خالد فرہاد دھاریوال اور پنجابی کہانی

پنجابی زبان کے ممتاز کہانی کار ملک مہر علی نے خالد فرہاد دھاریوال کے بارے لکھا ہے کہ: ”خالد نے کہانی ’گھر‘ لکھ کر خود کو امر کر دیا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ کچھ بھی نہ لکھے تو پنجابی ادب میں نام زندہ رہنے کے لئے یہی ایک کہانی کافی ہے۔“ ’پنجابی کی کلاسیک کہانیاں‘ جو کہ پنجابی کے گرمکھی رسم الخظ میں شائع ہوئی ہے، اس میں پاکستانی پنجاب سے جو واحد کہانی شامل کی گئی وہ

Read more

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، درس گاہ یا درگاہ

گورنمنٹ کالج لاہور وہ درس گاہ ہے جو انسان کے نقوش کو بدل کر رکھ دیتی ہے اب یہ درس گاہ نہیں درگاہ کا رتبہ حاصل کر چکی ہے اس نے وقت کے ساتھ جدت کو گلے بھی لگایا ہے اور ماضی سے جڑت بھی رکھی۔ یہاں ہمیں چھ سال رہنے کا شرف حاصل ہے ان سالوں میں کئی چہرے ملے جو پردوں میں لپٹے ہوئے تھے اور ہر پردہ اپنے وقت پر گر گیا لیکن کچھ درویش صفت لوگ

Read more

وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال

حضرت مولانا رُومی ”وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال” پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال شاہد صاحب کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے. ڈاکٹر صاحب نے فارسی ادب کی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ترویج ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور عرصہ دراز تک ڈین، فیکلٹی لینگویجز، اسلامک اینڈ اورینٹل لرننگ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی و صدر شعبہ فارسی گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ اب پروفیسر اعزاز کے طور پر خدمات

Read more

شب تنہائی

چہ لازم با خِرَد ھم خانہ بُودَن دو روزے می تواں دیوانہ بُودَن بیدل شکستہ مرد جب خامشی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تو وہ ہر چیز سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے اور اس میں اولین چیز کسی سے مخاطب ہونا ہے دوسری تمام فانی خواہشات سے آزاد ہونا جب کوئی اس مقام پر پہنچتا ہے اس کو زندگی اور موت کے درمیان دم توڑتی ہوئی اور تھکی ہوئی سانس ہوا کے سوا کچھ نہیں لگتی دانا لوگ کہتے

Read more

اختر رضا سلیمی کا ناول جندر

”زندگی کے ہزار رنگ ہیں مگر موت کا ایک ہی رنگ ہے ؛ سیاہ رنگ، جو زندگی کے تمام رنگوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ مجھے زندگی کے رنگوں کا شعور بعد میں ہوا۔ میں نے موت کے سیاہ رنگ کا شعور پہلے حاصل کیا۔“ جاگے ہیں خواب میں اختر رضا سلیمی کا پہلا ناول تھا جس کی طلسماتی زبان کا اثر ابھی باقی ہی تھا کہ اختر رضا سلیمی نے دوسرا ناول جندر لکھ کر ایک دفعہ

Read more