ایک سوال ایک جواب ۔۔ ڈاکٹر بلند اقبال
سوال: مجھے اکثر پاکستان کے ان لوگوں پر حیرانی ہوتی ہے جو باقاعدہ سائنس کے اسٹوڈنٹس رہے۔ اپنے شعبے کی اہم ڈگریاں لیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ سائنس سے زیادہ مذہب پر یقین کیوں رکھتے ہیں۔ یہ کیا کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے؟ یا ہمارے ہاں کا تعلیمی معیار اتنا پست ہے، مجھے وجہ سمجھ نہیں آتی ہے؟ (توصیف خان)
جواب: توصیف میرا ماننا ہے کہ، مذہب کا حل سائنس کے پاس نہیں ہے۔ ان کا آپس میں کوئی تصادم بھی نہیں ہے کیونکہ دونوں کی فیکلٹیز قطعی مختلف ہیں۔ سائنس کا تعلق مٹیریل یا فزیکل ورلڈ سے جبکہ مذہب کا تعلق ام مٹیریل یا میٹا فزیکل ورلڈ سے ہے۔ ان دونوں کے جغرافیے قطعی طور پر مختلف ہیں۔ مذہب کی ضرور کچھ خوامخواہ قسم کی ان سیکیورٹیز ہیں جس کی وجہ سے وہ سائنسی نقطہ نظر سے خود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر یہ معاملات صرف میڈیا کر قسم کے مولویوں تک ہی محدود ہیں۔ سنجیدہ مذہبی عالم ایسی بحثوں میں نہیں پڑتے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ اس قسم کی بحث اتنی ہی بیکار ہے جیسا کہ سائنس کے تجربات سے خدا کے خیال کی مادی موجودگی کو کسی لیبارٹری میں ثابت کرنے کی کوشش کرنا۔ مذہب کا اصل میں عقلی رقیب تو ”فلسفہ“ ہے کیونکہ فلسفہ تشکیک یا اسکیپٹزم (تشویش یا شبہ ) کی بنیاد پر اپنی عمارت کھڑی کرتا ہے جبکہ مذہب اندھے ایمان یا بلائنڈ یقین پر۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً مذہبی معاشروں میں سیاسی ریزن کی وجہ سے فلسفیانہ فکر کی ہمت افزائی نہیں کی جاتی بلکہ اسے اکثر و بیشتر مذاق میں اڑا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں فلسفیانہ ذہن اسی لیے ناپید ہے اور اسلامی تاریخ میں امام غزالی جیسے مذہبی عالموں نے اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا کیونکہ یونانی فلسفے کے عروج کے ادوار میں اس نے مغرب میں مذہبی فکر کی بنیادیں اچھی طرح سے ہلا دی تھیں وہ تو بعد میں عیسائیت ”بکھرتی ہوئی یونانی تہذیب“ کی سیاسی و سماجی ضرورت بن گئی اور یوں کرسچینٹی کو نئی زندگی مل گئی ورنہ عیسی علیہ اسلام کا نام ان کی صلیب کے ساتھ ہی رخصت ہوجاتا۔ سینٹ تھامس اکیونا اور اگسٹائین نے کرسچینٹی کو غزالی کی طرح دوام بخش دی۔ بس فرق یہ ہی ہے کہ غزالی نے فلسفیانہ فکر کو مکمل رفیوز کر کے اسلامی فکر کو زندگی دی جبکہ اکیونا اور اگسٹائین نے ”مذہبی فلسفہ“ ایجاد کر کے کرسچینٹی کو لائف دے دی مگر پھر جسے بعد میں مغرب کی اصل فلاسفیکل دنیا نے ردی کی ٹوکری کے نذر کر دیا۔
رابلم یہ ہوا کہ بعد میں جب فلسفے کی بنیادوں نے سائنس کی مضبوط عمارت کھڑی کردی تو فلسفے کی اپنی فکری ضرورت ختم ہوتی چلی گئی یا یہ سمجھیے اس کی پریکٹیکل ضرورت ختم ہو گئی یہی وجہ ہے کہ مذہبی فکر کا اصل حریف غائب ہوتا چلا گیا یا اس کا براہ راست کلیش ختم ہو گیا اور جب پرانی قبائلی سوسائٹیز میں یہ سائنس مغربی دنیا سے ہجرت کر کے پہنچی تو انہوں نے سائنس کو وقت کی ضرورت کے لحاظ سے فوراً ہی اپنا لیا۔ اچھا مذہبی سوسائٹیز کے سائنس دانوں اور طالبعلموں کے ساتھ یہ ہوا کہ چونکہ فلسفے یا اسکیپٹک مائنڈ سے ان کی تربیت ہی نہیں ہوئی تھی یا وہ اس کے ارتقا میں باضابطہ شامل ہی نہیں رہے تھے اس لیے انہوں نے با آسانی مذہب کو اپنے میٹا فزیکل والے یا ایمانی حصے میں اور سائنس کو ”فزیکل برین“ میں جگہ دے دی اور جیسے تیسے تاویلات سے کام چلانے لگے اور جہاں جہاں مذہب اور سائنس کی انٹگریشن کی انہیں وضاحت نہیں ملتی وہ اس لاعلمی کو خداوند کے صغیے کے حوالے کر دیتے اور کندھے اچکا لیتے۔
بھائی اس بارے میں میرا نقطہ نظر تو یہی ہے مگر ظاہر ہے میری کم علمی کہیں نا کہیں پوری طرح اس بات کی وضاحت کرنے سے قاصر ہے۔ ممکن ہے اس جواب کو پڑھنے والے دوست اس حوالے سے کچھ مزید رہنمائی فرمائیں۔


