ریفریشر کورس :دینی تعلیم دینے کے عوض معاوضہ حرام شد


صبح اٹھے تو طبیعت ہشاش بشاش تھی۔ نہا دھو کر, ناشتہ کر کے اسمبلی کے لیے سائنس روم جا بیٹھے۔ منشا صاحب نے قرآن پاک کی ایک سورۃ کی تلاوت کی اور اس کے بعد ایک حدیث پڑھی کہ جو آدمی علم رکھے اور دوسروں تک اس علم کو نہ پہنچائے وہ گنہگار ہے۔ ہم اس حدیث کو سن کر خوش ہوئے کہ ہمارا تو کام ہی یہی ہے کہ اپنے علم کو متواتر اور مسلسل دوسروں تک پہنچاتے رہیں۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے ایک اور حدیث پڑھی جس کے مطابق وہ شخص جو دوسروں کو علم سکھاتا ہے اور اس کے بدلے کے طور پر ان سے مالی فائدہ حاصل کرتا ہے۔ وہ سزائے سخت کا حقدار ہو گا۔ اس حدیث کو سن کر سخت پریشانی ہوئی کہ ہم تو یہ کام بھی کرتے ہیں۔ ٹیوشن کا کام خالص طور پر اسی زمرے میں آتا ہے۔ ادھر اُدھر باقی حضرات پر نظر دوڑائی۔ سب لوگ مطمئن نظر آرہے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس زد میں صرف ہم ہی آتے ہیں۔ آج تک یہی سوچ کر دل کو خوش کرتے رہے تھے کہ اگر حقوق العباد کا خیال رکھتے جائیں تو شاید حقوق اللہ کی اسی سلسلے میں تلافی ہو جائے۔ مگر اب تو ہمیں سینکڑوں شاگرد ہمارا گریبان پکڑے ہوئے نظر آ رہے تھے اور ہم ابھی اسی تذبذب میں تھے کہ مستقبل میں کیا راہ اختیار کی جائے۔ منشا صاحب نے وضاحت کی کہ علم سے مراد قرآن اور حدیث کا علم ہے۔ یہ سن کر اوسان بحال ہوئے۔ لیکن آئندہ کے لیے تہیہ کر لیا کہ ٹیوشن ٹائم میں اسلامیات نہیں پڑھائیں گے۔

اس کے بعد ریاضی میں جا بیٹھے سر نے مستوی کی تحویلات والا سبق شروع کر دیا۔ وہ مختلف تعریفوں کی اپنی کاپی سے نقل کر کے بلیک بورڈ پر لکھتے جاتے تھے۔ ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے مولوی صاحب کو جوش آیا اور انہوں نے کھڑے ہو کر سوال داغ دیا کہ سر ہم نے تین یا چار مضامین پڑھانے ہوتے ہیں اور اگر کلاس میں ہم کوئی چیز کتاب سے دیکھ لیں تو ہمارے شاگرد شور کرتے ہیں کہ ٹیچر کو کچھ نہیں آتا۔ جبکہ آپ نے صرف ایک ہی پیریڈ پڑھانا ہوتا ہے اور وہ بھی آپ نقل لگا کر پڑھاتے ہیں۔ سر بے چارے خاصے پریشان ہوئے اور آئیں، بائیں، شائیں کرنے لگے۔ اس موقع پر ہم نے ان کی مدد کی اور صوفی صاحب کو بتایا کہ جب ہائی سٹیج پر لیکچر دیے جاتے ہیں تو نوٹس سے مدد لی جاتی ہے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں اور اس طرح ان کی جان چھوٹی۔ اس کے بعد تناسب کی خصوصیات کو ثابت کرنا تھا۔ پہلی خاصیت ہم نے ثابت کی۔ ہم نے جان بوجھ کر دو تین اقدامات کی وضاحت مولوی صاحب سے چاہی اور جب انہوں نے جواب غلط دیا تو ان کو جھاڑ کر سر کے کاغذوں پر اپنے نمبر اور بڑھا دیے۔ اسی پیریڈ میں ہمیں اطلاع مل چکی تھی کہ آج فزکس کا سپیشل لیکچر ہو گا جس کے لیے اسلام آباد سے ایک ڈاکٹرصاحب کو بلایا گیا تھا۔

دوسرے پیریڈ میں ہم دیر سے پہنچے لیکچر شروع تھا۔ عینک لگائے درمیانے قد، درمیانے جسم، اور درمیانے ہی رنگ کے درمیانے سے آدمی ایٹم کی ساخت کی وضاحت فرما رہے تھے۔ ہمیں کل کی بے عزتی والا غصہ تھا۔ ہم نے جاتے ہی ان صاحب کو پکڑ لیا اور سوال داغ دیا کہ نیوکلس میں پروٹون موجود ہوتے ہیں۔ کولمب کے قانون کے مطابق یہ ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں نیوکلس کے باہر الیکٹران ہوتے ہیں۔ جو ان پروٹان کو کشش کرتے ہیں۔ تو ایٹم ٹوٹ کیوں نہیں جاتا۔ کون سی قوت ہے جو ایٹم کے وجود کو برقرار رکھتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بڑے سٹپٹائے۔ فرمانے لگے۔ بہت سی تھیوریز ہیں جو اس سلسلے میں پیش کی جا سکتی ہیں مگر حتمی طور پر کوئی نہیں۔ اتنی سستی جان چھوڑنے والے ہم بھی نہیں تھے۔ ہم نے کہا آپ کوئی ایک تھیوری بتا دیں۔ مگر وہ صاحب نہ بتا سکے۔ ہم کھڑے رہنے پر مصر تھے۔ لیکن باقی دوست اشارے کر رہے تھے کہ بیٹھ جاؤ اتنا کافی ہے۔ ہمارا کل بیالوجی کے پیریڈ والا غصہ اتر چکا تھا۔ ہم خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے لیکچر آگے چلایا اور فرمایا کہ ایٹم میں بانوے بنیادی ذرات ہیں۔ ہمارے پھر کھجلی ہوئی۔ ہم نے سوال داغ دیا کہ ان کے متعلق کیسے پتا چلا۔ کیا انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ فرمانے لگے نہیں دیکھا جاسکتا۔ بہر حال ایسا ہے بے چارے ایک بار پھر پٹ چکے تھے۔ اب ان بانوے ذرات میں ایک ذرے الیکڑنیو کا ذکر کر رہے تھے۔ کہ اس پر منفی چارج ہوتا ہے۔ لیکن کمیت کچھ نہیں ہوتی۔ ہم نے پھر پوچھ لیا کہ اگر اس کی کمیت نہیں ہوتی تو چارج کس چیز پر ہوتا ہے۔ کیا چارج بذاتِ خود کوئی چیز ہے۔ موصوف پھر گھبرا گئے۔

بہرحال پیریڈ کے شروع میں ہی ہم ان کے پاؤں اکھاڑ چکے تھے۔ اب جب وہ آگے چلے تو کچھ اور لوگوں نے بھی ہماری پیروی کی اور انہیں بالکل ہی ناک آؤٹ کر دیا۔ بہرحال خدا خدا کر کے انہوں نے اور ہم نے اپنی اپنی جان چھڑوائی۔ انہیں رسماً کل کے لئے بھی لیکچر دینے کی دعوت دی گئی۔ جو انہوں نے قبول کر لی۔ تین دن مسلسل پڑھتے رہنے سے ہم اکتا چکے تھے۔ ذہن پر علمی بوجھ کافی بڑھ چکا تھا۔ اور ہم محسوس کر رہے تھے کہ اس ہفتے ہم نے اپنی بساط سے بڑھ کر علم حاصل کر لیا ہے اور مزید تحصیل علم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ذہن کے ساتھ ساتھ اوٹ پٹانگ قسم کے کھانوں کی وجہ سے معدہ بھی جواب دے چکا تھا۔ اس لیے مناسب یہی سمجھا کہ یہاں رہ کر مستقل طور پر بیمار ہونے سے بہتر ہے کہ باقی ہفتہ گھر جا کر آرام کیا جائے۔ تاکہ اگلے ہفتے تازہ دم ہو کر اس بحر علم میں غوطہ زن ہونے کے قابل ہو سکیں۔ چنانچہ اسی پروگرام کے تحت شام کو واپسی ہوئی اور دس بجے رات کے قریب گھر پہنچ گئے۔

Facebook Comments HS