جدید دور میں پاکستان کی ترقی کا راز


4ا اگست کا دن ہر سال آتا ہے اور گزر جاتا ہے اس دن قوم اکٹھے ہو کر اسے بطور تہوار مناتی ہے جلسے جلوس نعرے بازی اور تقاریر وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے لیکن بحیثیت قوم ہم اپنی آزادی کے 77 سالوں کا تجزیہ نہیں کرتے۔ اس میں آئے اتار چڑھاؤ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا اور نہ ہی ہم اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ تمام دنیا اب گلوبل ویلج کا حصہ ہے۔ سائنسی ترقی نے اقوام عالم کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ ماضی میں انسان کو معلومات تک رسائی کا عمل اتنا آسان نہیں ہوا کرتا تھا لیکن اب کمپیوٹرز پر بآسانی اور کم وقت میں دستیاب ہے۔ 77 سالوں میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا آج اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہماری منزل کیا ہے۔ آئیے اسی پیرائے میں دیکھتے ہیں کہ جدید دور میں پاکستان کی ترقی کے کیا عوامل ہیں جنہیں اپناتے ہوئے ہم ترقی کی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ تاکہ دوسری اقوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ہم بھی عزت و آبرو کے ساتھ چل سکیں۔

1۔ بدلتے حالات میں اقتصادی ترقی و تنوع پسندی: اس میں بھی سر فہرست صنعت و حرفت ہے۔ جن میں اشیاء کی تیاری و ترسیل، ٹیکنالوجی کے سیکٹر کا فروغ جس کے نتیجے میں ہماری زراعت پر دباؤ کم ہو۔ ہماری زیر کاشت زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بدولت تیزی سے سکڑتی جا رہی ہیں جب کہ دوسری طرف آبادی کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آئندہ ہمیں زراعت کے سیکٹر میں خاصی مشکلات کا سامنا درپیش ہو گا۔ کاشت والا رقبہ بھی تیزی سے سکڑ رہا، ہے جو سیم و تھور سے متاثر ہو رہا ہے۔ اسی لئے اس سیکٹر میں ہمیں مستقبل میں کافی مشکلات کا سامنا رہے گا۔

ا۔ صنعت و حرفت کے دوسرے جز حرفت پر ہماری توجہ مرکوز نہیں ہے۔ ہمیں اس، شعبے کے ڈھانچے پر خصوصی توجہ دین ہوگی تاکہ مال کی ترسیل ایک جگہ سے دوسری جگہ تیز تر ہو چین کی ترقی کا راز اس کے سائنس و حرفت کے ڈھانچے کا ہونا، اور اس پر منظم طور پر عمل درآمدکی وجہ سے ہے۔

ب۔ دوست ماحول تجارتی پالیسیوں کا ہونا: ہمارے ملک کی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے کاروباری طبقہ نہ صرف نالاں ہے بلکہ باہر سے ہمارے ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ دوبئی کی ترقی کا راز اس کی دوست ماحول پالیسیاں ہیں جہاں سرمایہ کار بے خوف و خطر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

ج۔ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی۔ ان کے لئے مالی و ٹیکنالوجی امداد مہیاکرنا۔

2۔ تعلیم اور مہارت:

ا۔ اس میں سب سے پہلے معیاری تعلیم میں سرمایہ کاری و معیاری تعلیم کا مہیا کرنا ہے۔ جس میں پرائمری، سیکنڈری سکولز و کالج بشمول یونیورسٹیز شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ ان اداروں تک ہر ایک انسان کی رسائی بھی شامل ہے۔

ب۔ مخصوص کاموں کے لئے درکار ہنر کی تعلیم، پاکستان دنیا کا ایسا ملک ہے جس کی کثیر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اگر ہم انہیں مختلف ہنرمند پروگرام بنا کر تربیت مہیا کریں جن کی دوسرے ممالک میں ضرورت ہے تو اس سے نہ صرف بیروزگاری میں کمی آئے گی بلکہ دوسری جانب یہی لوگ غیر ممالک سے ماہانہ ترسیلات زر میں اضافہ کا باعث ہوں گے۔

ج۔ تحقیق و اختراع: ہمیں ملک میں علاقائی سطح پر تحقیق و اختراع (ریسرچ اینڈ انوویشن ) مراکز بنانے کی ازحد ضرورت ہے۔

3۔ حکومت چلانے کے طور طریقوں میں جدت پسندی اور جمہوری ڈھانچہ کو اس کے پاؤں پر کھڑا کرنا: اس میں ہمیں سب سے پہلے رشوت کا ، قلعہ قمع کرنا، اس کے بعد بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینا اور اپنے عدالتی نظام کو از سر نو منظم کرنا اور اسے انصاف مہیا کرنے والے ادارہ کے طور پر کھڑا کرنا ہے اس کے لئے مدد فراہم کرنا ہو گی۔ تاکہ ہمارے معاشرہ میں انصاف کا بول بالا ہو۔

4۔ صحت: ہر شہری کو معیاری بنیادی صحت فراہم کرنا ریاست کا بنیادی فرض ہے۔ دیہی علاقوں میں صحت کی معیاری سہولیات کی عدم فراہمی سنگین مسئلہ ہے۔ اس میں پبلک ہیلتھ کیر کی فراہمی اور اس تک عوام کی رسائی بھی شامل ہے۔ جیسا کہ مشہور ہے پرہیز علاج سے بہتر ہے اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ بیماریوں سے روک تھام والی پالیسیوں کا اجراء بھی ازحد ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ صحت کے بارے میں عوامی آگاہی بھی ازحد لازم ہے۔

5۔ سماجی ترقی: اس مد میں غربت میں کمی کے علاوہ عوام کے حفاظتی پروگرامز، صنفی و نسلی مساوات پیدا کرنا، ان کے لئے ہر شعبے میں ملازمتیں پیدا کرنا، مختلف طبقات میں ہم آہنگی پیدا کر نا بھی شامل ہے۔ جو ہمیں ایک جامع معاشرہ کا حصہ بنا دے جس میں ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ حقوق بھی واضح ہوں۔

6۔ قابل برداشت و دیرپا ماحول میسر کرنا: دنیابھر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی اس سے متاثر ہے ہم درخت کاٹنے میں ماہر ہیں درخت لگانا اپنے لیے عذاب سمجھتے ہیں۔ ہمیں نئی انرجی کے ذرائع جیسے سولر پاور اور کئی دوسری انرجی کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنے ملک میں لانا اور اس کے استعمال کو عام کرنا ہو گا، قدرتی پانی کے ضیاع کو روکنا ڈیم بنانے ہوں گے، سیلاب کی روک تھام بھی کرنا ہے ورنہ ہمیں پانی کی سنگین کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

7۔ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن: اب ہمیں جدید دور کے لوازمات کو سمجھنا اور اپنانا ہو گا۔ اپنے کاروباروں کو نہ صرف ڈیجیٹلائزیشن کی طرف راغب کرنا ہو گا بلکہ اس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی تیار کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا بھی شامل ہے۔ انٹرنیٹ کی زیادہ سے زیادہ عوامی رسائی کے علاوہ ٹیکنالوجی کی امداد اور اس میں توسیع بھی شامل ہے۔ یہ جو آج کل آئی ٹی فائر وال لگانے کے دوران کھلواڑ ہو رہا ہے خدارا! حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور کاروبار کو مزید تباہی سے بچائیں اگر کسی نئی چیز کو متعارف کرانا، ہو تو پہلے اس کا تنظیمی ڈھانچہ تیار کرنا اس کے بعد بطور پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنا اسے جانچنا اور تمام خامیوں کو دور کرنے کے بعد اس کو لاگو کرنا جس میں ملکی کاروبار پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔

8۔ بین الاقوامی تعلقات و سفارتکاری: اپنے اہداف، مفادات اور ان کی حفاظت کرنا بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔ بدلتی دنیا میں اپنے مفادات کی حفاظت ہی اصل امتحان ہے۔

اگر ہم صدق دل سے مذکورہ پوائنٹس پر عمل شروع کریں تو انشاءاللہ ترقی کی جانب یہ درست قدم ہو جائے گا آج ہم اپنے حصے کا دیا جلاتے ہیں اور مادر وطن کے لئے کچھ کرنے کا سوچتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS