سی پیک سے جڑے بین الممالک تعلقات اور پاکستان کا مستقبل


دنیا کے بدلتے ہوئے حالات نے کئی اہم سفارتی تبدیلیوں کو بھی دیکھا ہے اور کئی تنظیمیں بھی علاقائی اور عالمی سطح پر اپنے اپنے دائرہ کار کو بڑھا نے کے لئے کوشاں ہیں۔ ایسے میں وہ تمام ممالک جو آپس میں گہرا تعلق اور تعلقات کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں ان کے لئے موجودہ تبدیلیوں سے گزرنا اور نئی راہیں تلاش کرنا قدرے آسان نظر آتا ہے۔ ان تعلقات میں مشترکہ مذہبی، سماجی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں اور مشترکہ مقاصد اور مشترکہ ترقی کا حصول بھی اہمیت کا حامل ہے۔

ایسے ہی تین ممالک پاکستان، چین اور سعودی عرب ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین اور عرب دنیا کے تعلقات نے بے پناہ ترقی حاصل کی ہے اور دونوں ممالک کی ماضی میں مشترکہ بین الممالک ہم آہنگی اور احترام نے جہاں تجارتی تعلقات کو بڑھانے مٰیں اہم کردار ادا کیا ہے وہیں یہ سہولت بھی پیدا کی ہے کہ چین کے پیش کردہ عالمی ترقی کے منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر دنیا کی تقدیر بدلنے کے راستے پر گامزن ہوا جا سکے۔

دوسری جانب پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہیں جن کی جڑیں تاریخی ہیں۔ یہ تعلقات مشترکہ مذہبی اقدار کی وجہ سے مضبوط ہیں جو مشکل حالات میں باہمی تعاون کی خصوصیات کی بدولت ایک دیرینہ شراکت داری لئے ہوئے ہیں۔ رواں سال اپریل میں وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی قیادت میں سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والی گزشتہ ملاقات کے دوران دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمت کے ضمن میں تھا۔

پاکستان نے سعودی عرب کو 25 منصوبوں کی تجویز پیش کی تھی جن میں مجموعی طور پر 32 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہونا تھی جس میں 2 ارب ڈالر کا ریل لنک بھی شامل ہے۔ چونکہ پاکستان معاشی طور پر ایک اہم موڑ پر ہے، اس لیے خصوصی سرمایہ کاری کی سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کا قیام پاکستان کے معاشی ارتقاء میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایس آئی ایف سی کا قیام معاشی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی کشش کے لیے پاکستان کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایس آئی ایف سی کی سعودی عرب سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کی طرف ایک قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ چین اور پاکستان کے تعلقات کی بات کی جائے تو یہ تعلقات 1951 میں اپنے سفارتی تعلقات کے آغاز سے ہی اعلیٰ سطح پر رہے ہیں اور ان میں بے مثال استحکام دیکھا گیا ہے۔ جہاں تک سماجی اور انسانی ترقی کا تعلق ہے، چین پاکستان کے لیے ایک رول ماڈل ہے جہاں ایک نسل کے وقفے میں چین کی معیشت کا رخ مڑنا ایک ایسا سبق ہے جسے پاکستان سیکھنے کی کوششوں میں ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری مسلسل دو طرفہ تعلقات اور اس شراکت داری کا ثبوت ہے جو اقتصادی دائرے سے باہر تک پھیلی ہوئی ہے۔ سی پیک ایک ایسا اقدام ہے جس کا مقصد چین اور اس کے ہمسایہ علاقوں کے درمیان بامعنی تعاون کو فروغ دینا ہے، جس سے نہ صرف چین بلکہ مغربی، وسطی اور جنوبی ایشیا کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اسٹریٹجک اہمیت کا جائزہ تاریخی، اقتصادی، ثقافتی اور جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے جیت کی صورت حال کے اصول کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

مستقبل کو دیکھتے ہوئے، ایسا لگتا ہے کہ چین اور پاکستان تعمیری پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے، جو ان کے باہمی فائدہ مند تعلقات کی بدولت ہے۔ سی پیک چین اور پاکستان کے تعلقات میں دو اہم رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران اقتصادی تعاون کی ایک طویل تاریخ، جس نے بڑے منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے مضبوط اعتماد پیدا کیا ہے اور اب یہ اپنے عوام کے لیے ایک خوشحال اور مستحکم مستقبل کے لیے مشترکہ امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان، چین اور سعودی عرب کا مشترکہ اتحاد کثیر الجہتی تعاون کے عزم کو اجاگر کرتا ہے جو روایتی دو طرفہ تعلقات سے بالاتر ہے۔ یہ سہ فریقی نقطہ نظر مشترکہ ترقی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہر ملک کی منفرد طاقتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ سعودی عرب تیل کے دائرے سے آگے بڑھ کر معیشت کو متنوع بنانے کا انتخاب کر رہا ہے۔ ان تبادلوں کے ذریعے تشکیل پانے والے اسٹریٹجک اقتصادی اتحاد پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔

توانائی، کان کنی اور مینوفیکچرنگ پر توجہ مرکوز کر کے، ان اقدامات کا مقصد پاکستان کی معیشت کو فروغ دینا اور طویل مدتی ترقی کی بنیاد رکھنا ہے۔ جن کے مکمل نفاذ کے بعد توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ خطے میں روزگار اور ہنر مندی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔ سی پیک کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کو دیکھا جائے تو ایک خدشہ سبز معیشت پر مشتمل منصوبوں کا کم ہونا ہے جس کے لئے اب کوششیں تیز کر دی گئی ہیں جن کے ثمرات بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے، پاکستان اور چین گرین سی پی ای سی کی جانب بڑھ رہے ہیں جو ماحولیاتی پائیداری پر مرکوز ہے۔ چونکہ چین پہلے ہی سی پیک کے تحت پاکستان میں نمایاں سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس لیے پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کی اقتصادی وابستگی باہمی خوشحالی اور قابل اعتماد مستقبل کے عزم پر مبنی ان تعلقات میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرے گی۔ اس پہلو میں، پاکستان کا اسٹریٹجک محل وقوع، جس میں گوادر کی اہم بندرگاہ بھی ہے اس شراکت داری میں پاکستان کو بھر پور فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

سہ جہتی اتحاد محض ایک سفارتی یا تجارتی معاہدہ نہیں ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک تعاون ہے جس کا مقصد علاقائی استحکام اور معاشی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ شراکت داری علاقائی سلامتی اور اقتصادی ترقی دونوں کو یقینی بنائے گی۔ تاہم، علاقائی اور عالمی خطرات اس اتحاد کو کمزور کرتے آئے ہیں اور شاید اب بھی یہی کوشش کریں اسی لئے سفارتی اور اقتصادی سہ فریقی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اور آگے بڑھنے کے لیے اس نئے ماحول میں ممالک کا عزم ضروری ہو گا۔

Facebook Comments HS