیتا کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد بدترین طریقے سے ان کی جان لے لی گئی، کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر ایک لمبی ڈیوٹی بھگتانے کے بعد وہیں ہاسپٹل میں سیمینار روم میں آرام کے لیے لیٹ گئی، جس کے بعد متعدد افراد کی جانب سے ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر کی مسخ شدہ لاش وصول کرنے کے لیے ڈاکٹر ممیتا کے باپ کو تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ جب لاش وصول ہوئی تو کیفیت یہ تھی کہ پیلوس کی مضبوط ترین ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور دونوں ٹانگیں اک دوسرے کی مخالف سمت میں لڑھک رہی تھیں گویا ڈاکٹر ممیتا انسان نہ ہو بلکہ پلاسٹک کی کوئی گڑیا ہو جس کے اعضاء اپنی مرضی سے توڑ مروڑ دیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ممیتا کا گلا اس انداز میں گھونٹا ہوا تھا کہ لہو منہ سے بہہ رہا تھا۔ اس قدر سفاکیت اور وحشت جس پہ بات کرتے ہوئے انسان کانپ جائے لیکن یہاں کچھ لوگ ہیں جو اس قسم کے خوفناک واقعے سے بھی جنسی لطف کشید کر رہے ہیں۔
آپ ذرا تصور کیجیے کہ خبروں کے مطابق ڈاکٹر ممیتا کا گلا گھونٹ کے مارا گیا ہے اور آنکھوں کو عینک کے شیشوں سے چھلنی کیا گیا ہے، جنسی طور پہ جو تشدد ہوا بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ لکھتے ہوئے مناسب الفاظ نہیں مل رہے جو اس بربریت کا اظہار بھی کریں اور اک خاتون کے قلم کی حیا بھی برقرار رکھیں۔
پڑوسی ملک میں احتجاج ہو رہے ہیں، دو ایک روز میں یہ کیس عالمی سطح پہ کوریج حاصل کر لے گا۔ کانفرنسز ہوں گی، خواتین کے حقوق کے لیے تقاریر اور مارچ کیے جائیں گے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی چند روز کے عوامی جذباتی دباؤ کو برداشت کر کے اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشغول ہو جائیں گے اور یہ کیس بھی حسبِ سابق داخلِ دفتر ہو جائے گا۔
بہرکیف مجھے نہ تو ڈاکٹر ممیتا کے کردار کی تفتیش کرنی ہے کہ وہ کوئی بوائے فرینڈ رکھتی تھی یا نہیں، یا وہ کس قسم کا لباس پہنتی تھی۔ نہ ہی جاسوسی ناول کا کردار بن کے مجرم پکڑنے ہیں اور نہ ہی کیس کے متعلق قانونی موشگافیاں کر کے سرکار سے مطالبات کرنے ہیں۔
میرا مدعا وہ ذہنیت ہے جو بھارت اور پاکستان کے مرد حضرات کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ایک چُور چُور ہڈیوں اور لہو لہو بدن والی مردہ عورت کے متعلق بھی ہوس بھری گفتگو سے سوشل میڈیا کو متعفن زدہ کر دیں۔ میرا موضوع وہ پوٹینشل ریپسٹ ہیں جو ہمارے گھروں کے اندر پل رہے ہیں جن کو بس موقع ملنے کی دیر ہے۔ مجھے ان جنسی درندوں کے متعلق بات کرنی ہے جن کے نزدیک جنسی زیادتی ایک بھرپور فینٹسی ہے اور جو اپنے ازدواجی تعلقات میں بھی اپنی بیوی پہ جنسی تشدد کر کے مردانگی کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔
مجھے بات کرنی ہے ان مردوں سے جو ہمیشہ وکٹم بلیمنگ کرتے ہیں، میں ان سے کہنا چاہتی ہوں ہمیشہ عورت کا لباس ہی اس قسم کے حادثات کا باعث نہیں بنتا، میں کہنا چاہتی ہوں کہ باہر نکلنے والی ہر عورت سیکس ورکر نہیں ہوتی، میں کہنا چاہتی ہوں کہ اپنے اندر کے گھٹیا پن اور جنسی گھٹن کی ذمہ داری خود قبول کیجیے۔
ایسا حادثہ انڈیا میں ہو یا پاکستان میں، معذرت کے ساتھ مردوں کی اکثریت اس قسم کی گفتگو کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ میں بالکل یہ نہیں کہوں گی کہ شرم کرو تمہارے اپنے گھر میں بھی مائیں بہنیں ہیں، کیونکہ مجھے عورت ذات کے لیے عزت اور حقوق چاہئیں رشتوں کے لیے نہیں۔
سوشل میڈیا یا نجی محفلوں میں خواتین کے متعلق اس قسم کی بیہودہ ترین گفتگو کرنے والوں کے گھر کی خواتین بھی یقیناً ان کی ہوس سے محفوظ نہیں ہوں گی۔
مجھے کہنے دیجئے کہ ہم نے معاشرتی و مذہبی اقدار کا زیادہ بوجھ خواتین پہ ڈال رکھا ہے۔ عزت و غیرت کا معیار بننے والی عورت خود کس معاشرتی استحصال کا شکار ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے یہ خاندانی نظام اور معاشرے کا وجود فقط خواتین کی وجہ سے برقرار ہے۔ ورنہ آپ تو وہ وحشی تھے کہ جنہوں نے فقط قتل و غارت ہی سیکھی ہے۔ وہ عورت کہ جس نے تمہیں پتھر کے زمانے سے تہذیب کی دنیا میں لا بسایا، جس نے کھیتی باڑی کا آغاز کیا، جس نے بستیاں بسائیں اور آدمیت کو انسانیت کا روپ بخشا، تم نے اسی عورت کو دوسرے درجے کا شہری بنا ڈالا، اسی عورت کو ناقص العقل اور عضو معطل بنا ڈالا جس کو خالق اکبر نے تخلیق کی عظیم ذمہ داری سونپ رکھی ہے، یاد رکھو خالق کبھی ناقص العقل نہیں ہوتا۔
وہ وحشت اور درندگی جو تم مردوں نے پتھر کے زمانے میں حیوانوں کے ساتھ رہ کے سیکھی تھی اب وہی حیوانیت تم عورتوں کی جنم کردہ تہذیب میں جاری رکھو گے؟
کیا صدیوں کے سفر کے بعد بھی تم سب وحشی اجڈ اور بدتمیز ہی رہے ہو؟ مردار خور حیوانو! تم خدا کی افضل مخلوق کیسے ہو سکتے ہو جو آج تک ”کھول دو “ والی نفسیات سے باہر نہیں نکل سکے۔ تم سب بانو قدسیہ کے وہ راجا گدھ ہو جو موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں جس سے نہ ان کی نیت بھرتی ہے نہ پیٹ اور آنکھیں۔ تم لوگوں کو کس نے کہہ دیا کہ مردانگی کوئی جسمانی وصف ہے؟ اگر وہی مردانگی ہے جس کا مظاہرہ تم لوگ ڈاکٹر ممیتا کی تصاویر لگا کے گھٹیا گفتگو سے کر رہے ہو تو میں خالق اکبر سے دعا گو ہوں میرے خطے کی عورت اب کوئی مرد پیدا نہ کرے۔ خدا تم لوگوں کو عذاب کی گئی اقوام کی مانند صفحہِ ہستی سے مٹا ڈالے، اور آئندہ اس زمین پہ تم جیسی کوئی مخلوق پیدا نہ ہو۔
صرف ایک ڈاکٹر ممیتا نہیں بلکہ ہر عورت اپنے ذہنی سکون اور جسمانی سلامتی کے رسک پہ گھر سے باہر قدم رکھتی ہے، گھر سے باہر کی کیا مثال دوں کہ گھر کے اندر چھوٹی بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ الگنی پہ لٹکے کپڑوں سے عورت تراشنے والو تم لوگ جس آیت، حدیث کا مرضی سہارا لو لیکن اس کردار اور ذہنیت کے ساتھ اب کوئی تمہیں مجازی سمجھ کے ہی سہی خدا نہیں کہنے والا۔
ڈاکٹر ممیتا کی pelvis نہیں ٹوٹی بلکہ مشرقیت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟


