سماجی آداب کا بلڈوز ہونا


میسنجر پھر واٹس ایپ اس کے بعد ٹک ٹاک اور آگے ٹویٹر پر میسجز کی بھرمار۔ اللہ کے بندو! اگر جواب نہیں مل رہا جو کہ لازمی بھی نہیں ہے تو سمجھ لیجیے کہ بندہ مصروف ہے اور یا موڈ ایسا ہے کہ ”عشق لڑانے“ کو دنیا کا فضول ترین کام سمجھ بیٹھا ہے جو کہ درحقیقت ہے بھی۔

بھائی صاحب، سماجی آداب سیکھنا اور سمجھنا لازمی ہے۔ ہر بندے کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں اور اپنی زندگی جسے وہ اپنے ہی انداز میں جینے کا آرزو مند ہوتا ہے۔ بندے کے موڈ کا اندازہ لگانا تو مشکل نہیں، انسان کی کیفیت ہر وقت ایک جیسی نہیں رہتی۔

دو بندے بیٹھے ہیں کوئی راز کی بات ہو رہی ہے تیسرا بندہ بغیر اجازت کے آ ٹپکا اور بیٹھا ہی رہا اب اس کا کیا کیا جائے، یا تو دونوں وہاں سے اٹھیں اور اس محترم کو بیٹھنے دیں اور یا سیدھا سیدھا اسے تشریف لے جانے کا کہا جائے۔

کوئی نماز پڑھ رہا ہے، مہمانوں کے ساتھ بیٹھا ہے، فیملی کے درمیان ہے، واش روم میں ہے اور یا طبیعت بوجھل ہے اور اوپر سے کوئی کال پہ کال کرے تو اپنے ہی موبائل کو زمین پر پٹخنے کے علاوہ کیا چارہ رہ جاتا ہے؟

کسی بھائی کو لفٹ دے کر گاڑی میں بٹھایا تو یہ اللہ کا بندہ ایک سیکنڈ کے لئے خاموش بیٹھنا اپنے سٹیٹس کے خلاف سمجھ لیتا ہے۔ ایک کے بعد ایک کال اور چیخ چیخ کے باتیں کرنا اور اس سے بھی آگے بڑھ کر گالیاں تک بکنا، اب بندہ کب تک صبر کر سکتا ہے یا آئندہ کے لئے کسی ضرورت مند کو اٹھانے کی غلطی کر سکتا ہے؟ محفل میں مختلف مزاج اور مختلف الخیال احباب بیٹھے ہیں کہ ایک سکالر بھائی دنیا جہان کے موضوعات کو ڈسکس کرنا اپنے علم کا کمال سمجھ لیا کرتا ہے اور آگے سے سیاسی بکواسیات بکنا شروع ہو جائے تو بندہ جائے تو جائے کہاں۔

احباب کی بیٹھک ہے اور کوئی بول رہا تو ایسے میں کوئی ساتھی موبائل کی گھنٹی بجتے ہی کال ریسیو کرنا فرض سمجھے اور پھر زور زور سے بولتا جائے اور اسی طرح عین بحث کے دوران دوسرے کی گفتگو کاٹ کر اپنی شیخی بگھارنے میں لگ جائے تو بندہ اس محفل کو خیر باد کہہ دے یا اس نابغے کو دس بیس سنا ہی ڈالے۔ بندہ اپنے گھر یا آفس سے نکلتا ہے اور آگے شیڈول کے مطابق یا ایمرجنسی میں کہیں نکلنا ہے کہ عین وقت پر کوئی ”خود غرض صاحب“ اسے پکڑ لیتا ہے اور ایک لمبی چوڑی داستان شروع کر دیتا ہے بلکہ ایک موضوع کے اندر دس پندرہ اور موضوعات کا احاطہ کرنا اپنا کمال تصور کرتا ہے اور آپ بار بار گھڑی کو دیکھنا شروع کر دیں لیکن بندہ نامدار کو کوئی خیال ہی نہ آئے تو کیا کیا جائے، شربت، چائے کے بعد کھانے کا آرڈر دے کر ”تا حیات“ ان کے سامنے تشریف رکھی جائے؟

اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کی ”سخاوت“ نے جوش مارا اور غلطی سے تین چار دوستوں کو مدعو کیا تو ان میں سے کسی ایک کی ”وسعت قلبی“ نے چھلانگ مار کر چار پانچ ”ٹوپک ماروں“ کو بھی ساتھ نازل فرمایا۔ ایسے میں چار بندوں کے لیے تیار چیز میں آٹھ دس حضرات کی ضیافت کرنا اپنی جگہ ایک مشکل کام ہوتا ہے لیکن اصل چیز تو پورے ماحول کا مکدر ہونا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ چند ساتھیوں کے درمیان جو بے تکلفی ہوتی ہے وہ ساری دنیا کے ساتھ تھوڑی ہوتی ہے۔

یہ اور اس طرح کی کئی چیزیں ہیں جس کا ہم روز مرہ کی زندگی میں بالکل بھی خیال نہیں رکھتے۔ معاشرہ جب ہجوم کی صورت ہوتا ہے تو وہاں اقدار اور آداب ناپید ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اچھے عادات، نرم مزاج، خوبصورت رویہ اور عمدہ طرز عمل نہ صرف تعلقات اور ماحول کو خوبصورت بنائے رکھتا ہے بلکہ انسان کی اپنی شخصیت میں بھی نکھار لانے کا سبب بنتا ہے۔ بھائی صاحب، آداب زندگی کا خیال رکھ کے اپنی اور دوسروں کی زندگی آسان بنا دیجئے گا۔

Facebook Comments HS