سلطنت عمان کے ایک گاؤں کا احوال
سلطنت عمان کا سب سے بلند پہاڑ ”جبل اخضر“ ہے جس کی انتہائی بلندی 3018 میٹر ہے۔ جبل اخضر کے سینے پر تار کول بچھی سڑک تھی۔ سڑک کے ایک طرف پہاڑ اور دوسری طرف گہری کھائیاں تھیں۔ یہ گہری کھائیاں سرسبز درختوں سے اٹی ہوئیں تھیں۔ کھائیوں کی دیواروں سے کہیں کہیں چشمے پھوٹ رہے تھے جو درختوں، بیلوں اور جنگلی پودوں کو سیراب کرتے ہوئے پاتال میں بہتی ہوئی منحنی سی ندی میں گر رہے تھے۔ سینکڑوں فٹ کی بلندی سے نیچے دیکھو تو ندی کا دودھیا پانی تحیر میں مبتلا کر دیتا تھا۔
زمین پر کھینچا ہوا ایک خط سپید تھا جس کے اطراف میں سرسبز درختوں کی ایک باڑ تھی۔ ہم سطح سمندر سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ دل پیدل چلنے کو آمادہ نہیں تھا مگر کیا کیجئے ”العین“ بانہیں پھیلائے ہمیں اپنی طرف بلا رہا تھا۔ ہم لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے جبل اخضر پر واقع گاؤں ”العین“ سے بغل گیر ہو گئے۔ گاؤں کے مرکزی راستے سے گزرتے ہوئے ہمیں اطراف میں ایستادہ قدیم ویران گھر دکھائی دیے۔
یہ گھر قدیم طرز تعمیر کے نادر نمونے تھے۔ گھروں کی چھت انسانی قد کے برابر تھی۔ لکڑی کے پست قامت دروازے، دیواروں میں روشنی اور ہوا کے لیے جڑی ہوئیں لکڑی کی کھڑکیاں گزرے زمانے کے نوحے پڑھ رہی تھیں۔ گلی میں سے گزرتے ہوئے میں نے ایک کھڑکی میں سے اندر جھانکا تو وحشت اور اندھیرے کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا۔ گاؤں کے مرکزی راستے سے گزرتے ہوئے محسوس ہو رہا تھا کہ ہم کسی آسیب زدہ بستی سے گزر رہے ہیں۔ مرکزی راستے کے اختتام پر ہمیں ایک ایک کنال کے کھیت دکھائی دیے جہاں عمانی کسان کسی چوپائے کے بغیر روایتی طریقے سے ہل چلا رہے تھے۔
عمانی کسانوں کے اس مختصر ”زرعی رقبے“ کو دیکھ کر مجھے پاکستانی کسانوں کے وسیع زرعی رقبے یاد آ گئے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا نے ہمیں زرخیز اور کشادہ زمینیں عطا کیں ہیں۔ کھیتوں کے بیچوں بیچ سیمنٹ کا بنا ہوا یک ”کھالا“ تھا جو پگڈنڈی کا بھی کام دے رہا تھا۔ ہم اس سیمنٹ کی پگڈنڈی پر ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے درختوں کے ایک جھنڈ کی طرف چلنے لگے۔ پگڈنڈی کے اطراف میں انار کے کچھ درخت ایستادہ تھے جن کی شاخیں پھلوں سے لدی ہوئی تھیں۔
شاخوں پر جھولتے یہ انار عمان کی مرکزی منڈیوں میں فروخت نہیں ہوتے بلکہ عمانی کسان پارکنگ ایریا میں فروٹ اسٹالز لگا کر سیاحوں کو مناسب داموں بیچ دیتے ہیں۔ یہ انار میٹھے اور رسیلے ہوتے ہیں۔ جن کو سیاح ہاتھوں ہاتھ خریدتے ہیں۔ کچھ دیر بعد ہم درختوں کے جھنڈ میں سے گزر رہے تھے شاخوں کا سائبان ہمارے سر پر تھا۔ پھلوں سے لدی شاخیں اور شاخوں پر بیٹھے طیور ہمیں فطرت کے حسین زمزمے سنا رہے تھے۔ کانوں میں شہد گھولتے فطرت کے یہ ”تان سین“ مقامی تھے۔
درختوں کے جھنڈ کے دوسری طرف ایک تالاب تھا جو چشموں کے پانیوں سے لبالب بھرا ہوا تھا۔ تالاب میں عمانی نوجوان اشنان کر رہے تھے ہم نے بھی ”بہتی گنگا“ میں ہاتھ اور منہ دھوئے۔ پتھروں کا سینہ چیر کر بلندی سے گرتے ہوئے یہ چشمے ہمیں اشنان کے لیے اکساتے رہے لیکن ہم نے ایک نہ سنی۔ دن ڈھل رہا تھا۔ اس سے پہلے کے شام اپنے سرمئی پر پھیلاتی ہمیں سطح سمندر سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع اس گاؤں کو خدا حافظ کہہ کر میدانی علاقوں کی طرف سفر کرنا تھا۔


