دی ریڈ مونیسٹری (لال خانقاہ) بروغل
غیر معروف لیکن انتہائی اہم تاریخی اور مذہبی آثار قدیمہ ہے۔ یہ قدیم زمانے میں بدھ مت کی عبادت اور تعلیم کا مرکز رہا ہے، جو اس خطے کے وسیع تر بدھ ثقافتی دائرے سے تعلق ظاہر کرتا ہے۔ بدھ خانقاہ اس دور کی ہے جب بدھ مت شاہراہ ریشم کے کنارے پروان چڑھا تھا، جس نے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، اور مشرقی ایشیا کے درمیان ثقافتی اور مذہبی تبادلے کو آسان بنایا تھا۔ یہ ممکنہ طور پر بدھ خانقاہی مقامات کے نیٹ ورک کا حصہ تھا جو ہندوکش اور قراقرم کے علاقوں میں پھیلا ہوا تھا۔
اس سائٹ پر قدیم سٹوپا اور خانقائی رہائش گاہوں کی باقیات موجود ہیں جو بدھ راہبوں کے زیر استعمال تھے۔ اس سائٹ تک رسائی نسبتاً مشکل ہے۔ اس وجہ سے ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیقی نظروں سے اوجھل ہے۔
لشکر گاز بروغل سے قرمبر کی طرف ایک گھنٹے کی ٹریکنگ کے بعد ارشاد نامی ایک مقام آتا ہے۔ آپ جب ارشاد میں داخل ہوں گے تو آپ کو یوں محسوسں ہو گا جیسے آپ کائنات کے اندر کائنات میں داخل ہوئے ہیں۔ ارشاد اور ژوہیل کے درمیان دریائے قرمبر کے بائیں جانب رنگ برنگی جھیلوں کے درمیان ایک پہاڑی پر صدیوں پرانے کھنڈرات موجود ہیں۔ مقامی لوگ ان کھنڈرات کو توپ خانہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہندوکش، قراقرم، ہندوراج اور پامیری پہاڑی سلسلہ کے سنگم پر واقع ان کھنڈرات سے چاروں اطراف کا نظارہ سحر انگیز ہے۔
میں دو عشروں سے مسلسل گردش میں ہوں اس دوران قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے عظیم پہاڑوں کے دامن میں واقع سینکڑوں کھنڈرات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ان سب میں (توپ خانہ) بروغل کے کھنڈرات منفرد ہیں۔ یہ دفاعی اور رہائشی مقاصد کے لئے تعمیر ہونے والے آبادیوں کے کھنڈرات سے باکل مختلف ہیں۔ کھنڈرات کے درمیان موجود سٹوپا گئے وقتوں کی یاد دلاتا ہے۔ سٹوپا کے چاروں اطراف درجنوں چھوٹے کمروں کی دیواریں اور چند کے اوپر چھت بھی موجود ہے۔ جن میں بمشکل ایک یا دو افراد بیٹھ کر مراقبہ کر سکتے ہیں۔
اسلام کی آمد سے بہت پہلے بدھ مت کے پیروکار انسانی آبادیوں سے بہت دور ان وادیوں میں مراقبہ کے لئے آتے تھے۔ بروغل کے کھنڈرات کا طرز تعمیر بدھسٹ مونیسٹریز سے مشابہت رکھتے ہیں۔ کھنڈرات میں موجود تمام پتھر لال رنگ کے ہیں۔ ایک ماہر آثار قدیمہ کے مطابق پامیر اور واخان میں ایک زمانے میں ریڈ مونیسٹری کے نام سے ایک مونیسٹری ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح نامور سکالر جان موک اپنے ریسرچ پیپرز میں ان کھنڈرات کے قریب موجود گزرگاہ کو (دی ریڈ بدھا ہال روڈ) کا نام دیتا ہے۔
بعض روایات کے مطابق واچ ٹاورز آگ اور دھوئیں کے ذریعے سگنل دینے کے لیے ان علاقوں میں تعمیر کیے گئے تھے۔ شاہ ناصر رئیس کے زمانے میں مذکورہ توپ خانہ ان علاقوں سے گزرنے والے کاروانوں کی حفاظت اور فوجی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔ اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق چترال کے راجہ امان الملک مہتر نے چترال کو روس میں بالشویک انقلاب کے دوران متوقع حملے سے بچانے کے لیے یہ توپ خانہ تعمیر کروایا تھا۔
نامور سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ نے مشہور سفر نامہ "یاک سرائے” میں ان کھنڈرات کے پاس موجود جھیلوں کے بارے (صفحہ نمبر 376 ) میں کنول کے نام سے ایک باب لکھا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔ بام دنیا پر کنول جھیل۔ ہر پتے پر ایک بدھا براجمان تھا۔ فن گندھارا میں کنول بدھ مت کا ایک اہم سمبل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دنیا بھر میں کوئی اور پھول عقیدت کی ان بلندیوں پر نہیں گیا جہاں کنول براجمان ہے۔ سب سے زیادہ اسی پھول کو تراشا گیا۔ گندھارا عہد کا شاید ہی کوئی ایسا نمونہ ہو جس میں ہمیں کنول دکھائی نہ دے۔ مہاتما بدھ کا تخت اکثر کنول کا پھول ہوتا ہے۔ جسے لوٹس بدھا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پامیری جھیل کے جتنے کنول تھے۔ ان پر شاید ایک ایک بدھا براجمان تھا۔
مذکورہ بالا ماہرین کی رائے اور مستنصر حسین تارڑ کا ان کھنڈرات کے پاس موجود جھیلوں میں کنول کے پھولوں کی موجودگی کے بارے میں لکھنے اور ان کھنڈرات کے خد و خال کو سامنے رکھتے ہوئے میری ناقص رائے کے مطابق بہت پہلے ان وادیوں میں بدھ مت کے پیروکار مراقبہ کے لئے آتے ہوں گے ۔ اور پرانے وقتوں میں یہاں ایک مونیسٹری ہوا کرتا ہو گا۔
ریڈیو کاربن ڈیٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی سے ان کھنڈرات کے عمر کا اندازہ لگانا کوئی ناممکن کام نہیں ہے۔ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس سے مونیسٹریز کے عقیدت مند جب یہاں آئیں گے تو مقامی لوگوں کے روزگار میں اضافہ ہو گا اور سیاحت کا شعبہ خوب ترقی کرے گا۔





Wonderful and mesmerising pics