انسانی حقوق سے ریاست تک کا سفر


پاکستان ایک آزاد وطن ہے اور اس کا اپنا آئین ہے۔ آئین پاکستان شہری آزادی کو یقینی بناتا ہے جس کا مقصد اپنے تمام شہریوں کو پرامن اور پرسکون زندگی فراہم کرنا ہے جس میں اقلیت اور اکثریت کا تصور نہیں بلکہ ایک شہری کی تعریف کی گئی ہے وہ شہری جو پاکستان کا باشندہ ہو رنگ و نسل اور ذات و مذہب کی تفریق کے بغیر۔ پاکستان میں بنیادی حقوق انفرادی حقوق پر محیط ہے جو بہت سی لبرل جمہوریتوں میں بھی بنیادی سمجھے جاتے ہیں ان حقوق میں ضروری اصول شامل ہیں قانون کی نظر میں تمام شہری برابر، آزادی رائے، انجمن سازی، پر امن اجتماع کی آزادی اور مذہب پر عمل کرنے کی آزادی شامل ہیں ان حقوق کی خلاف ورزیاں عدلیہ کے فیصلے سے مشروط قانون کی طرف سے بیان کردہ سزاؤں کا باعث بن سکتی ہیں ان تمام بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت میں عدلیہ کو ان بنیادی حقوق کے نفاذ اور تحفظ کے لیے متعلقہ آرٹیکلز کے تحت رٹ جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے یہ حقوق پاکستان کے تمام شہریوں پر بین الاقوامی سطح پر بھی لاگو ہوتے ہیں جس میں ان کی نسل جائے پیدائش مذہب ذات یا نسل سے ہٹ کر بات کی جاتی ہے اقوام متحدہ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1945 میں قائم ہوا جبکہ پاکستان 1947 میں آزاد ہونے کے بعد ہی اس کا ممبر بن گیا تھا انسانی حقوق اقوام متحدہ کا ایک ایسا ادارہ ہے جو 1948 میں قائم ہوا تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر انسانی حقوق کا تحفظ اور اس کا فروغ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے آج پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں جن کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان نے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہوئے پیرس اصولوں کی رو سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کر رکھا ہے جو پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کام کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے چند ایک تدابیر پر دور حاضرہ میں عمل کرنے کی سخت ضرورت ہے جن پر عمل کر کے ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روک سکتے ہیں۔

1 انسانی حقوق کا تحفظ۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی حفاظت کریں، بشمول زندگی کا حق، آزادی، شخص کی حفاظت، تشدد سے آزادی، اور قانون کے سامنے مساوات، اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ۔

2 انسانی حقوق کا فروغ۔ حکومتیں سماجی انصاف، معاشی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے والی پالیسیوں اور پروگراموں کو نافذ کر کے انسانی حقوق کو فروغ دے سکتی ہیں۔

3 انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے احتساب۔ حکومتوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بنا کسی خوف اور دباؤ کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

4 جمہوری نظام۔ جمہوری نظام انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں، کیونکہ یہ شہریوں کو سیاسی عمل میں حصہ لینے اور اپنے رہنماؤں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔

5 آمرانہ نظام۔ آمرانہ نظام اکثر انسانی حقوق کے تحفظ پر حکمران اشرافیہ کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں جس سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔

6 اقلیتوں کا تحفظ۔ ہمیں ریاست میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہ آزادی سے اپنے مذہب کی پیروی اور بات کر سکیں ریاست میں اقلیتوں کے لیے پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک ادارہ بنایا جائے جو ان کی مشکلات کو آئین اور قانون کے مطابق حل کرنے کی قابلیت رکھتا ہو اور اس کے پاس وہ تمام قانونی اور آئینی اختیارات ہوں جیسا کہ دوسرے اداروں کے پاس ہوتے ہیں۔

7 تعلیمی نصاب۔ ریاست کو چاہیے کہ تعلیمی نصاب میں اقلیتوں کے نصاب کو بھی شامل کیا جائے اور تمام تعلیمی نصاب میں محبت امن اور ہمدردی کے درس جیسے مضامین شامل کیے جائیں اور ریاست پاکستان کے لیے اقلیت سے تعلق رکھنے والے ہیروز کے بھی مضمون شامل کیے جائیں۔

8 پارٹی پلیٹ فارمز میں انسانی حقوق۔ سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کو اپنے پارٹی پلیٹ فارمز میں شامل کر سکتی ہیں تاکہ انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

9 انسانی حقوق کی وکالت۔ سیاسی جماعتیں عوامی مہمات، پالیسی اقدامات اور سیاسی متحرک کاری کے ذریعے انسانی حقوق کی وکالت کر سکتی ہیں۔

10 انسانی حقوق کی قیادت۔ سیاسی رہنما قیادت فراہم کر کے اور دوسروں کو کارروائی کرنے کی ترغیب دے کر انسانی حقوق کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

11 طاقت کا عدم توازن۔ طاقت کا عدم توازن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اقتدار میں رہنے والے اپنے اختیارات کا استعمال دوسروں کے استحصال یا ظلم کے لیے کر سکتے ہیں۔

12 بدعنوانی۔ بدعنوانی استثنا کا کلچر بنا کر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قابل بنا کر انسانی حقوق کو نقصان پہنچا سکتی ہے جس کے لیے اہم اقدامات کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

13 شفافیت کا فقدان۔ حکومتی فیصلہ سازی میں شفافیت کا فقدان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سبب بن سکتا ہے جس سے بدسلوکی کا پتہ نہ چل سکے۔ اس طرح سے بھی دیکھا گیا ہے کہ انسانی حقوق اور سیاست آپس میں گہرے جڑے ہوئے ہیں اور ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کو فروغ دینے کے لیے دونوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ حکومتوں کو انسانی حقوق کے تحفظ، فروغ اور احتساب کو ترجیح دینی چاہیے جب کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز میں انسانی حقوق کو شامل کریں اور عوامی مہمات اور پالیسی اقدامات کے ذریعے ان کی وکالت کریں۔ سیاست میں انسانی حقوق کو درپیش چیلنجوں سے نمٹ کر ہم ایک بہتر منصفانہ نظام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں اور ملکی ترقی کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں تمام شہری قانون کی نظر میں برابر اور مساوی تحفظ کے حقدار ہیں جس میں اکثریت اور اقلیت سے ہٹ کر ایک شہری کی تعریف کی گئی ہے جس پر قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی 11 اگست 1947 کی تقریر میں فرمایا کہ آپ آزاد ہیں اپ کو اس ملک پاکستان میں اپنی اپنی عبادت گاہوں مسجدوں یا مندروں میں جانے کے لیے آپ کا مذہب کیا ہے ذات کیا ہے قوم کیا ہے اس کا حکومت کے معاملات میں کوئی تعلق نہیں۔ ہم ایک آزاد ریاست میں رہتے ہیں اور حقیقی آزادی وہی ہوتی ہے جس سے ہم ایک دوسرے کے دکھ بانٹتے ہیں نہ کہ کسی کو دکھ دیتے ہیں ہم سب کو مل کر رواداری محبت اور پیار کو قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS