وی پی این سے الحاد تک

مذہب کا مقصد ویسے تو انسانی معاشرے کو بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب، سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق دلانا تھا، لیکن ہر دور میں مذہب کی غلط تشریحات اور اسے سامراجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے موجود رہے۔ مذہب چونکہ انسان کا بہت ہی حساس پہلو تھا لہذا موجودہ و سابقہ میکاولیوں نے اسے اپنے مفادات و عزائم حاصل کرنے کا ایک ٹول بنا دیا، اور عام آدمی کو یہ باور کروایا کہ ان پہ آنے والی مصیبتیں ان

Read more

اقبال، چند خیالات

علامہ اقبال سے پہلا کتابی تعارف نانا مرحوم کی وجہ سے ہوا، انھوں نے اپنے کمرے میں چھوٹی سی لائبریری بنا رکھی تھی، میں جب کبھی ان کے ہاں جاتا تو ان کی کتابوں کو دیکھتا رہتا۔ ایک دن واپسی پہ اماں سے ضد کی کہ نانا سے ”بالِ جبریل“ لے کے دیں، اماں نے ڈرتے ڈرتے نانا سے کہا کہ یہ کسی کتاب کی ضد کر رہا ہے، نانا نے کہا: ”اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے، کتاب

Read more

پنجاب کالج کا واقعہ اگر سچ بھی ہوتا تو آپ کیا کر لیتے؟

ان دنوں فیس بک پہ پنجاب گروپ آف کالجز میں ہونے والے واقعہ کو لے کر کافی واویلا مچا ہوا ہے، اس پر عوام الناس کی رائے منقسم ہے، ایک گروہ کا ماننا ہے کہ یہ سارا واقعہ جھوٹا ہے، جبکہ دوسرا گروہ اسے سچا کہتا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ مذکورہ کالج کا مالک طاقتور آدمی ہے اور حکومتی ایوانوں میں کافی اثر و رسوخ ہے، لیکن حقیقت کیا ہے کوئی نہیں جانتا۔ میں ذاتی طور پر

Read more

ماہ رنگ کی خاموشی اور ڈوبنے والے کا مذہب

کسی تحریک کو جانچنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رنگ، نسل، مذہب، علاقائیت یا قومیت کے تعصب پر تو مبنی نہیں! اگر وہ ان تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت پہ ہونے والے ظلم کے خلاف ہے تو وہ تحریک برحق ہے، بصورت دیگر باطل۔ اگر کوئی تحریک محض تعصب پہ مبنی ہے تو اس کی طبعی عمر ”انسان دوستی اور ظلم دشمنی“ پہ مبنی تحریک سے کم ہو گی۔ چند ہفتے پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا

Read more

اقبال کا خط اور دوسری طرف کا آرگومنٹ

کسی شخص کے نظریات تبدیل ہونے پر اس شخص کو زیرِ عتاب لانا درست روش نہیں بلکہ یہ ایک سوچنے والے دماغ کی نشانی ہے، فکری ارتقاء اسی کا نام ہے۔ جو معاشرہ فکری جمود کا شکار ہو وہ باقی اقوام سے پیچھے رہ جاتا ہے، اور وقت اسے روندتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کی ایک خاص عادت ہے کہ کچھ مخصوص دنوں اور مہینوں میں ان دنوں اور مہینوں سے جڑے واقعات پہ بحث مباحثہ کرتے

Read more

دھرو راٹھی اور پاکستان بھارت معاشرے کا موازنہ

یہ ایک حقیقت ہے کہ سماجی اعتبار سے بھارت کا معاشرہ پاکستانی معاشرے سے زیادہ پروگریسیو اور تنقیدی ہے، وہاں ریاستی و عوامی سطح پہ سچ سننے، برداشت کرنے اور اپنانے کی شرح ہماری نسبت زیادہ ہے۔ اس کا اندازہ آپ ”فریڈم ہاؤس“ نامی ایک تنظیم کے 2023 میں انٹرنیٹ کی آزادی کے بارے میں کیے گئے سروے (جس میں انھوں نے پاکستان کو 100 میں سے 26 اور بھارت کو 100 میں سے 50 نمبر دیے ) اور بھارت

Read more

سیاست اور جمالیات

سیاست جو کہ خالصتاً حقائق، حسی تجربات اور عمل کی دنیا ہے، اسے حقائق و مشاہدات سے ہٹا کر جمالیات کے تابع کر دینا انتہائی نقصان دہ ہے۔ آج کے جدید دور میں ذرائع ابلاغ تک رسائی بہت آسان اور سستی ہے، اسی لیے سیاسی جماعتیں مختلف سوشل میڈیا فورم کو بڑے زور و شور سے استعمال کر رہی ہیں اور کرنا بھی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اپنے حق میں رائے

Read more

اسماعیل ہنیہ، جذباتی بیانیہ اور مستقبل کے خدشات

جب کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس کے اجتماعی رویوں میں جذباتی پن آ جاتا ہے، وہ حالات و واقعات کا معروضی تجزیہ کرنے سے محروم ہو جاتی ہے یہی حال پاکستانی قوم کا ہے، ہم واقعات کو صرف اوپری سطح سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں، گہرائی میں جا کر ان کا تجزیہ کرنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، بلکہ آج کل تو ہم فیسبک اور سوشل میڈیا پہ چلنے والے ٹرینڈز کے

Read more

نیکی کا معیار اور گدی نشینی کا کاروبار

آج کسی کام کے لیے چھت پہ گیا تو ایک مسجد سے خطبے کی آواز آ رہی تھی، مولانا صاحب ایک حدیث کے اوپر بیان فرما رہے تھے کہ: ”جو اس دنیا میں جس سے محبت رکھے گا آخرت میں اس کا حساب کتاب اسی کے ساتھ ہو گا۔“ اس حدیث کی تشریح اور اس کا اطلاق مولانا صاحب نے اپنی فکر و عقیدت کے مطابق گولڑہ شریف کے گدی نشینوں پہ ان الفاظ میں کیا کہ: ”جو یہاں بابو

Read more

مدرسے کی ذہنیت: لمحۂ فکریہ

آج ایک ضروری کام کے سلسلے میں گھر سے باہر جانا ہوا، واپسی پر اپنے گاؤں کا ایک لڑکا ملا جس کے بارے میں اتنا تو علم تھا کہ کسی مدرسے میں پڑھتا ہے لیکن یہ علم نہیں تھا کہ کس مدرسے میں، خیر لفٹ دی اور دعا سلام کے بعد پوچھا کہ آج کل کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں دعوت اسلامی کے مدرسے میں درسِ نظامی کا کورس کر رہا ہوں۔ اس پر

Read more

ساحل عدیم، مسجد، فتوی اور ریاست

کل ساحل عدیم صاحب ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں خواتین کے حقوق پہ بات کرنے کے لیے خلیل الرحمٰن قمر کے ساتھ براجمان تھے، شو کی میزبان نے عورت مارچ اور عورت کے ساتھ ہونے والے استحصال کے متعلق ساحل عدیم صاحب سے سوال کیا تو ساحل عدیم صاحب کا کہنا تھا کہ عورت غلط جگہ احتجاج کر رہی ہے، اسی لیے اس کے احتجاج کو مذہبی طبقے اور مردوں سے نفرت کا سامنا ہے، عورت کو

Read more