پی ٹی ایم تحریک: مطالبات اور خدشات

پختون تحفظ مومنٹ تحریک اب باضابطہ ایک شکل اختیار کرچکی ہے اور پختون بیلٹ میں بیداری کے اثرات سے انکار بھی ممکن نہیں ہے۔ امن پاسون کے نام سے جہاں بھی کوئی احتجاج ہوتا ہے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس میں شریک ہوتی ہے۔ نفرت، غصہ اور تعصب کے جذبات کا اظہار دراصل ردعمل کے نفسیات کا ہی اثر ہے جس کا ادراک اگر ریاستی ادارے اور حکمران نہیں کرتے تو یہ بہت بڑی حماقت ہوگی۔ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج اور عدم اعتماد کی فضا ملک و قوم کے لئے کوئی نیک شگون ہر گز بھی نہیں۔ ہمارا اس سے مکمل اتفاق ہے کہ سچائی جاننے کے لئے ایک کمیشن کا قیام جو تمام حالات اور واقعات کا پتہ کرے کہ اس سب کی بنیادی وجہ کیا ہے اور حالات کی خرابی میں ملوث کون کون ہیں۔
مسنگ پرسنز کی بازیابی اور عدالتوں میں پیشی
قبائلی علاقہ جات میں بچھائی گئی مائنز کی صفائی
جتنے بھی نقصانات ہوچکے ہیں اس کی تلافی اور معاوضے کی ادائیگی
مقامی وسائل پر مقامی لوگوں کی ملکیت کو تسلیم کر کے فائدہ انھیں دینا۔
ان بڑے مطالبات کو منوانے کے لئے ساتھ یہ وضاحت بھی کہ ہماری تحریک سراسر آئینی، قانونی، جمہوری لیکن غیر سیاسی ہوگی۔ یعنی کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔ یہاں تک تو بات واضح ہے اور مطالبات معقول ہیں جس کی تائید نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی لیکن جب آگے سے ان کے لوگوں کی طرف سے یہ للکار بھی سامنے آتی ہے کہ۔ ”ط ا ل ب ا ن نے تخت کابل پر غیر قانونی، غیر جمہوری اور غیر شرعی طریقہ سے قبضہ کر کے بزور شمشیر اپنی حکومت ہم پہ مسلط کی ہوئی ہے اور ہماری شناخت کی تسلیم ہونے تک ان سے بات نہیں ہو سکتی۔“ تو یہاں پھر سوال ضرور اٹھتا ہے کہ بابا، آپ کی تحریک پختونوں اور خاص کر قبائلی علاقہ جات کے حقوق کی حصولی، زیادتیوں کی روک تھام اور امن وامان کے بحالی کی مزاحمتی جدوجہد ہے یا افغانستان تک کے معاملات میں فریق بننے کی ”نظریاتی تحریک“ ہے یعنی قوم پرستانہ جدوجہد اور ”پختونستان“ کا قیام جس کی خمیر میں ”کمیونزم“ کے جراثیم موجود ہوں۔ اب تک پی ٹی ایم کا جو بیانیہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ ”پختون بلٹ میں مسلسل بدامنی، دہشت گردی اور آپریشنز امریکی ایماء پر ڈالرز کی حصولی کے لیے ہوتے چلے آرہے ہیں“ قطع نظر اس کے کہ اس سے کتنا اتفاق یا اختلاف ہے لیکن اسی کے تناظر میں اہم ترین سوال وضاحت طلب یہ سامنے آتا ہے کہ یہاں تو بیانیہ میں مکمل تضاد نظر آتا ہے۔
افغانوں کا بیانیہ یہ ہے کہ سات سمندر پار سے امریکہ نے جارحیت کر کے ہمارے ملک پر قبضہ جما لیا اور چند مفاد پرستوں اور اقتدار پرستوں کی ایک کٹھ پتلی حکومت بھی لا کھڑا کی، جس کے خلاف انھوں نے مزاحمت اور جدوجہد کی ٹھان لی اور لازوال قربانیوں اور استقامت کی مثالیں قائم کر کے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر کے اسے افغانستان سے باہر نکال کر اپنی حکومت قائم کرلی۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ یہاں پاکستان میں امریکی مداخلت نامنظور، اس کے سہولت کار قابل گرفت اور مزاحمت کرنے والے آزادی کے متوالے لیکن افغانستان میں امریکی جارحیت جائز، اس کے سہولت کار قابلِ تعریف اور مزاحمت کرنے والے دہشت گرد اور ان کی تحریک اور جدوجہد غیر قانونی، غیر جمہوری اور غیر شرعی۔
کہنا یہ ہے کہ اگر منظور پشین اور پی ٹی ایم کی تحریک واقعی اپنے حقوق کی حصولی اور زیادتیوں کے روک تھام کے لیے ہی ہے تو دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے گریز کرنا بہتر رہے گا۔ بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ تحریکیں اپنی منزل کھو دیتی ہے اور ادھر ادھر کی پگڈنڈیوں پر چل کر گمراہ ہو چلی جاتی ہیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ ان کے ساتھ ماضی کے جو سابقے جڑے ہوئے ہیں یعنی قوم پرست، کمیونسٹ، پختونستان، غداران اور روسی، ہندوستانی و کابلی آلہ کاران ( ہمارا اس سے اتفاق ہے یا نہیں وہ الگ موضوع ہے ) اس سے اپنی جان چھڑانی ہوگی اور اپنی جدوجہد کو متعین اور محدود کرنی ہوگی۔
تشخص کی بہتری عملی جدوجہد، اس کے طریقہ کار، حکمت عملی اور مظاہر ہی سے بہتر ہوگی۔ تحریکوں میں جب انتہا پسندانہ اور متشددانہ خیالات کے حاملین کا اثر زیادہ ہوتا ہے تو وہ اپنے مقاصد بھی کھو بیٹھتی ہیں اور پہاڑوں سے سر ٹکرا کر بے جان ہو کر دھڑام سے گر جایا کرتی ہیں پشتین صاحب، تحریک غیر سیاسی ہے تو آگے بڑھ کر اسے غیر نظریاتی بھی ثابت کرنا ہو گا اور ساتھ اسے ریاستی مخالف بیانیے سے بھی نکلنا ہو گا۔

