خالد فرہاد دھاریوال اور پنجابی کہانی
پنجابی زبان کے ممتاز کہانی کار ملک مہر علی نے خالد فرہاد دھاریوال کے بارے لکھا ہے کہ: ”خالد نے کہانی ’گھر‘ لکھ کر خود کو امر کر دیا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ کچھ بھی نہ لکھے تو پنجابی ادب میں نام زندہ رہنے کے لئے یہی ایک کہانی کافی ہے۔“
’پنجابی کی کلاسیک کہانیاں‘ جو کہ پنجابی کے گرمکھی رسم الخظ میں شائع ہوئی ہے، اس میں پاکستانی پنجاب سے جو واحد کہانی شامل کی گئی وہ خالد کی کہانی ’گھر‘ ہے۔ یہ کہانی انگریزی، ہندی، اردو اور سندھی میں ترجمہ ہو چکی ہے۔
خالد فرہاد دھاریوال 10 جولائی 1978 کو ضلع سیالکوٹ کے شہر پسرور کے قریبی گاؤں ٹاوریانوالا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک کسان گھرانے سے ہے۔ وہ دیہاتی رنگ اور روایتی اقدار میں رنگے ہوئے ہیں۔ پرائیویٹ ملازمت کے دوران پورا پاکستان گھوم پھر کر دیکھ چکنے کے بعد بالآخر اپنا آبائی پیشہ کھیتی باڑی اختیار کرنے والا یہ مصنف جان گیا ہے کہ مٹی کا رنگ ہی اصل رنگ ہے۔
خالد فرہاد دھاریوال کی کتاب ’وٹاندرا‘ کا شمار پنجابی زبان کی اعلیٰ کتابوں میں ہوتا ہے۔ اس مجموعے پر اردو اور پنجابی کے شاعر ظفر اقبال صاحب نے پنجابی رسالے ’ترنجن‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اس مجموعے کی پہلی کہانی دنیا کی بڑی کہانیوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔
’وٹاندرا‘ میں موجود تمام کہانیاں اپنی وسعت بیان، مکالمہ نگاری، زبان کے تخلیقی استعمال، موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے بے مثال ہیں۔ پہلی کہانی تبدیلی مذہب کے بعد کی سماجی صورتحال کے باعث نفسیاتی خلجان میں مبتلا آدمی کی روئیداد ہے جو بالآخر مرکزی کردار کے پاگل ہو جانے پر ختم ہوتی ہے۔ پھر ایک نابینا عاشق کا قصہ ہے۔ آخری کہانی میں تقسیم ہند کے بعد لاہور میں رہ جانے والے ایک انگریز کے پاگل پن کا ذکر ہے۔ لیکن ’گھر‘ ایک لافانی کہانی ہے اور یہ حقیقت کے اتنی قریب ہے کہ آدمی کو موہ لیتی ہے۔
اس کہانی میں طلسماتی اثرات اس قدر موجود ہیں کہ جو بھی پڑھتا ہے اس کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ دراصل یہ کہانی ایک بوڑھی عورت کی خودکلامی ہے۔ جس میں وہ ایک عورت کو اس کے ہر ممکنہ رشتے کے حوالے سے دیکھ رہی ہے۔ اور عمر کے مختلف حصوں میں اس کی حیثیت کو جانچ رہی ہے۔ اور اس کے لئے ایک رہائشی ٹکڑا جسے وہ اپنا گھر کہہ سکے، کی متلاشی ہے۔ اس کہانی میں ایک جگہ خالد نے بڑھیا کی زبانی کہلوایا ہے کہ: ”رب دُھروں ای دھیاں دا ان پانی بیگانے گھر نہ لکھا ہوئے تے ماپے اک لُوں وی پٹ کہ نہ دیون ایہناں دا۔“ ترجمہ : ”خدا نے بیٹیوں کے نصیب میں ہی ہجرت لکھی ہوئی ہے۔ اگر والدین کے بس میں ہو تو وہ کبھی بھی انھیں نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔“
خالد فرہاد دھاریوال اپنی کہانیوں میں کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے ہاں ابنارمل کردار غیر شعوری طور پر جگہ پا جاتے ہیں۔ اس کا سبب شاید یہ ہو کہ نوجوانی میں وہ چند سال خود اس ذہنی کیفیت کا شکار رہے اور باقاعدہ علاج کے بعد ہی سنبھل پائے۔ ’گھر‘ کہانی کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ یہ میرے پاگل پن سے واپسی کے دنوں میں لکھی گئی تھی۔ شاید شعور اور لاشعور کی درمیانی سرحد پر کھڑے شخص کی تخلیق ہی دوام پا سکتی ہے۔
مشرقی پنچاب کے عصر حاضر کے اہم اور بڑے کہانی کار وریام سنگھ سندھو نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی بین الاقوامی کانفرنس میں طلبا کے ایک سوال کہ پاکستان میں آپ کا پسندیدہ پنجابی کہانی کار کون ہے؟ کے جواب میں کہا تھا کہ ”لہندے پنجاب وچ سب توں وڈا کہانی کار خالد فرہاد دھاریوال اے۔ اوہ سب توں سوہنیاں کہانیاں لکھدا اے۔“ ترجمہ: ”مغربی پنجاب میں خالد فرہاد دھاریوال سب سے اچھا کہانی کار ہے۔ وہ سب سے عمدہ کہانی لکھتا ہے۔“
اسی طرح پنجابی فکشن کا ایک اور بڑا نام پریم پرکاش بھی ان کی افسانہ نگاری کا معترف ہے۔ جالندھر میں مقیم پریم پرکاش اردو صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔ ماہنامہ ’پنجم‘ میں شائع ہونے والی کہانی پڑھ کر وہاں سے خالد کو توصیفی خط لکھا۔
خالد فرہاد دھاریوال لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کے مترجم بھی ہیں۔ دوسری زبانوں سے پنجابی میں کئی تراجم کیے ہیں جو پنجابی زبان کا اثاثہ ہیں۔
خالد فرہاد دھاریوال جیسا مخلص اور اپنی اصل سے جڑا شخص ہی اپنی تخلیقات میں معاشرے کی درست عکاسی کر سکتا ہے۔ کئی زبانوں پر عبور رکھنے کے باوجود وہ اپنی مادری زبان پنجابی میں لکھتے ہیں۔
دھاریوال اب کہانی کے عروج پر ہے۔ اس وقت پنجابی ادب خاص طور پر کہانی پر وہ قادر ہے۔
خالد فرہاد دھاریوال نے معروف ہندی ادیب اودے پرکاش کے ناولٹ ’موہن داس‘ کا ہندی سے پنجابی میں ترجمہ کیا ہے۔ اودے پرکاش سمیت کئی ہندی کہانی کاروں سے ان کی دوستی ہے۔ یہ ناولٹ ’سنگری‘ لاہور میں شائع ہوا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے 2017 میں دھرم ویر بھارتی کے ہندی ناول کا ”سورج دا ستوان گھوڑا“ کے نام سے پنجابی میں ترجمہ کیا جو ’ققنس‘ فیصل آباد نے شائع کیا۔ گزشتہ برس عتیق رحیمی کے ناولٹ کا ”بھوئیں تے بھس“ کے نام سے ترجمہ کیا۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے نوبل انعام یافتہ ادیب یان فوسے کے ایک ناولٹ کا پنجابی ترجمہ کیا ہے جو جلد ہی سانجھ پبلشرز لاہور سے شائع ہو گا۔ ان کے عالمی ادب کی منتخب کہانیوں کے پنجابی تراجم ادبی رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
ان کا ایک بڑا کام دوطرفہ پنجابی ادیبوں کی تخلیقات کی پنجابی قارئین تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ انہوں نے منتخب پنجابی ادب کو گرمکھی رسم الخط میں منتقل کر کے پاکستان سے باہر موجود پنجابی ادب کے وسیع حلقہ قارئین تک پہنچایا ہے۔ وہ اب تک کئی اہم ادیبوں کا کام گرمکھی میں شائع کروا چکے ہیں۔ پاکستانی پنجابی کہانیوں کا ایک انتخاب سنگم پبلشرز پٹیالہ سے ’چونویاں پاکستانی کہانیاں‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ سلیم خان گمی، افضل احسن رندھاوا، زبیر احمد، مقصود ثاقب، الیاس گھمن، ملک مہر علی، شہزاد اسلم اور دیگر پنجابی ادیبوں کی کتابیں گرمکھی رسم الخط میں شائع کروا چکے ہیں۔
اسی طرح گرمکھی رسم الخط میں لکھنے والے کئی پنجابی ادیبوں کی کتابیں پاکستانی قارئین کے لئے شاہ مکھی رسم الخط میں منتقل کر چکے ہیں۔ ان اپنی کہانیوں کا مجموعہ پنجابی کے گرمکھی رسم الخط میں ’کتھا اک کلجگ دی‘ کے نام سے سنگم پبلشرز پٹیالہ سے شائع ہو چکا ہے۔ جواب مشرقی پنجاب میں ایم اے پنجابی کے نصاب کا حصہ بن چکا ہے۔
اس مضمون کی تیاری کے دوران ان سے مختصر سوال و جواب تبادلہ بھی ہوا۔
سوال: پاکستان میں پنجابی ادب میں آپ کی پسندیدہ کتاب اور کہانی کار کون ہے؟
جواب :ملک مہر علی کا مجموعہ ’ڈھاہ لگی وستی‘ مجھے بہت پسند ہے۔ اس کے علاوہ گردیال سنگھ کا ناول ’مڑھی دا دیوا‘ ، زبیر احمد کا مجموعہ ’کبوتر بنیرے تے گلیاں‘ ، وریام سندھو کا مجموعہ ’دلدل‘ ، جندر کا ’سیفٹی کٹ‘ اور نین سکھ کا ناولٹ ’شہید‘ پنجابی ادب میں عمدہ اضافہ ہیں۔ نئے پنجابی فکشن نگاروں میں شہزاد اسلم، کرامت مغل اور نصیر احمد اچھا لکھ رہے ہیں۔
سوال۔ پنجابی شاعری میں کون کون پسند ہے؟
جواب:پنجابی کلاسیکی شاعری میں بابا فرید اور بلھے شاہ دل کے قریب ہیں۔ اس کے بعد شوکمار کی شاعری پسند ہے۔ عصر حاضر کے شعراء میں ظفر اقبال (ہرے ہنیرے ) رفعت عباس، اشولال، تجمل کلیم، قمرالزمان، افضل ساحر اور سرجیت پاتر پسند ہیں۔
سوال:عالمی ادب میں کون اچھا لگتا ہے؟
جواب:عالمی ادب میں ایتالو کالوینو، لیوگی پیراندیلو، خوان رولفو، گابریل گارسیا مارکیز، یوسف ادریس، اودے پرکاش، پیرومل موروگن، اسد محمد خان، میلان کنڈیرا، ماریو برگس یوسا کا فکشن مجھے پسند ہے۔
سوال:ان دنوں کیا لکھ رہے ہیں؟
جواب :کھیتی باڑی جیسے مشقت بھرے کام کے دوران پڑھنے کے لئے تو وقت نکل ہی آتا ہے لیکن اپنے تخلیقی کام کے لئے فرصت کے لمحے چرا پانا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ بہرحال آج کل اپنے دوسرے مجموعہ کی کہانیوں پر کام کر رہا ہوں اور ساتھ ایک ترجمہ پر بھی کام چل رہا ہے۔
خالد فرہاد دھاریوال کو ان کی ادبی تخلیقات پر متعدد ادبی انعامات مل چکے ہیں۔ جن میں مسعود کھدر پوش ایوارڈ، پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ، علی ارشد میر ایوارڈ، سلیم خان گمی ایوارڈ، اور رضیہ فرخ کہانی ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کی کہانیاں ہندی، انگریزی، اردو اور سندھی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہیں۔ پنجابی کے معتبر نقادوں نے ان کی تخلیقات پر لکھا ہے۔ جالندھر سے شائع ہونے والے پنجابی ادب کے مؤقر جریدے ’شبد‘ نے ان کے فن اور شخصیت پر خصوصی شمارہ شائع کیا۔


