استغفر اللہ استغفر اللہ؛ دیکھیے تو یہ کیا ہو رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دُنیا بھر میں اپنے اعلیٰ اخلاق سے پہچانے جانے والے پاکستانیوں کے منہ پر اپنا ہی تمانچہ اُس وقت پڑتا ہے، جب کوئی شیخ، کوئی سید، کوئی خان، کوئی خواجہ، کوئی مراد، کوئی جاوید لطیف ملک کا نام روشن کرتے ہیں، اور عظیم پاکستانی، بے داغ معلم اخلاق سوشل میڈیا پر وہ بھڑکیلا بیان شیئر کرتے ہیں، کچھ ایسے چکمتے دمکتے “کیپشن” دے کر:

استغفر اللہ استغفر اللہ دیکھیے تو ڈاکٹر شاہد مسعود نے جاوید لطیف کی وہ وِڈیو شیئر کر دی، جسے چلانے کی ہمت نہ ہوئی 25 چینلوں کو۔

استغفر اللہ دیکھیے تو ڈاکٹر شائستہ نے تمام حدیں پار کر دیں۔ یہودی چینل اس خبر کو چھپاتے رہے۔

استغفر اللہ استغفر اللہ دیکھیے تو وینا ملک نے تمام حدیں پار کر دیں۔ کوئی ہے، جو اسے روکے؟

استغفر اللہ استغفر اللہ ۔۔۔۔۔

“استغفر اللہ استغفر اللہ” کہتے کوئی پوسٹ لگانے کی غرض ایک ہی ہے، وہ یہ کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ “ہِٹس” ملیں۔ استغفر اللہ استغفر اللہ ۔۔۔۔ میرے اس ادبی مضمون کا عنوان بھی ایسا ہی ہے۔ جی ہاں! میں بھی تو آپ ہی میں سے ہوں۔ میں جانتا ہوں، آپ کو دو ہی موضوع مرغوب ہیں؛ ایک سیکس اور دوسرا؟ دوسرا مذہب۔۔۔

میں آپ مذہبی ہوں یا نہ ہوں، ہمیں فکر رہتی ہے کہیں کافر ہمارے مذہب کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ اس لیے جہاں لگتا ہے کہ کوئی ایسی بات ہوئی ہے جس میں “مزہ” ہے، یا “مذہب” پر انگلی اٹھائی گئی ہے، ہم دوڑے دوڑے جاتے ہیں۔ فروشندہ خوب جانتا ہے، خریدار کیا مانگتا ہے۔ استغفر اللہ استغفر اللہ “فروشندہ” ایرانی فلم ہے، جسے امسال اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا؛ دیکھنا مت بھولیے گا۔

استغفر اللہ؛ ایک وہ زمانہ تھا جب سوشل میڈیا کی ریل پیل نہ تھی۔ کوئی غلام دستگیر خان، عظیم مارشلائی رہ نما ایوب خان کی محبت میں سرشار ہو کر، مادر ملت کا انتخابی نشان لالٹین کو کتیا کے گلے میں لٹکا کر شہر بھر میں گھومتا تھا۔ الحمد للہ اُس وقت سوشل میڈیا جیسی خرافات نہیں تھیں، کہ  دُنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوتی۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے تھے؛ ہم تو ایسے ہی تھے، ایسے ہی ہیں، لیکن سوشل میڈیا کی عدم موجودی نے دُنیا کے سامنے ہمارا اصلی چہرہ نہ آنے دیا۔ یہ ہوتے ہیں سوشل میڈیا کے نہ ہونے کے فوائد۔

استغفر اللہ استغفر اللہ؛ یہ اُن دنوں کی بات ہے، جب سوشل میڈیا گھٹنوں کے بل چل رہا تھا، اور ایم کیو ایم کے قائدین نے خبر دی، کہ پنجاب کے گھر گھر میں مجرے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا، تو پنجابیوں کو اطلاع ہوتی؛ لیکن اب سوشل میڈیا ایسا بھی نہیں کہ مراد سعید کی توہین ہو، اور یہ پتا نہ چلے کہ یہ مراد سعید کی نہیں، پختونوں کی توہین ہوئی ہے۔ استغفر اللہ۔

کہا جاتا ہے، اس زمانے میں سوشل میڈیا ہوتا، تو استغفر اللہ استغفر اللہ یحییٰ خان کے آٹھ کروڑ فالوورز ضرور ہوتے، گرچہ اُس زمانے میں مغربی پاکستان کی کل آبادی اتنی نہ ہوگی؛ اس سے کیا فرق پڑتا ہے، مبینہ طور پر اس وقت پاکستان میں فیس بک ہی کے بائیس تئیس کروڑ اکاونٹ ہیں۔ یا تو ہر شہری کا اکاونٹ ہے، یا ہر شہری کے پانچ چھ اکاونٹ ہیں۔ استغفر اللہ استغفر اللہ پاکستانیوں کی نیک نامی پر شبہہ کروں، یہ میرا مقام نہیں۔ میں اتنا عرض کر رہا ہوں، کہ ہم پاکستانی اخلاق کی ارفع منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ کل ہی کی بات ہے، محترم جاوید لطیف نے اپنے جیسے سیاست دان کے لیے نازیبا کہا۔ ایسے لوگوں کی کمی نہیں، جو کہیں کہ جاوید لطیف نے ایسا کہا تو کیا ہوا، عمران خان کی زبان بھی ایسی ہی نکھری ہوئی ہے۔ ایسے لوگ اس وقت بھی ہوں گے، جب محترمہ فاطمہ جناح کو “عزت” دی جار ہی تھی۔ ایسے لوگ اُس وقت بھی تھے، جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو پر “سلامتی” بھیجی جاتی تھی۔ ہماری اخلاقی تباہی کے ذمہ دار ایسے پست ذہن کے سیاست دان نہیں، بل کہ اُن کے ووٹر ہیں۔

پرویز مشرف ہوں، ضیا الحق ہوں، یا ایوب خان جیسے انقلابی رہ نما۔ یہ تو خود سے آ جاتے ہیں، ان کے ہاتھ میں پستول ہوتی ہے، جس کا سامنا کرنے کی جرات، کم از کم مجھ میں تو نہیں۔ مگر ان سیاست دانوں کا کیا کیجیے جو عوام کے ووٹ لے کر اسمبلیوں میں آتے ہیں۔ میں اپنے حلقہ انتخاب کے امیدواروں کے ناموں پر غور کرتا ہوں، آپ اپنے حلقہ انتخاب کے امیدواروں پر نظر کیجیے۔ کیا میں اور آپ ہی نہیں، جو ان سیاست دانوں کو ووٹ دیتے ہیں، جو ایک دوسرے کی ماں بہنوں کے نام لے کر اپنا شملہ اونچا کرتے ہیں؟ اب یہ مت کہیے گا، کہ ہم ووٹ دیتے ہی کب ہیں، وہ خوب بخود منتخب ہو جاتے ہیں۔ خود بخود منتخب ہونے والے پرویز مشرف، ایوب خان، یحیا خان، ضیا الحق کو ایک دُنیا جانتی ہے۔

گزرے کل کو چھوڑئیے کہ وہ کل ماضی ہوا، آنے والے کل کی بات کرتے ہیں؛ کیا ہم عہد کرتے ہیں، کہ ہم کسی ایسے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے، جس کا اخلاق اچھا نہ ہو؟ خواہ وہ ایسی سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو، جو ہمیں جی جان سے پیاری ہے۔ ایک بار ایسا کر دیکھیے، پھر یہ شکوہ نہیں رہے گا، کہ ہمارے نمائندے ہمی سے ووٹ لے کر، ہماری توہین کرتے ہیں۔ بدعنوانی کی داستانیں حقیقت ہیں یا نہیں، عدلیہ کے فیصلوں پر چھوڑ‌دیتے ہیں، لیکن ان غلیظ زبانوں کی حقیقت تو سبھی پر عیاں ہے۔ استغفر اللہ استغفر اللہ جاوید لطیف نے پریس کانفرنس میں جو کہا، اُس بات کے ذمہ دار وہ اکیلے نہیں ہیں، اُن کے حلقے کے وہ ووٹر بھی ہیں، جنھوں نے اُنھیں اسمبلی تک پہنچایا۔ مان لیتے ہیں، کہ انھوں نے اپنے ووٹروں کی اُمید پر پانی پھیرا، لیکن آئندہ الیکشن میں، یہ مراد سعید، یہ جاوید لطیف منتخب ہوئے، تو اس کا بار ان کے ووٹروں ہی پر ہوگا۔ استغفر اللہ استغفر اللہ؛ یہاں تو ہوا میں معلق ایک فوٹو شاپ کیا ہوا پتھر کروڑوں “لائکس” لے لیتا ہے، ایسے میں کس کس کو سمجھانے جائیں، علموں بس کریں اور یار۔

استغفر اللہ استغفر اللہ آخر میں اُن کا ذکر بھی ضروری ہے، جو میرے رسول حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ناموس کا خود ساختہ علم اٹھائے ہوئے ہیں، اور اخلاق میں ابو جہل سے بھی بدتر ہیں۔ میرا پیمبرؐ عظیم تر ہے۔

ایسے میں ہم بس اتنا مطالبہ کرتے ہیں، اور پر زور مطالبہ کرتے ہیں، کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگا دینی چاہیے، کیوں کہ ہم تو باز آنے کے نہیں، اور یہاں کیسی کیسی خرافات ہیں، جو ہمیں برہنہ کر دیتی ہیں۔ نہ رہے گی بِین، نہ بجے گا باجا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 317 posts and counting.See all posts by zeffer-imran