امام الہند ابوالکلام آزادؒ
جس کا تذکرہ مقصود تحریر ہے، وہ مولانا غلام محی الدین احمدؒ کی شخصیت ہے جو ابوالکلام کے نام سے معروف ہے۔ اصل نام محی الدین احمد تھا اور آزاد تخلص تھا۔ والد کا نام خیرالدین اور دادا کا نام محمد ہادی تھا۔ مولانا کے یوم پیدائش کے حوالے سے صاحبان علم میں ایک یوم کے فرق سے روایات میں عدم تطابق بکثرت پایا جاتا ہے لیکن غالباً مولانا کی دوسری برسی کے موقع پر ہندوستانی سرکار میں موجود نجانے کس ناہنجار نے آپ کا یوم پیدائش 11 نومبر قرار دے دیا۔ تاہم راقم کی تحقیق کے مطابق آپ کی ولادت باسعادت 9 ذوالحجۃ 1305 ہجری، بروز جمعۃ المبارک مطابق 17 اگست 1888، بوقت تہجد، مکۃ المکرمہ کے محلہ قدوہ ( متصل باب الاسلام ) میں ہوئی۔ پہلا نام تاریخی اعتبار سے فیروز بخت رکھا گیا، اسم ثانی محی الدین احمد تھا۔ تعلیم آپ نے گھر ہی میں حاصل کی، 1893 ء میں جب مولانا کی عمر قریباً پانچ سال تھی۔ مولانا خیرالدین نے حرم مکہ میں شیخ عبد اللہ سے مولانا کی بسم اللہ کروائی، پہلی استانی کے اعزاز کا قرعہ آپ کی خالہ کے نام کا نکلا، علاوہ ازیں کچھ اسباق بنگال کے ایک مولوی صاحب سے بھی پڑھتے رہے۔ خطاطی کے اسباق حافظ بخاری سے لیتے رہے۔ دریں اثناء 1898 ء میں بوجہ علالت مولانا خیرالدین صاحب کو مکہ سے کلکتہ ہجرت کرنا پڑی۔ ہجرت سے پہلے ہی مولانا آزاد کا ناظرہ مکمل ہو چکا تھا اور چند سورتیں مولانا نے حفظ بھی کر لی تھیں۔
ہجرت کے کچھ عرصہ بعد ہی مولانا کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ خیرالدین صاحب تو اس سانحے سے اس قدر برداشتۂ خاطر ہوئے کے فوراً مکہ واپسی کا ارادہ کر لیا لیکن پھر حاجی عبدالواحد صاحب کے کہنے پر رک گئے۔ کلکتہ میں مولانا نے درس نظامی کی تعلیم کا آغاز کیا تو بوستان و گلستاں تا صحاحِ ستہ تقریباً تمام کتب اپنے والد مولانا خیرالدین سے ہی پڑھیں۔ البتہ درمیان میں گاہے بگاہے ایک مختصر سے عرصہ میں والد گرامی کے حکم پر ہی مولانا نذیر الحسن امیٹھوی، مولانا محمد شاہ محدث، مولانا سعادت حسین، مولوی محمد یعقوب، مولوی محمد ابراہیم، سید باقر حسین اور مولوی محمد عمر جیسے اساتذہ کی صحبت میں زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل کیا۔ 1899 ء سے مولانا نے باقاعدہ شاعری کا بھی آغاز کر دیا تھا جبکہ پہلی تصنیف غالباً ( اعلان الحق ) 1902 ء میں کی۔ مولانا کو مولانا خیرالدین نے 1900 ء میں دوران تعلیم ہی رشتۂ ازدواج میں منسلک کر دیا تھا آپ کی ہمشیرہ فاطمہ بیگم کی روایت ہے کہ ”جب مولانا بارہ برس کے ہوئے تو ہمارے والد نے کلکتہ میں مولانا کی شادی کر دی، شادی کے وقت مولانا رو رہے تھے کہ مجھ کو کیوں عورتوں میں لے جایا جا رہا ہے۔
1903 ء میں پندرہ برس کی عمر میں مولانا نے درس نظامی کی تکمیل کی۔ فراغت کے بعد مولانا نے صحافت کی دنیا میں پہلا قدم ہفت روزہ احسن الاخبار کلکتہ ادارت سے اٹھایا جو کہ بعد ازاں الندوہ و وکیل سے ہوتا الہلال و البلاغ تلک گیا۔ 1905 ء میں مولانا نے اپنے والد کے ایک مرید سیتا خاں جو کہ طوائفوں کی معلمی سے توبہ کر کے مولانا خیرالدین سے بیعت ہوئے تھے سے موسیقی اور ستار بجانا چار پانچ سال تک سیکھتے رہے۔ سگریٹ کا آغاز نا معلوم کب کیا لیکن فاطمہ بیگم کی روایات میں سترہ برس کی عمر میں مولانا کی میز پر سگریٹ کیس کا وجود دیکھا جا سکتا ہے۔ 15 اگست 1908 ء کو مولانا کے والد مولانا خیر الدین صاحب چند ماہ کی علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ والد کے انتقال کے بعد سے الہلال کی ابتداء تک چار سال میں مولانا کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات موجود نہیں، لیکن پھر الہلال کی ابتداء سے مولانا کی اپنی رحلت ( 22 فروری 1958 ء ) تک کی زندگی اس قدر تعدد سے لکھی و پڑھی جا چکی ہے کہ اسے ایک بار پھر سے لکھنا اسراف قلم و قرطاس ہو گا اور قارئین کے وقت کا ضیاع۔
میری امام الہند سے پہلی شناسائی کا واقعہ یہ ہے کے اس مختصر سے عرصۂ زیست میں امام الہند سے عقیدت و احترام کے اس رشتے کا جنم ماضی قریب میں ہی ہوا اور وہ بھی یوں کہ 7 جولائی 2022 شب آہنگ میں سجی اک محفلِ مُراختہ میں ساقیٔ شب نے غبار خاطر کا ایک نسخہ مجھے دیا اور مکتوبِ اول پڑھنے کو کہا۔
؎ اے غائب از نظر کہ شدی ہم نشین دل
می بینمت عیان و دعا می فرستمت
”دل حکایتوں سے لبریز ہے۔ مگر زبان درماندۂ فرصت کو یارائے سخن نہیں۔ مہلت کا منتظر ہوں۔
ابوالکلام۔ ”
27 جون 1945 ء کو نواب صدر یار جنگ کے نام لکھا ہو امام الہند کا مبنی بر یک شعر و یک سطر ِ نثریہ وہ پہلا مکتوب تھا کہ جس کو پڑھتے ہی دل میں اچانک جنم لینے والے نجانے کتنے ہی متفرق خیالات کا امتزاج ایک لمحے میں ہی اس جملے کی صورت میں لبوں سے یوں ادا ہوا کہ ”اچھا۔ فصاحت در زباں نامِ ایں شے است۔“
مولانا آزاد سے عقیدت کی جو شمعِ افروختہ اس ایک مکتوب کو پڑھ کر دلِ من میں تاباں ہو چکی تھی اس کو مزید پروان چڑھانے کے لیے مکمل کتاب کے مطالعہ کی ابتدا کر دی۔
؎گاہے گاہے باز خواں ایں دفتر پارینہ را
تازہ خواھی داشتن گر داغ ہائے سینہ را
غبارِ خاطر کے مطالعہ کو تمام تک پہنچایا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ آج تک جتنی بھی ریختہ بصورت نثر یا نَثر مقفیٰ میرے کا سۂ چشم میں نقش پارینہ ہوئی تھی وہ اردوئے معلیٰ کے اس منصبِ جلیلہ تک نہ پہنچ پائی تھی۔ میرے ذہن کے لیے یہ بات کچھ ایام تک شدید حیرت کا باعث رہی کہ مجھ جیسوں کے لیے نثر کی یہ جو معراج ہے وہ ایک ابوالکلام کے لیے صرف اپنے صدیق مکرم کے نام لکھے ہوئے مکاتیب سے زیادہ کچھ نہیں۔ سو غیر اختیاری طور پر دل میں مولانا کی شخصیت ایک گہرا اثر قائم کر گئی، جو گاہے بگاہے الہلال، البلاغ اور مولانا کی دیگر علمی و ادبی کاوشوں کو بھی مسلسل زیر نظر رکھنے سے مزید پختہ ہوتا گئی۔ مولانا کی نثر کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کے اس میں علاوہ ازیں فصاحت، بلاغت، حسنِ انتخاب اشعار و درد دل کے ایک کمال درجہ جاذبیت موجود ہے جو کہ قاری کے ذہن پر ایک سِحر آفرینی کیے رکھتی ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ مولانا کے لیے کچھ بھی لکھتے وقت کسی پر اپنی فہم الکلامی کا رعب جمانے کا خیال نا آتا تھا بلکہ ان کا یہ اسلوب اپنانا در اصل دل و دماغ میں ابلتے ہوئے علم کو قابو رکھنے کے لئے با امر مجبوری تھا۔
”غالب کی طرح مولانا بھی رعایت لفظی اور صنعت مراعاۃ النظیر کے نام سے کانوں پر ہاتھ دھرنے والے تھے، لیکن آخر ذوق زبان کے مارے ہوئے تھے اور لطف بیان کے گھائل۔ ایسے چٹخاروں سے بچ کر گھائل کہاں جا سکتے تھے۔
غم اگرچہ جاں گسل ہے پر کہاں بچیں کے دل ہے
غالب ہی کی طرح جب کبھی اس شجر ممنوعہ کو ہاتھ لگایا تو جسد بے جان میں روح پھونک دی، پتھر کو ہیرا کر دیا، آبنوس کو کندن کی طرح چمکا دیا، زرہ بے نوا کو آفتاب کی تپش و تابش دے دی ”عبدالماجد دریا آبادی اگر میرے موجودگی میں یہ جملہ لکھتے تو میں بلا جھجک یہ دعویٰ کر دیتا کے انہوں نے یہ جملہ میرے ذہن سے چرایا ہے۔ اور وہ اگر میری کیفیت قلبی کو جان لیتے تو مجھے یہ سطریں بخوشی عطا کر دیتے۔ حسرت موہانی نے یہ شعر
جب سے دیکھی ہے ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
شاید مجھ جیسوں کے لیے ہی کہا تھا، راقم بھی مطالعہ کے ابتدائی دور میں میر، غالب، سودا، مصحفی و درد کو پڑھنے کے بعد اگر ابوالکلام کو نہ پڑھتا تو شاید کبھی نثر لکھنا تو دور کی بات اس کی افادیت کا بھی معترف نا ہوتا۔ یہ ابوالکلام ہی تھا کہ جس کی تحریر نے بتلایا کے اظہار درد دل کے لیے نثر بھی اپنے دامن میں نظم جتنی ہی وسعت رکھتی ہے۔ یعنی مولانا کا اسلوب تحریر اگر شورش کے قلم کی سجدہ گاہ ہے تو مجھ جیسوں کے لیے تو واقعی یہ ایک معراج ہے کہ اس اسلوب کو حاصل کرنے کی حسرت لیے زندگی میں مسلسل لکھتے رہنا اور پھر بھی اس کو نا پا سکنا قبول ہے۔
نشان منزل جاناں ملے ملے نہ ملے
مزے کی چیز ہے یہ ذوق جستجو میرا
راقم کا اب تک کا تجربہ بھی یہی ہے کہ اسلوب آزاد کو اختیاری طور پر اپنانا شاید کسی بھی طور ممکن ہی نہیں۔ بلکہ یہ تو وہ مقام قبولیت ہے کہ جو صرف خدا کی طرف سے صدیوں میں کسی ایک فرد کو ملتا ہے اور بقیہ افراد کو اسے دیکھ کر صرف تڑپنا ہی نصیب ہوتا ہے۔ بارگاہ وحدہ لاشریک میں دعا ہے کہ یہ معراج نا سہی لیکن کچھ ایسا نصیب ہو جائے دیکھنے والا اتنا تو سمجھ جائے کہ اس نے ابوالکلام کو پڑھ رکھا ہے۔ آمین!
قلم ایں جا رسید و سر بشکست۔



پاکستانیوں کے لئے مسئلہ آزاد کی شاعری یا صحافت نہیں بلکہ ان کا دو قومی نظریہ کے خلاف سیاسی کردار تھا۔
اور یہ ان کا بھی حق تھا کہ وہ جس معاملے کو جیسا سمجھنا چاہیں دیکھیں۔
مسلم لیگیوں کی ایک اکثریت بشمول جناح ایک ہندوستان میں رہتے ہوئے ساتھ کام کرنے کی قائل تھی لیکن 1937 کے الیکشن کے بعد کانگریسی وزارتوں کے دور میں ساتھ رہنے کے غبارے سے ہوا نکال دی اور یوں 1940 میں قرارداد لاہور کے بعد پاکستان ایک حقیقت بنتا چلاگیا۔