عورت کے احترام کے بغیر نہ جمہوریت چلتی ہے اور نہ تہذیب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میں نہیں کہنا چاہتا، کہنے کے بعد جو گل کھلائے گئے ہیں اور ایم این اے جاوید لطیف نے جس نفرت انگیز غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد پارٹی رکنیت سے معطلی ہی ایسی بیان بازیوں کا واحد علاج ہے۔ یہ کس دور میں رہ رہے ہیں؟ ان کا خیال ہے کہ اس طرح دوسرے کی ماں بہنوں پر فقرے کسنے کے بعد یہ خود زمانے میں معتبر ٹھہریں گے؟ یہ کیسی لڑائی ہے جس میں مار پیٹ کا بدلہ مائیک پر کھڑے ہو کر مخالف کی عورتوں سے لیا جائے گا؟
زمانے بھر کے بدگو اور تلخ کلام لوگ بھی اگر مائک پر کھڑے ہوتے ہیں تو تھوڑا سوچ کر سنبھل کر بات کرتے ہیں۔ سفید سروں کے ساتھ دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے والے کبھی اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے یہ سمجھ سے باہر ہے۔ اگر یہی سب کچھ مائک پر کھڑے ہو کر پریس کانفرنس میں ہونا ہے تو اس حرکت میں اور رات گئے تک چلنے والے سٹیج شوز میں کیا فرق رہ گیا؟
عورتوں کے عالمی دن پر کچھ بھی نہ لکھنے کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ روزانہ نصف انسانیت کو ہر طرح سے ذلیل کرنے کے بعد تین سو پینسٹھ میں سے ایک دن ان کے نام کرنے سے کیا فائدہ ہے۔ لڑائی مراد سعید کی ہے، مکا جاوید لطیف کے پڑا ہے، مسکرا مسکرا کر معافیاں دی جا رہی ہیں، کہا جا رہا ہے کہ بچہ ہے، اور اسی بچے کی ہمشیروں سے بدلہ لیا جا رہا ہے مائیک پر کھڑے ہو کر۔ انتہا ہے، بے شرمی کی، بے حیائی کی انتہا ہے۔ یا تو آپ معاف کر دیجیے اور کھلے دل سے اعلان کر دیجیے، یا پھر دس پندرہ برس دشمنیاں نبھائیے، جو مرضی کریں، لیکن سیاست کا یہ گھٹیا اور اوچھا ترین حربہ جو پہلے پیپلز پارٹی اور بے نظیر کے خلاف استعمال ہوتا تھا، یہ سب کچھ کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ معاشرتی اقدار آپ کو اس کی اجازت دیں گی۔
اخبارات یہ سب کچھ رپورٹ کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔ جس زمانے میں شیخ رشید پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو پر رکیک حملے کرتے تھے تو خبر بہت صاف ستھری اور تراش خراش کے بعد لگتی تھی۔ بعض اوقات خبر نہ لگ کر بھی بات پھیل جانے کے درمیان سینہ گزٹ اور دوسرے بہت سے مراحل ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنی جیب سے خرچہ کر کے پوسٹر چھپوائے جاتے تھے کہ ’فلاں مسلم لیگی لیڈر کی محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ہرزہ سرائی پر ہم سراپا احتجاج ہیں۔ منجانب، کارکنان پیپلز پارٹی۔‘ لیکن یہ چھپوانے والے بھی ’فلانے‘ لیگی لیڈر خود ہی ہوا کرتے تھے تاکہ سیاسی قیادت کے آگے نمبر ٹانکے جا سکیں۔ یہ سب کرنے اور اس پر خوش ہونے کا دور گزر چکا ہے۔ مسلم لیگ نواز کی سیاسی قیادت بلا شک و شبہ اس قدر ذہنی بلوغت ضرور رکھتی ہے کہ ایسے عناصر سے نمٹنا ان کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو گا۔ وہ جانتے ہیں کہ اخلاقی رذالت اگر سیاست میں در آئے تو اس کا انجام کہاں تک جاتا ہے۔ اور اب زمانہ بھی سوشل میڈیا کا ہے۔ جو کچھ ہو گا وہ سامنے ہو گا۔ چھپایا کچھ بھی نہیں جا سکتا۔
بات پاکستان کی نہیں ہے، دنیا بھر کے سیاسی رویوں کی ہے، عورت سال میں ایک دن قابل عزت ہوتی ہے اور یہ پوری دنیا کا وطیرہ ہے۔ صدر کلنٹن بخشے جاتے ہیں ان کا گھر بھی بچ جاتا ہے لیکن مونیکا لیونسکی آج بھی شاید انجان جگہ جا نہیں سکتی ہوں گی۔ شہزادی ڈیانا چارلس کو چھوڑتی ہیں اور پھر ان کی تصاویر بکینی میں بھی آتی ہیں، ان کا نام دو تین لوگوں سے جڑ کر اچھلتا بھی ہے، وہ ماری بھی جاتی ہیں لیکن بخشش نہیں ہوتی۔ ٹرمپ صاحب پہلی ملاقات کے بارے میں فحش ترین بیانات دے کر بچ نکلتے ہیں، یہی بیان کوئی خاتون سیاست دان کبھی دیں تو مغرب بھی انہیں سلٹ یا ہور سے نیچے کا درجہ نہیں دے گا۔
بے نظیر، مریم صفدر، ریحام خان، جمائما، کشمالہ طارق، حنا ربانی کھر، شرمیلا فاروقی سمیت جو بھی خاتون پاکستانی سیاست میں آئیں انہیں اسی قسم کے مردوں اور رویے کا سامنا کرنا پڑا جو آج یہ ایم این اے کر رہے ہیں۔ اگر اس سب پر بھی معذرت کی بجائے تاویلات پیش کی جائیں تو سمجھ لیجیے کہ نوے کی دہائی والی سیاست زندہ کرنے کی جو کوشش عمران خان صاحب ایک عرصہ ہوا کر رہے تھے وہ بس اب شروع ہوئی کہ ہوئی اور اس کا پہلا شکار بھی انہیں کی پارٹی ہے۔
مراد سعید کا ظرف کتنا ہے، بس یہ دیکھنا باقی ہے۔ خدا انہیں جواباً محتاط زبان استعمال کرنے کی توفیق دے۔ پورے ملک کا میڈیا ویسے بھی ان کے ساتھ ہے۔ بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں وہ تحریک انصاف ہو یا نواز لیگ ہو یا پیپلز پارٹی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain