کوتوال ِ شہر کو ملنے والا حکم نامہ – مکمل کالم
کوتوال ِ شہر کو رات کے پچھلے پہر بادشاہ کا حکم نامہ ملا۔ وہ سونے کے لیے اپنی خوابگاہ میں جا چکا تھا اور اُس کے محافظوں کو یہ ہدایات تھیں کہ کسی بھی صورت اسے بیدار نہ کیا جائے، سو جب اسے گہری نیند سے جگایا گیا تو خیال تھا کہ وہ برافروختہ ہو کر محافظوں کو برا بھلا کہے گا مگر خلاف توقع ایسا نہیں ہوا۔ یہ بہت حیران کُن بات تھی مگر کوتوال کے محافظوں نے اب حیران ہونا ترک کر دیا تھا، وہ فقط اپنے کام سے کام رکھتے تھے اور کسی بھی صورتحال میں اپنی تشویش یا جذبات کا اظہار نہیں کرتے تھے، انہیں دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے وہ گوشت پوست کے انسان نہیں بلکہ حکم کی بجا آوری کرنے والے پُتلے ہیں۔
اور یہ ماحول صرف کوتوالی تک محدود نہیں تھا بلکہ پچھلے کچھ عرصے میں پورے شہر کی فضا ہی ایسی بن گئی تھی کہ ہر شخص ایک دوسرے سے بیگانہ ہوا پھرتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شہر کی ہواؤں میں کسی نے افسوں پھونک دیا ہو، گو کہ شہر کے باسیوں کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا تھا، مگر کچھ نہ کچھ ایسی بات ضرور تھی جس نے ماحول میں آزردگی پیدا کر رکھی تھی۔ حاکم وقت کے محل کے دروازوں پر سپاہی تعینات تھے جن کی سنگینوں کا رُخ شہر کی مرکزی شاہراہ کی جانب ہوتا تھا، اور بے شک قلعے کی فصیل بہت اونچی اور بظاہر ناقابل ِ تسخیر تھی مگر اِس کے باوجود وہاں بھی ہر لحظہ چاق و چوبند محافظوں کا پہرا رہتا تھا۔
یہ محافظ کوتوال کے مہیا کردہ تھے، اُس کی ذمہ داری تھی کہ وہ فرماں روا کی حفاظت کے لیے انہیں مامور کرے۔ فرماں روا کا حکم نامہ وصول کرتے وقت اسے یہی خیال آیا کہ شاید انہی محافظوں سے متعلق کوئی نیا حکم ہے جس کی بجا آوری اسے فوری طور پر کرنی ہے، مگر اُس کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ یہ حکم نامہ اُن دشمنوں کی سرکوبی سے متعلق تھا جو حاکمِ وقت کی آنکھ میں کھٹکتے تھے۔ کوتوال کو ماضی میں بھی یہ حکم نامے موصول ہوتے رہے تھے اور اُس نے اِن احکامات کی تعمیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، مگر یہ حکم نامہ قدرے مختلف تھا، اِس کی زبان خاصی سخت تھی اور اِس کے مندرجات سے لگتا تھا جیسے بادشاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اب وہ شر پسند عناصر کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی دکھانے کا روادار نہیں۔
کوتوال نے حکم نامے کی تحریر کئی مرتبہ پڑھی، اس میں کوئی ابہام نہیں تھا اور نہ ہی اِس بات کی گنجایش تھی کہ رئیس ِ شہر کے احکامات کو ایسے معنی پہنائے جا سکیں جن کی روشنی میں اُن عناصر سے نرمی برتی جا سکے جن کی جانب حکم نامے میں اشارہ کیا گیا تھا۔ اُس نے حکم نامے پر لگی مہر کو غور سے دیکھا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ رات مزید گہری ہو چکی تھی، بادشاہ کے حکم کی رُو سے صبح ہوتے ہی کوتوال کو ریاست دشمن افراد کو گرفتار کر کے محل میں پیش کرنا تھا۔
بظاہر یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا، پہلے بھی کوتوال ِ شہر اِس قسم کے احکامات پر عملدرآمد کرتا رہتا تھا مگر نہ جانے کیوں اِس مرتبہ وہ یہ قدم اٹھانے سے ہچکچا رہا تھا، شاید اِس کی وجہ حکم نامے کی تحریر تھی، اُس تحریر کو پڑھ کر خود کوتوال بھی تذبذب کا شکار ہو گیا تھا، اسے یقین تھا کہ اِس مرتبہ جن لوگوں کو گرفتار کر کے قلعے میں پہنچایا جائے گا اُن کی جان بخشی نہیں ہوگی۔ اصولاً کوتوال کو اِس بات کی پروا نہیں کرنی چاہیے تھی، آخر اس کا یہی کام تھا۔
ویسے وہ ایک سخت گیر انسان تھا، اُس کے چہرے سے درشتی جھلکتی تھی، لوگ اُس سے خوفزدہ رہتے تھے اور اکثر ملنے سے کتراتے تھے، تاہم کچھ عرصے سے کوتوال کی طبیعت میں بیزاری آ گئی تھی جس کی وجہ شاید شہر کا افسردہ ماحول تھا۔ وہ اپنے فرائض کی بجا آوری تو کر رہا تھا مگر پہلے والے جذبے کے ساتھ نہیں اور یہ بات خود اسے بھی معلوم تھی۔ اچانک اُس کے دماغ میں خیال آیا کہ اِس حکم نامے کی زبان کہیں اِس وجہ سے تو سخت نہیں کہ حاکم ِ وقت نے اُس کے کام میں کوتاہی نوٹ کی ہے۔
لیکن ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں نے تو کبھی حکم عدولی نہیں کی، اُس نے سوچا۔ یہ بات درست تھی، کوتوال نے کبھی قلعے سے موصول ہونے والے احکامات پر عمل کرنے میں کوئی لا پروائی نہیں برتی، مگر پھر اسے خیال آیا کہ جب تک یہ احکامات شہر میں امن و امان کو یقینی بنانے سے متعلق ہوا کرتے تھے اُس وقت تک واقعی وہ بڑی تندہی سے کام کرتا تھا مگر پھر دھیرے دھیرے شہر میں امن قائم رکھنے کی خاطر اسے وہ حد بھی پار کرنی پڑی جو وہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
شاید کوتوال کے یہی وہ اقدامات تھے جن کی وجہ سے شہر کے لوگوں نے آپس میں میل جول اور روابط تقریباً ختم کر دیے تھے اور اب وہ محض ضرورت کے تحت ایک دوسرے سے ملتے تھے اور زیادہ تر خاموش رہتے تھے۔ شہر کی ہوا میں اداسی کی بھی یہی وجہ تھی۔ کوتوال کو ان باتوں کا اچھی طرح ادراک تھا، اُس کا خیال تھا کہ حاکم وقت کو اپنے حکم نامے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ لیکن اسے یہ بات بھی معلوم تھی کہ بادشاہ کو حکم نامہ واپس لینے پر قائل کرنا بے حد مشکل کام ہو گا کیونکہ بادشاہ ہر صورت اپنے احکامات پر عملدرآمد کروانے کا خواہش مند ہو گا۔
جو بھی ہو، یہ بات ضرور بادشاہ کے علم میں لانی چاہیے کہ اُس کے تازہ حکم نامے کے مثبت اثرات پیدا نہیں ہوں گے۔ کوتوال کا خیال تھا کہ اِس سخت حکم نامے کے نتائج حاکم ِ وقت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں لہذا بطور کوتوال، حالات کی درست نشاندہی کرنا اُس کا فرض ہے۔ یہ باتیں سوچ کر اسے کچھ اطمینان ہوا، اُس نے اپنے اہلکار کو حکم دیا کہ اُس کی سواری تیار کی جائے تاکہ وہ فوری طور پر قلعے میں جا کر حاکمِ وقت سے ملاقات کرسکے، کوتوال کو یقین تھا کہ وہ اسے قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
محل کے دروازے پر مامور سپاہیوں نے کوتوال کو دیکھ کر دروازے کھول دیے اور دربار میں اُس کی حاضری کی اطلاع دی گئی۔ حاکم ِ وقت کو اُس کی آمد کی ذرا برابر حیرانی نہیں ہوئی، کوتوال کو یوں لگا جیسے بادشاہ اسی کا منتظر ہو۔ کوتوال نے اپنا مدعا بیان کیا جسے سن کر بادشاہ کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ آئی، کوتوال سمجھا جیسے بادشاہ کو اُس کی بات پسند آئی ہے، مگر اُس کا خیال غلط ثابت ہوا۔ بادشاہ نے اشارہ کیا، پردے کے پیچھے سے ایک شخص نمودار ہوا جس کے ہاتھ میں ویسا ہی حکم نامہ تھا جیسا کوتوال کے ہاتھ تھا، اِس سے پہلے کہ کوتوال کچھ سمجھ پاتا، اُس شخص نے نیام سے تلوار نکالی اور آن کی آن میں کوتوال کا سر قلم کر دیا۔ جس حکم نامے کی تعمیل کوتوال نہ کر سکا، وہ اُس شخص نے کردی۔ بادشاہ کے حکم کے تحت اب وہ شہر کا نیا کوتوال تھا۔


