سوات کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں؟
وادی سوات کی خوبصورتی پر مایوسی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ہزاروں سال سے بہتے دریائے سوات پر پیڈو کی سرپرستی میں تین ہائیڈرو پاور پروجیکٹس بن رہے ہیں۔ سوات کے عوام پریشان ہیں۔ لوگوں نے اس کی بھر پور مذمت کی ہے۔ تاہم تا حال حکومت اور آئی پی پی مقامی باشندوں کے تحفظات کو خاطر میں نہیں لائے ہیں۔
ان منصوبوں کی مد میں مدین سے لے کر کالام تک دریائے سوات کا پانی سرنگوں سے گزارا جائے گا۔ پہلی سرنگ کالام کے مقام پر بنائی جائے گی جہاں سے دریا کا پانی اس سرنگ سے ہوتے ہوئے آسریت تک آئے گا۔ آسریت سے دوبارہ پانی سرنگ میں ڈال کر کیدام کے مقام پر نکالا جائے گا جہاں پاور ہاؤس بنا ہو گا۔ کیدام مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے پانی دوبارہ سرنگ سے گزار کر مدین کے علاقے لاگے کے نزدیک نکالا جائے گا جہاں پاور ہاؤس بنا ہو گا۔ گویا پچاس کلومیٹر تک دریائے سوات کا پانی سرنگوں سے گزرے گا۔
اس بیچ دریا کا پانی کم پڑنے پر کئی فیشریز، ہوٹل، پارک اور دوسرے سیاحتی پوائنٹس سیاحوں کے لئے کشش کھو بیٹھیں گے۔ کئی نئے ہوٹلز اور دوسری سیاحتی جگہوں پر تعمیراتی کام ہو رہا ہے۔ جب دریا میں پانی ہی نہیں رہے گا تو ان تعمیرات کا کیا فائدہ ہو گا۔ لوگوں کے اربوں کے کاروبار ٹھپ ہو جائیں گے۔ پاکستان کے قومی خزانے میں سیاحت کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ جاتا ہے۔ حکومت بجائے سیاحت کو فروغ دینے، ماحولیات کا تحفظ کرنے اور مقامی آبادی میں ترقی لانے کے ایسے منصوبے لا رہی ہے جو مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ ماحول اور سیاحت کے لیے خطرناک ہیں۔
مقامی آبادی کا معاشی انحصار زراعت اور سیاحت پر ہے۔ دریائے سوات سے تقریباً 160,000 ایکڑ زرعی زمین کو پانی ملتا ہے۔ یہ ٹراؤٹ مچھلیوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ دریا کا پانی سرنگوں سے گزارنے سے آبی زندگی ختم ہو جائے گی۔ اس دریا کے کناروں پر بنے ہوٹلوں میں کوئی نہیں رہے گا۔ کیونکہ دریا میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے گرمی بڑھ جائے گی۔ موجیں مارتا ہوا دریا بو اور گندگی کی ایک چھوٹی سی نالی میں بدل جائے گا۔ موسم سرما میں پانی کم ہوتا ہے جسے سرنگوں سے گزارنے سے دریا بالکل خشک پڑ جائے گا۔
اس طرح ان منصوبوں سے مقامی ماحول، سیاحت، زراعت اور معیشت پر دور رس اثرات ہوں گے۔ مقامی آبادی کا روزگار زراعت اور ان ہوٹلوں سے جڑا ہے۔ اس لئے کئی لوگ اپنا آبائی وطن چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جو دوبارہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ متعلقہ جگہوں پر توروالی، گجر اور گاوری آباد ہیں جو پہلے ہی سے تعداد میں بہت کم ہیں۔ پوری دنیا میں صرف ڈیڑھ لاکھ تک توروالی لوگ ہیں جس میں بارہ ہزار پہلے ہی روزگار کی تلاش میں اپنی آبائی زبان، ثقافت اور زمین کو چھوڑ گئے ہیں۔ ان منصوبوں سے مزید توروالی آبادی پر اثر پڑے گا۔
ان منصوبوں پر رپورٹ میں مقامی آبادی کے تحفظات کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ جبکہ کیدام مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جس کا سرکاری نام مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہے اس پر کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ مقامی لوگ اس پر بہت نالاں ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہیں کہ ان منصوبوں سے دریا اور وادی کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت اور زراعت پر منفی اثر پڑے گا اس لیے وہ ان منصوبوں کو سرے سے رد کرتے ہیں۔
کئی لوگوں کا خیال ہیں کہ ایسے منصوبے قوم و ملک کے مفاد میں ہوتے ہیں اس لئے ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے تاہم پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی کی ڈیمانڈ 25,000 سے 26,000 میگاواٹ کے بیچ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ملک میں 41,500 میگاواٹ تک مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ حکومت کو چاہیے پہلے سے بنائے گئے بجلی کے ذرائع پر کام کیا جائے، بجلی چوری، بجلی تقسیم کرنے کے نظام اور پرانی تاروں پر کام کر کے بہتر بنایا جائے نہ کہ سیاحت، معیشت اور زراعت برباد کرنے پر وقت صرف کیا جائے۔
بحرین میں ایک کالج نہیں ہے۔ لڑکیوں کا سکول نہیں ہے۔ متعلقہ علاقے میں 20 کلومیٹر تک لڑکیوں کا مڈل سکول تک نہیں۔ 2010 میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر اب تک بحال نہیں ہو پایا ہے۔ 2020 اور 2021 کے سیلابوں نے مزید تباہی مچائی ہے۔ سڑکیں، پل اور راستے خستہ حال پڑے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے ہی لانے ہیں تو سڑکوں راستوں کو ٹھیک کیا جائے۔ سکول اور کالج بنائے جائیں۔ صحت کا نظام بہتر کیا جائے، تاہم ایسے کاموں کا حکومت کا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں۔
مقامی لوگوں نے اس پر ایک تحریک چلائی ہے جس کا نام "دریا بچاؤ تحریک”ہے۔ مقامی آبادیاں ان منصوبوں کو رد کرتی ہیں لہذا ریاست اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ مقامی لوگوں کے تحفظات کو بھی دیکھے اور مقامی آبادی کی رائے کو اہمیت دے۔


