ایوارڈ نگری!
سیالکوٹ میں پیدا ہو کر سندھ میں بسنے والے مولانا عبیداللہ سندھی کا شمار تحریک آزادی کے بڑے کرداروں میں ہوتا ہے۔ آزادی کی تحریک میں جرات مندانہ کردار ادا کرنے والے مولانا عبیداللہ سندھی کو اس راہ میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، انہیں جلا وطنی اختیار کرنا پڑی، انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے مولانا عبیداللہ سندھی پچیس سالہ طویل جلا وطنی کے بعد 1939 ء میں واپس آئے تو آخری دنوں میں بہت پریشان تھے۔ ایک روز ان کی بیٹی کہنے لگیں ”اب آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ اب تو انگریز جانے والا ہے اور آزادی بہت قریب ہے، اب تو آپ کو خوش ہونا چاہیے“ ۔ بیٹی کی بات سن کر مولانا عبیداللہ سندھی نے فرمایا ”ٹھیک ہے انگریز جا رہا ہے مگر جن کے حوالے کر کے جا رہا ہے، جب لوگ ان کے کارناموں کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے کہ انگریز بہت اچھا تھا“ ۔ ایوارڈز کے حالیہ گورکھ دھندے کو دیکھتا ہوں تو مولانا عبیداللہ سندھی بہت یاد آتے ہیں۔
پاکستان کی ایوارڈ نگری میں کیا کچھ ہوتا رہا، یہ قصہ بعد میں، پہلے حالیہ اعلان شدہ ایوارڈز پر بات ہو جائے۔ سینیئر صحافی اپنے پیارے راوین محمد مالک نے ایوارڈز کے حالیہ اعلان پر پروگرام کیا ہے، انہوں نے درست فرمایا کہ ایک گھڑی کے لین دین کرنے والے عمر فاروق کو کس چکر میں ایوارڈ دیا گیا۔ اسی طرح توہین عدالت کے مرتکب ہونے والے عرفان نواز میمن کو کن خدمات کے صلے میں ایوارڈ دیا گیا۔ اسی طرح اومنی گروپ کے سربراہ اور صدر مملکت کے ذاتی دوست انور مجید کو پتہ نہیں کون سی خدمات پر ہلال امتیاز دے دیا گیا۔
صدر صاحب تو صدر صاحب! وزیراعظم صاحب سبحان اللہ۔ انہوں نے سوچا اگر انور مجید کو ایوارڈ مل سکتا ہے تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردار پیچھے کیوں رہ جائیں؟ سو انہوں نے ڈاکٹر توقیر شاہ کا نام شامل کروا دیا۔ ہر کوئی محنت کا ثمر مانگتا ہے، الیکشن میں سب کچھ کر جانے والے ”راجہ جی“ کی اہلیہ کو ایوارڈ دیا گیا ہے۔ چلو ایوارڈ ”راجہ جی“ کے گھر تو آیا۔ محمد مالک نے ایوارڈز کی تقسیم پر درست تنقید کی ہے بلکہ حالیہ پندرہ بیس سالوں کے ایوارڈز کا جائزہ لیا جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہاں تو ایوارڈز کی بندر بانٹ ہوئی ہے، اس بندر بانٹ نے ایوارڈز کو بے توقیر کر کے رکھ دیا ہے۔
پاکستان بہت پیارا ملک ہے مگر اس کے حصے میں ایسے حکمران آئے جن کے ذاتی مفادات، قومی مفادات پر فوقیت رکھتے تھے۔ ایوارڈز کی بے توقیری کا سفر پاکستان کے ابتدائی سالوں میں شروع ہو گیا تھا۔ 23 مارچ 1958 ء کو دیے گئے ایوارڈز کو دیکھیے! پاکستان کے صدر میجر جنرل اسکندر مرزا نے خود کو نشان پاکستان کا ایوارڈ دیا، ایک نشان پاکستان خواجہ ناظم الدین کو دیا، نشان امتیاز کے مرحلے پر بھی صدر مملکت جنرل سکندر مرزا کو سب سے پہلے اپنا گھر نظر آیا، انہوں نے جو تین نشان امتیاز دیے، ان میں پہلا بیگم ناہید اسکندر مرزا، دوسرا بیگم وقار النساء نون اور تیسرا نیدر لینڈ میں پاکستان کی سفیر بیگم رعنا لیاقت علی خان کو دیا۔ نشان قائد اعظم میں بھی حالات مختلف نہیں تھے، جن لوگوں کو نشان قائد اعظم دیا گیا، ان میں وزیراعظم ملک فیروز خان نون، مشہور زمانہ چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس منیر، نواب آف جونا گڑھ نواب سر محبت خان شامل تھے۔
موجودہ صدی کا ایک قصہ سن لیں! 7 اگست 2009 ء کو رات 8 بجے کنور دلشاد کو صدر مملکت آصف علی زرداری کا فون آیا تو صدر صاحب کہنے لگے ”میں نے آپ کا نام سول ایوارڈ کے لئے بھیجا تھا مگر پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی کی طرف سے وضاحتی اعتراض آیا ہے کہ 1973 ء میں بھٹو صاحب نے یہ پالیسی بنائی تھی کہ حاضر سروس سول سرونٹس کو ایوارڈز نہیں دیے جائیں گے، سلمان فاروقی نے آپ کی سمری جون میں بھجوائی تھی، اب میں آپ کا کیس ڈیفر کر رہا ہوں، اب ایوارڈ آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد مل سکتا ہے“ ۔ کنور دلشاد نے شکریہ ادا کرتے ہوئے فون بند کر دیا مگر حیرت ہے کہ دو سال بعد جب نرگس سیٹھی سیکرٹری کیبنٹ تھیں تو انہوں نے اپنے سول ایوارڈ کے لئے رولز میں تبدیلی کی اور یوں حاضر سروس سول ملازمین کے لئے ایوارڈز کا دروازہ کھل گیا۔ جب نرگس سیٹھی کو ایوارڈ ملا تو کنور دلشاد نے انہیں مبارکباد کا خط لکھا اور پچھلا قصہ بھی بیان کر دیا۔ کنور دلشاد ریٹائرڈ ہوئے تو آصف علی زرداری صدر تھے، انہوں نے صدر مملکت کا شکریہ بذریعہ فون ادا کیا۔ اس شکریے کے جواب میں ایک رات ساڑھے گیارہ بجے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کنور دلشاد کو فون کیا، صدر مملکت کہنے لگے ”آپ کے ایوارڈ کا کام کونڈا لیزا رائس نے خراب کیا ہے، میں نرگس سیٹھی کو کونڈا لیزا رائس کہتا ہوں کیونکہ کونڈی ہمارے بہت سے کام خراب کرتی ہے“ ۔ تھوڑے عرصے بعد آصف علی زرداری کی مدت صدارت ختم ہو گئی لیکن سلمان فاروقی وفاقی محتسب بن گئے، انہوں نے بطور وفاقی محتسب کنور دلشاد کو ایوارڈ دلوانے کی کوشش کی مگر یہ فائل سرخ فیتے کا شکار ہو چکی تھی۔
پاکستانی حکمرانوں کے درباروں میں خوشامدیوں کے ہجوم قطار در قطار کھڑے ہیں اور ہر دربار کا منظر ایسے ہی ہے جیسے
ہر دور کے یزید کی محفل میں بیٹھ کر
دیتے ہیں لوگ گالیاں گزرے یزید کو


