انصاف کی منڈی میں دس سالہ بچی کی بے آبرو لاش


 

غربت جہالت کی ماں ہے، پسماندہ علاقے اکثر بیک وقت مفلسی اور جہالت کا شکار ہوتے ہیں، بھوک اور محرومی انہیں عقائد کی سنہری زنجیر پہنا دیتی ہے۔ ضعیف الاعتقادی انہیں ناخداؤں کو سجدہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، فیملی پلاننگ پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے لئے گناہ کبیرہ ہے، وہ رزق کا ذمہ رزاق پہ چھوڑ دیتے ہیں اور پھر کثرت اولاد کو بھوک سے بلکتے بھی دیکھتے ہیں۔

اکثر دیکھا گیا ہے گاؤں دیہات کے وہ لوگ جو اپنے معصوم بچوں کو دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی نہیں کھلا سکتے وہ اپنے بچوں کو مدارس میں بھرتی کروا دیتے ہیں، وہ پر امید ہوتے ہیں کہ مدارس میں ان کے بچوں کو دو وقت کی روٹی ملے گی، اور دینی تعلیم ان کی عاقبت سنوار دے گی۔ کچھ علاقوں میں غریب لوگ اپنے معصوم بچے پیروں کی حویلیوں میں خدمت کے لئے دے دیتے ہیں، ان کو امید ہوتی ہے کہ ان کے بچوں کو اب بھوک نہیں ستائے گی مرشد کی حویلی میں بچوں کا پیٹ بھرا رہے گا اور مرشد کی خدمت کے عیوض روز محشر مرشد ان کا ضامن ہو گا جو ہاتھ پکڑ کر ان کو جنت میں لے جائے گا۔

15 اگست 2023 کو ایک ضرورتوں سے پر آرائش و پر آسائش کمرے کی وڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ یہ ایک لگژری بیڈ روم تھا جس میں دو بیڈ پڑے تھے ایک بڑا ماسٹر بیڈ ایک اس سے قدرے چھوٹا بیڈ تھا، چھوٹے بیڈ پہ کوئی شخص کمبل اوڑھے سو رہا تھا، اسی بیڈ کی پائنتی کی طرف تھوڑے فاصلے پر ڈارک گرے کلر کے بڑے چوکور ٹائل کے فرش پر ایک دس سالہ نیم برہنہ معصوم بچی کسی درد کی شدت سے تڑپ رہی تھی۔

اس اذیت ناک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچی پورے جسم کی طاقت و ہمت جمع کر کے اٹھتی ہے کچھ پل بیٹھتی ہے پھر گر جاتی ہے، وہ پھر اٹھ کر بیٹھتی ہے مگر بیٹھ نہیں پاتی ہچکولے کھا کر دھڑام سے فرش پر گر پڑتی ہے، بچی شدید درد کی کیفیت میں پھر اٹھنے کی کوشش کرتی ہے مگر اٹھ نہیں پاتی لگتا ہے اب شدت درد نے اس کی ہمت کو زائل کر دیا ہے، وہ لگ بھگ ایک ڈیڑھ منٹ تک اذیت ناک انداز میں فرش پر تڑپتے دم توڑ دیتی ہے بیڈ پہ چادر اوڑھے سویا شخص بدستور سویا رہتا ہے، بچی کی تڑپ آہ و بکا اس کو جگا نہیں سکی، وہ بچی جس طرح تڑپ کر دم دیتی ہے وہ اذیت و کرب ناقابل بیاں ہے۔

کچھ دیر کے بعد بیڈروم کا دروازہ کھلتا ہے ایک عورت اور ایک تھوڑی دیر پہلے تڑپ تڑپ کر مرنے والی بچی کی ہم عمر بچی روم میں داخل ہوتے ہیں، لڑکی کے ہاتھ میں ٹرے ہے جس پہ چائے یا کافی کا مگ رکھا ہے، ملازمہ سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھ کر مردہ بچی کے برابر میں بیٹھتی ہے اسے ٹٹولتی ہے، کھڑی عورت سوئے ہوئے شخص کو آواز دیتی ہے وہ اٹھتا ہے مردہ بچی کو ایک بازو سے پکڑ کر اوپر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے مگر اسے یقین ہو جاتا ہے کہ بچی مر چکی ہے تو وہ بچی کو وہیں چھوڑ کر بیڈ کی طرف پلٹتا ہے۔

یہ وڈیو سندھ کے شہر رانی پور کے پسماندہ نواحی علاقے کی دس سالہ معصوم بچی فاطمہ پھرڑو کی تھی جو رانی پور کے مرشدوں کی حویلی میں جنسی اور جسمانی تشدد کا شکار ہو کے تڑپ تڑپ کے مری تھی۔

ضلع خیرپور کے تھانہ رانی پور میں 16 اگست 2023 کو فاطمہ پھرڑو کی والدہ شبنم پھرڑو کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر 126 / 2023 درج کی گئی جس میں پیر سید اسداللہ شاہ ولد پیر خیر علی شاہ اور اس کی اہلیہ حنا شاہ کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں شبنم پھرڑو نے اپنی بیٹی فاطمہ پھرڑو کی موت سے آٹھ دن پہلے کی ملاقات بھی قلمبند کروائی تھی جس میں فاطمہ نے روتے ہوئے اپنی ماں سے شکایت کی تھی کہ اسد شاہ اور اس کی بیوی حنا شاہ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ بے جا تشدد کرتے ہیں۔

ایف آئی آر قانون کو حرکت میں نہ لا سکی مگر میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد با اثر پیر اسد شاہ کو گرفتار کر لیا گیا، 19 اگست 2023 کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں فاطمہ پھرڑو کی قبر کھول کر سیمپلز لئے گئے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بچی پر تشدد اور جنسی زیادتی کی تصدیق کی گئی تھی۔ میڈیکل رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کے بچی کے ساتھ کئی بار اور مسلسل فطری اور غیر فطری اطراف سے جنسی زیادتی کی گئی ہے۔

مرشدوں کی حویلیوں میں ملازموں یا خادموں پہ جسمانی تشدد یا مار پیٹ کو معمولی بات تصور کیا جاتا ہے، بعض جگہوں پہ تو مرشد کی دعا سمجھ کر درگزر کیا جاتا ہے۔

رانیپور کے پیر اسد شاہ کی حویلی میں کام کرنے والی ایک اور بچی ثانیہ پھرڑو نے نیوز چینل سے بات کرتے کہا تھا، اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ ملازم بچیوں پہ نہ صرف خود تشدد کرتی تھی بلکہ دوسری ملازماؤں سے بھی تشدد کرواتی تھی، جو ملازم تشدد کرنے سے انکار کرتا تھا اس کو حنا شاہ کے قہر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ فاطمہ پھرڑو پر بھی اس کے مرنے سے ایک دن پہلے حنا شاہ نے بدترین تشدد کیا تھا، اور دوسری ملازماؤں سے بھی کروایا تھا، ثانیہ پھرڑو نے مزید بتایا موت سے چھ دن پہلے حنا شاہ نے تشدد کر کے فاطمہ کا ایک بازو توڑ دیا تھا۔

فاطمہ پھرڑو کی والدہ شبنم پھرڑو نے کہا ہے کیس سے دستبردار ہونے اور صلح کرنے کے لئے رانی پور کے پیروں کی طرف سے پہلے ہمیں پیسوں کا لالچ دیا گیا جب ہم نے بچی کے خون کا سودا پیسوں کے عیوض کرنے سے انکار کر دیا تو اب ہمیں جان سے مارنے اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

فاطمہ پھرڑو کیس کو ایک سال گزر گیا ہے مگر ابھی تک قانون با اثر پیر اسد شاہ کے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ تک حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

12 اگست 2024 کو اینٹی ٹیررازم کورٹ کی کارروائی میں فاطمہ پھرڑو کیس کے گواہ اپنے پہلے دیے ہوئے بیان سے مکر گئے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ گواہان کو دو دو کروڑ روپوں میں خریدا گیا ہے۔ خیرپور کی انسداد دہشت گردی کورٹ میں پانچ گواہوں نے اپنے بیان تبدیل کرتے ملزمان کو بے گناہ قرار دیا، اور کہا کہ فاطمہ بیماری کے باعث طبعی موت مری تھی، پیروں نے اپنی ملازمہ کو بچانے کی کوشش کی اور اس کا علاج کروایا۔ عدالت نے گواہوں کے بیان قلمبند کرنے کے بعد کیس سے دہشت گردی ایکٹ کی دفعات خارج کر کے کیس سیشن کورٹ منتقل کر دیا ہے۔

فاطمہ پھرڑو کیس اینٹی ٹیررازم کورٹ سے سیشن کورٹ منتقل ہونے اور کیس سے دہشتگردی ایکٹ کی دفعات خارج ہونے کے بعد فاطمہ پھرڑو کی والدہ شبنم پھرڑو نے کورٹ کے باہر پولیس موبائل کے آگے آ کر خودی سوزی کرنے کی کوشش کی تھی جسے بروقت بچا لیا گیا تھا۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ، وڈیو فوٹیج موجود ہونے کے باوجود بھی ہمیشہ کی طرح طاقتور کے آگے قانون اور انصاف کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ عدالت کے باہر مظلوم بچی فاطمہ پھرڑو کی بے بس لاچار ماں دہائی دیتی رہی انصاف بک گیا، قانون بک گیا، گواہ بک گئے، جج بک گئے، وکیل بک گئے، میڈیا بک گیا۔

ایک دس سالہ معصوم بچی جو وحشی درندوں کے مسلسل جنسی اور جسمانی تشدد کا شکار ہو کے تڑپ تڑپ کر مر گئی اس بچی کے ساتھ انصاف کرنے کے لئے قانون کو گواہان کی ضرورت ہے، کیوں کہ ہمارے ملک میں اس طرح کے کیس جدید قانونی تقاضوں، ثبوتوں، میڈیکل اور فارنزک رپورٹس کے مدنظر نہیں دیکھے جاتے، انصاف صرف اس کے لئے ہے جو اونچی بولی لگا سکتا ہے خرید و فروخت کے بازار میں مسند نشینوں کو اپنے بینک اکاؤنٹ سے لبھا سکتا ہے۔

ہزاروں فاطمہ پھرڑو پہلے بھی وحشی درندوں کی جنسی ہوس کا شکار ہو کر مر کھپ گئیں ایک اور فاطمہ کی بے آبرو لاش بھی قانون کی موٹی کتابوں اور فائلوں میں دفن ہو جائے گی۔ جس کی آہ و بکا، درد و اذیت چیخ و پکار ہمارے سماج اور نظام عدل کا ضمیر نہیں جگا سکی۔

 

 

Facebook Comments HS