خوشحال خان خٹک اور علامہ اقبال میں مشترک نکات


ہماری تاریخ کی دو یادگار شخصیات خوشحال خان خٹک اور علامہ محمد اقبال کے گہرے ورثے کی اہمیت پر موجودہ حالات کے تناظر میں گفتگو کرنا وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ درحقیقت ان دو بلند پایہ شخصیات کی ہمارے ثقافتی، فلسفیانہ اور سیاسی مناظر میں شراکت سے نہ صرف ان کے اپنے ادوار کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ اس دور میں بھی یہ دو عظیم شخصیات ڈنکے کی چوٹ پر ہمیں اپنی اہمیت کی گونج سنائی دیتے نظر آتے ہیں۔ خوشحال خان خٹک کی شہرت 17 ویں صدی کے محض ایک پشتون شاعر اور جنگ جو قائد کے طور پر ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ادبی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کا مقام اور مرتبہ پختون قوم کی وحدت اور سماجی انصاف کے لیے ان کی غیر متزلزل جدوجہد کے حوالے سے بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

پختونخوا کے بے آب و گیا اور سنگلاخ علاقے میں پیدا ہونے والے خوشحال خان خٹک کی شاعری اور نثر محض فنکارانہ کوششیں نہیں تھیں بلکہ وہ اپنے لوگوں کو با اختیار بنانے کے لئے ایک واضح وژن اور لائحہ عمل بھی رکھتے تھے۔ ان کے دور میں پشتونوں کو اندرونی اور بیرونی طور پر تقسیم در تقسیم اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔

خوشحال خان خٹک کی زندگی ظلم کے خلاف جدوجہد اور اپنے لوگوں میں اتحاد کی جستجو سے عبارت تھی۔ پشتو میں لکھی گئی ان کی تخلیقات میں ہمیں غیرت، خودداری، مزاحمت اور خود ارادیت کی جستجو کے موضوعات واضح اور گہرے طور پر پیوست نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری ایک آئینہ اور رہنما دونوں کے طور پر کام کرتی ہے، جو اپنے وقت کے سماجی و سیاسی چیلنجوں کی عکاسی کرتی ہے جبکہ ان کے انقلابی اشعار اجتماعی طاقت اور لچک کے لیے عمل کو مہمیز عطا کرتے ہیں۔

خوشحال خان خٹک کی تعلیمات اور فلسفہ نمایاں طور پرنہ صرف ہمارے عصری دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم در تقسیم، سماجی استحصال، تنازعات اور معاشرتی پسماندگی کے خلاف اتحاد، انصاف، جدوجہد اور پسماندہ برادریوں کو با اختیار بنانے کی وکالت بھی کرتے ہیں۔ ان کی آواز عالمی سطح پر جاری ظلم و نا انصافی کے خلاف ایک مربوط شناخت اور مزاحمت کے طور پر گونجتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تعلیم، سماجی اصلاح اور عزت نفس کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر ترقی اور مساوات کے لیے کوشاں رہنے والوں کے لیے آج بھی مشعل راہ ہے۔

خوشحال خان خٹک کے دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے علامہ محمد اقبال کی فلسفیانہ بلندیوں کی طرف بڑھتے ہوئے، ہمیں ایک ایسی ہمہ جہت اور نابغہ روزگار شخصیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی فکری اور روحانی وژن نے جدید جنوبی ایشیائی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ علامہ اقبال بیسویں صدی کی وہ انمول ہستی ہے جس کی سوچ نے برصغیر پاک و ہند کی ہزار سالہ تاریخ کو ایک نئے نقشے میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔ آپ بلا شبہ مصور پاکستان ہیں اور پاکستان کے روحانی باپ کہلائے جانے کے حق دار ہیں۔

ان کا فلسفہ خود داری اور خود مختاری برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں اور دیگر مظلوم اقوام کو با اختیار بنانے اور ان کے اندر سماجی و سیاسی بیداری کا عنوان نظر آتا ہے۔ روحانی اور فلسفیانہ بصیرت سے مالا مال ان کی شاعری نے افراد اور معاشروں کو چیلنج کیا کہ وہ اپنی حقیقت پہچانیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا ادراک کریں اور ان کے گرد لپٹی ہوئی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی پیہم اور منظم جدوجہد کریں۔ یہ علامہ اقبال کی اسی انقلابی سوچ کا نتیجہ تھا کہ آج ہم ایک آزاد اور خود مختار وطن عزیز پاکستان میں اپنا 77 واں یوم آزادی قومی جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔

در اصل اقبال کا نظریہ کسی ایک قوم یا نسل تک محدود نہیں تھا۔ بلکہ یہ خودی کے کٹھن راستوں پر چلتے ہوئے اجتماعی ترقی کو آگے بڑھانے کا ایک عالمگیر مطالبہ تھا۔ خودی یا خودداری کے ان کے خیالات نے افراد کو اپنی اندرونی طاقت اور مقصد کو فروغ دینے کی ترغیب دی، جب کہ سماجی و سیاسی دائرہ کار میں ان کے خیالات نے قومی شناخت اور ثقافتی نشاۃ ثانیہ کے لیے نہ صرف عملی تحریکوں کو منظم کیا بلکہ اس حوالے سے اپنے اشعار کے ذریعے راہنمائی کا گراں قدر فریضہ بھی سرانجام دیا۔

آج کی دنیا میں جب ایک جانب عالمی چیلنجز اکثر ناقابل تسخیر نظر آتے ہیں اور انفرادی خواہشات اقوام کی اجتماعی تنزل کی نشاندہی کرتے ہیں تو ایسے میں علامہ اقبال کا فلسفہ خودی و خود اختیاری تحریک اور رہنمائی دونوں اشکال میں کارفرما نظر آتا ہے۔ خود کو با اختیار بنانے اور تخلیقی توانائی پر اس کا اثر ہمیں واضح طور پر ایک مضبوط اور توانا آواز کے طور پر گونجتا ہوا سنائی دیتا ہے جس میں جدت، لچک اور مقصدیت کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا نظر آتا ہے۔ اسی طرح ان کا ایک متحرک اور ترقی پسند معاشرے کا وژن ہمیں جمود پر قابو پانے اور تعمیری تبدیلی کی راہ پر گامزن ہونے کا چیلنج اور حوصلہ دیتا ہے۔

خوشحال خان خٹک اور علامہ محمد اقبال کی فکر کے مشترکات پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں یہ واضح حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ ان دو عظم شخصیات کے افکار کی میراث محض ماضی کے آثار نہیں ہیں بلکہ ایک ایسا زندہ و تابندہ فلسفہ حیات ہیں جو نہ صرف ہمارے شاندار ماضی سے ہمارا رشتہ جوڑے رکھتے ہیں بلکہ یہ فلسفہ ہمیں ایک روشن اور تابناک مستقبل کی نوید بھی سنائی دیتا ہے۔ ان دونوں عظیم شخصیات کے فلسفہ ہائے حیات ہمیں اتحاد کی طاقت، خود کو با اختیار بنانے کی اہمیت اور انصاف کے مسلسل حصول کی یاد دلاتے ہیں۔

جب ہم اپنے عصری دور کی پیچیدہ مسائل پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی تعلیمات سے لازوال حکمت اور پائیدار الہام کی واضح اور وسیع راہنمائی ملتی ہے۔ حرف آخر یہ کہ آج جب ہم اپنا 77 واں یوم آزادی ایسے نازک دوراہے پر کھڑے ہو کر منا رہے ہیں جب ہمیں سامنے بظاہر اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے لہٰذا ہمیں اس موقعے من حیث القوم یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ان دو عظیم شخصیات کے اقدار کو اپناتے ہوئے نہ صرف ان کی لازوال فکری وراثت کا دل و جان سے احترام کریں گے بلکہ ایک ایسی دنیا بسانے کی کوشش بھی کریں گے جو اتحاد، انصاف اور خودی کے ان کے وژن کی عکاسی بھی کرتا ہو۔

Facebook Comments HS