دھرو راٹھی اور پاکستان بھارت معاشرے کا موازنہ


یہ ایک حقیقت ہے کہ سماجی اعتبار سے بھارت کا معاشرہ پاکستانی معاشرے سے زیادہ پروگریسیو اور تنقیدی ہے، وہاں ریاستی و عوامی سطح پہ سچ سننے، برداشت کرنے اور اپنانے کی شرح ہماری نسبت زیادہ ہے۔

اس کا اندازہ آپ ”فریڈم ہاؤس“ نامی ایک تنظیم کے 2023 میں انٹرنیٹ کی آزادی کے بارے میں کیے گئے سروے (جس میں انھوں نے پاکستان کو 100 میں سے 26 اور بھارت کو 100 میں سے 50 نمبر دیے ) اور بھارت میں بننے والی چند فلموں سے لگا لیں جن میں اکثریتی مذہب پہ تنقید کی گئی، ان میں سرِ فہرست ”پی کے“ اور ”او ایم جی“ ہیں۔

ان فلموں کو ریاستی سطح پہ ریلیز ہونے دینا ریاستی برداشت کا تھوڑا سا سہی، پر عملی مظاہرہ تو ہے!

ان فلموں کو ریاستی سطح پہ برداشت کر لینے کے بعد اگر ان کی عوامی سطح پہ مقبولیت کو دیکھیں تو ان فلموں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

کیا آپ کے معاشرے میں ایسی فلمیں بن سکتی ہیں؟ یقیناً نہیں! بلکہ ”زندگی تماشا“ کے نام سے جو کوشش ہوئی اس کا کیا حشر ہوا؟

اسی طرح اگر آپ صحافت کے شعبے کو دیکھیں تو یہاں ریاستی و عوامی سطح پہ صحافیوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوتا؟

یہاں ریاستی سطح پہ جو ہوتا ہے وہ تو الگ بات، عوامی سطح پہ بھی آپ نے سچ بولنے والے صحافیوں کے ساتھ کیا رویہ رکھا؟ انھیں کتنی قبولیت بخشی؟

ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ جب حامد میر کو سچ بولنے پہ گولیاں ماری گئیں تو اس وقت کے ”بیانیہ ساز“ اور ان کے سہولت کاروں نے ان کی کس طرح تضحیک کی اور مذاق اڑایا، جبکہ آج وہی لوگ اپنے اوپر ہونے والے ظلم میں حامد میر کے ٹویٹ، ری ٹویٹ کر رہے ہیں۔

اسی طرح اگر پولٹیکل فلاسفی و سماجی تنقید کے حوالے سے سید مزمل حسین کی بات کی جائے تو انھوں نے اکثریت سے ہٹ کر سوچنے، خصوصاً جہاد، ملا ازم، شخصیت پرستی، کلٹ فالونگ، مسنگ پرسن، مذہب کے غلط استعمال، غلط ریاستی تاریخ اور مقتدرہ کی اصلیت دکھانے کی کوشش کی، تو اسے آپ نے متعصب کہہ کر جھٹلا دیا، اگر یہی پیمانہ رکھا جائے تو اس حساب سے تو دھرو راٹھی بھی بی جے پی کے خلاف کانگریس کے حق میں متعصب ہیں، پھر ان پہ آپ کس منہ سے ”واہ واہ“ کر رہے ہیں؟

ان شخصیات کے ساتھ مجھے کئی اختلافات ہیں یقیناً آپ کے بھی ہوں گے کیونکہ یہ انسان ہیں، لیکن جو بات ذہن نشین کرنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ: ”اصل چیز حقائق ہوتے ہیں، اگر کسی کے پیش کردہ حقائق غلط ہیں اور چیلنج کیے جا سکتے ہیں تو پھر اس شخص کو جھٹلایا جا سکتا ہے، اگر اس کے پیش کردہ حقائق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا تو پھر حقائق کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، محض متعصب کہہ دینے سے کچھ نہیں ہو گا آگے بڑھیں اور ان کے حقائق چیلنج کریں، دوم یہ اگر کوئی شخص زندگی کے ایک حصے میں ایک سچ بول رہا تھا پھر وہی سچ زندگی کے کسی دوسرے حصے میں کسی کے کہنے پہ یا کسی کے فیور میں تبدیل ہو گیا، تو ایسا شخص بھی جھوٹا ہے کیونکہ سچ، اٹل، امر اور غیر متبدل ہے، وہ کل بھی وہی تھا آج بھی وہی ہے۔

Facebook Comments HS