ہوئے نامور بے نشان کیسے کیسے

بیگم شیخ حسینہ آئرن لیڈی آف بنگلہ دیش مدر آف بنگلہ دیش کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ انہوں نے بنگلہ دیش کے لیے کیا کچھ نہیں کیا یہ وہ خاتون ہیں جو پانچ مرتبہ وزیراعظم کا شرف حاصل کر چکی ہیں ایک عورت ہونے کے ناتے مسلسل کامیابی سے جیتنا ایک اسلامی ملک کا سربراہ بن کے رہنا یہ کوئی عام بات تو ہو نہیں سکتی جب سے انہوں نے اقتدار سنبھالا مسلسل بنگلہ دیش ترقی کرتا جا رہا ہے۔
2009 میں بنگلہ دیش کی فی کس انکم تین گنا بڑھ گئی جبکہ پچھلے سال بنگلہ دیش کا معیشت کی شرح نمو 7.01 پرسنٹ تھی ان کی مسلسل کوشش اور محنت کی بدولت آج ملک اپنے اچھے اثر رسوخ کے ساتھ کھڑا ہے بنگلہ دیش کی جی ڈی پی میں حیران کن تبدیلی دیکھی گئی ہے جبکہ 2006 میں 7.0 بلین ڈالر تھی اور وہ بڑھ کر 2022 میں 460 بلین ڈالر ہو گئی ہے تب سے یہ انڈیا کے بعد ایشیا کا سب سے بڑا مضبوط ملک مانا جاتا ہے معاشی اعتبار سے بھی زیادہ ترقی یافتہ مانا جاتا ہے کوئی وقت تھا جب بنگلہ دیش کو Bottom less basket with no hope or survival کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن اب اسے Development Miracle 2000 یعنی ترقی کا معجزہ کے نام سے جانا جاتا ہے، سال 2018 میں یہ اقوام متحدہ کی لسٹ سے ہٹ کر ایک ترقی کرنے والا ملک بن گیا
اس کے علاوہ یہاں پر لوگوں کو شعور دیا گیا کہ اپنی بچیوں کو تعلیم دو آج یہاں 98 فیصد لڑکیاں اسکول جاتی ہیں انہوں نے بنگلہ دیش کی ایک perspective plan 2021۔ 2041 یعنی نقطہ نظر کی منصوبہ بندی دیا گیا جس میں انہوں نے طویل مدتی، قلیل مدتی ترقیاتی منصوبہ، چیلنجز، حکمت عملی اور پالیسیز بتائی ہیں جس سے ملک کو مزید ڈویلپمنٹ مل سکتی ہے اور غربت کا مکمل خاتمہ کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اس وقت بنگلہ دیش ایک ایسا ملک ہے جو اپنے ملک سے کپڑا بنا کر یورپ کے ممالک میں بھی فروخت کر رہا ہے اور اس وقت اچھا منافع کما رہا ہے یہ سب جو بھی ترقی اور خوشحالی اپ دیکھ رہے ہیں یہ اسی حسینہ واجد کی محنت اور جدوجہد ہے جس نے سب سے مقابلہ کر کے لڑ کے دشمن ممالک سے آنکھ میں انکھ ملا کے یہ بتایا ہے کہ ایک عورت مرد سے کم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اپنے بابا شیخ مجیب الرحمَن کے خواب سونا بنگلہ کو شرمندہ تعبیر کر کے دکھایا ہے ہر بندہ جب اقتدار میں بیٹھتا ہے تو اس سے کہیں نہ کہیں غلطی ضرور ہوتی ہے اس کا بالکل یہ مقصد نہیں کہ اس کو ملک سے نکال دو ، جلاوطن کردو یا اتنا ذلیل کرو صرف یہ سوچ کر کہ وہ ایک ڈکٹیٹر ہے اور وہ ایک عورت ہے۔
کچھ طلباء نے ایک ویڈیو کلپ میں یہ بتایا کہ ڈکٹیٹر کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو بالآخر اس کا خاتمہ ہوتا ہے ڈکٹیٹر کو ہٹانے کے دو طریقے ہوتے ہیں یا تو جنتا جا کے اس کوٹانگ دیتی ہے یا پھر وہ ملک سے ہی بھاگ جاتا ہے اور یہ صورت شیخ صاحبہ نے اپنائی کے وہ ملک سے فرار ہو گئیں۔ 5 اگست 2024 کو ایک ایسا دن گزرا جو پوری تاریخ میں اپنی پہچان آپ رہے گا وہ بنگلادیش سے بھاگتی ہیں اور براستہ انڈیا برطانیہ جانے کی امداد مانگ رہی ہیں جیسے ہی وہاں سے نکلی ہیں ٹھیک دو گھنٹے بعد لوگوں نے ان کے گھر پر حملے کیے اور ان کے گھر میں جا کر کھانا کھایا اور کچھ ایسی ویڈیوز وائرل کی یہاں تک کہ انہوں نے ان کے والد کی نشانیوں کو بھی نہ چھوڑا۔ والد وہ جو بنگلہ دیش کے بانی تھے جسے بنگلہ بندھو کے نام سے جانا جاتا ہے لوگوں نے ان کی مورتی پر بھی اپنا غصہ نکالا دراصل یہ سب اچانک نہیں ہے اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ اسٹوڈنٹس ہیں اور یہ ایک کوٹہ سسٹم کی وجہ سے شروع ہوا ہے۔
2018 میں شیخ حسینہ نے دوبارہ نافذ کیا جو پہلے ختم ہو چکا تھا اور اسے فریڈم فائٹرز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کوٹا کہلاتا ہے جن لوگوں نے 1971 میں ملک بنانے میں حصہ لیا اور جنگ کی اور ان کی اولادوں کو 30 فیصد ملازمتیں دی جائیں گی جبکہ عام طباء کا کہنا تھا کہ یہ سب میرٹ پر ہونا چاہیے اور یہ کوٹہ سسٹم ان کے اوپر الزام بھی تھا کہ حسینہ صاحبہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو سرکاری ملازمتیں دینا چاہ رہی ہیں اور یہ کہہ رہی تھی کہ کورٹ فیصلہ دے گی آپ لوگ کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔ 2018 کے بعد 2024 کے بعد تو ہر بار شیخ صاحبہ نے اپنے حساب سے چلنے کی کوشش کی ہے اس کے علاوہ اس ملک میں کوئی بھی جبری گمشدگیاں نہیں اس پر طلباء و طالبات نے سوچا کہ اب بس وہ سڑک پر آ گئے جبکہ دیکھا جائے کہ اس ملک کو ترقی دینے والی یہی ایک واحد لیڈر ہیں۔
طلبا نے یہ سوچا کہ اب بس سڑک پر آ نا ہی حل ہے اور وہاں ان کا سامنا کیا چتر لیگ نے یہ عوامی لیگ کے طلباء کی ایک تحریک ہے وہ ہیں تو شاگرد پر دیکھا جائے تو وہ ایک غنڈے نما ہیں ان لوگوں نے طلباء کو بہت مارا اور پولیس نے بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا اور سننے میں آیا ہے کہ آفیشلی 200 اور غیر سرکاری طور پر ایک ہزار طلبا کو مارا گیا ہے ایک ہزار اور بھی زخمی ہیں طلبا اس سب کے باوجود ڈٹے رہے اس کوٹہ سسٹم کے خلاف اور کورٹ نے یہ کوٹہ ہٹا دیا۔
دیکھا جائے تو بات یہاں ختم نہیں ہوئی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ شیخ حسینہ ہم لوگوں سے معافی مانگیں یا وہ استعفیٰ دے دیں دیکھا جائے تو وہ کیوں ایسا کرتیں انھوں نے لیڈر ہونے کے ناتے وہی کیا جو ان کو ٹھیک لگا انھوں نے پولیس کو آرڈرز دیے، آرمی کا استعمال کیا۔ ایک ویڈیو کلپ کے مطابق یونیورسٹی پر ہیلی کاپٹر اتارے گئے، کرفیو لگائے گئے۔ آزادی ملنے سے پہلے بنگلہ دیش پاکستان کا ہی حصہ تھا اس وقت اسے ایسٹ پاکستان کہا جاتا تھا دیکھا جائے تو اسے کسی نے اس لیے کیا کہ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ چلیں ہم بھی اگر ان کے خلاف نوٹس کرتے ہیں یا کرفیو لگاتے ہیں تو ہو سکتا ہے ملک کے حالات بہتر ہوجائیں لیکن طلباء کو کچھ اور ہی منظور تھا کیونکہ وہ مسلسل یہ چاہتے تھے کہ کیا حسینہ واجد یہاں سے ہٹ جائیں اس کے علاوہ آج کے پاکستان کو ویسٹ پاکستان کہا جاتا تھا اور بنگلہ دیش کو ایسٹ پاکستان کہا جاتا تھا زمانے میں اس پاکستان کے خلاف سماجی تفریق تھی کافی سارے لوگ یہاں بنگالی زبان بولتے تھے اور صرف دس فیصد لوگ اردو بولتے تھے پھر بھی پاکستان میں اردو زبان کو مسلط کیا اور اس پاکستان میں 59 فیصد یہاں سے جاتی اس کے علاوہ اکنامکس اعتبار سے مشرقی پاکستان زیادہ ترقی یافتہ تھا ایسی صورت میں ان کے پاس سرمایہ کاری صرف 25 فیصد آتی اس کے علاوہ نومبر 1970 میں یہاں بولا سائیکلون آیا تو تین ہزار لوگ مارے گئے جو کہ بہت بڑا نیشنل ڈیزاسٹر تھا اور ویسٹ پاکستان سے مشرقی پاکستان میں کوئی مدد نہیں کی گئی اس کے علاوہ سیاسی مسائل بھی بہت تھے 1971 کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان کے پاس 168 اور ویسٹ پاکستان کے پاس 132 نشستیں تھیں یہاں مختلف سیاسی پارٹیوں نے ووٹ لیے تھے جبکہ مشرقی پاکستان میں لوگوں نے صرف ایک ہی پارٹی کو ووٹ دیا تھا جس کا نام تھا عوامی لیگ پارٹی اور جس کے سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن جو شیخ حسینہ صحابہ کے والد تھے ۔
اگر دیکھا جائے تو اس کا حقدار شیخ مجیب تھا لیکن پاکستان کی آرمی یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس وقت کی ملٹری کمانڈر اور رکن اس چیز کے خلاف تھے اور وہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ شیخ مجیب الرحمٰن لیڈر بنے انہوں نے اس کے نتائج کو مسترد کر دیا اور مشرقی پاکستان پر مارشل لاء لگا دیا جواب میں شیخ مجیب الرحمان نے ایک تحریک چلائی جس کا نام civil disobedience (سول نافرمانی تحریک) تھا، اسی دوران ان لوگوں کو کافی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور شیخ مجیب الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا۔ یہ صورت شروع ہو گئی تھی کے آزادی کے ایک سال بعد ہی جن لوگوں نے ملک کا ساتھ دیا اور اپنی جان کی بازی لگائی دیکھا جائے تو یہ چیز باعث ان کے لئے الگ ہونی چاہیے تھی پر ہوا یہ کہ جن کو بڑھا دیا گیا اور یہ شامل کیا گیا فریڈم فائٹر کے بچوں کو بھی یہ سہولت دی جائے اور نوکریاں نکالی جائیں پھر 2010 میں یہ کیا گیا کہ ان کے بچوں کو بھی اس کوٹہ سسٹم میں شامل کیا گیا سرکار نے سب چیزوں میں اونچ نیچ کی پر اس کوٹہ کو بڑھا کر ٹوٹل 56 ٪ کیا گیا۔
2010 کے اس گرینڈ چلڈرن کے فیصلے کے بعد 2012 اور 2013 میں کافی باتیں اور مسائل پیش آئے جیسے انڈیا میں جے یوپی امتحاں ہے اسی طرح بنگلہ دیش میں پی پی ایس سی ہے جس میں چار لاکھ لوگ اس جاب کے لیے بیٹھے ہیں پر 2018 میں بنگلہ دیش گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا کہ یہ کوٹہ فرسٹ کلاس اور سیکنڈ کلاس کے لئے ہٹا دیا جائے گا پھر ہوتا یوں ہے کہ 2021 میں فریڈم فائٹرز کے کچھ بچوں نے ہائی کورٹ میں فیصلہ داخل کیا اس سسٹم کو ہٹانے کے خلاف۔
5 جون 2024 یعنی پچھلے مہینے ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا کے یہ لوگ جو کہہ رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے اور پھر کوٹہ سسٹم کو دوبارہ ایڈ کیا گیا اور یہی وجہ تھی پورے ملک میں دنگے فساد ہوئے شاگردوں نے یہ بات کی کہ یہ کوٹہ قانون کے خلاف ہے قانون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا گیا کہ فریڈم فائٹرز کے بچوں کو یا ان کے بچوں کے بچوں کو بھی نوکریاں دی جائیں اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرے گا کون؟ کہ کون سی لوگ ٹیم فریڈم فائٹرز ہیں اور کون نہیں ہیں۔
سرکار نے یہ حق بھی اپنے آپ کو دیا ہوا ہے ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ سب شیخ حسینہ کی چال ہے نہ کہ وہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو اقتدار میں لانا چاہتی ہیں بلکہ وہ دوسروں کو جواب دینا ہی نہیں چاہتی پھر یہ فیصلہ ہائی کورٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں جاتا ہے اور دنگے رکتے ہی نہیں ٹھیک اسی طرح ان کا کوئی بیان نہیں ہے کچھ ٹائم بعد وہ یہ کہتے نظر آئی کہ شاگردوں کو آخر اتنی نفرت کیوں ہے فریڈم فائٹر سے اگر ان کے بچوں کو یہ حق نہیں ملیں گے تو رضاکار کو ملیں گے۔
امریکن رائٹر اور ایکٹیوس ایڈورڈ ایبے لکھتے ہیں
ایک سچا حب الوطنی اپنے ملک کو اپنی حکومت سے بچاتا ہے جمہوریت صرف یہ نہیں ہوتی کہ آپ بس ووٹ دو بلکہ یہ ایک نظام ہے جہاں لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں دراصل یہاں مسئلہ ایک نہیں تھا بے روزگاری ہے غربت ہے اور اس کے علاوہ یہاں کے لوگ جو ہیں وہ اگر 3 کروڑ ہیں تو نوکریاں صرف 1.3 فیصد لوگوں کے پاس ہیں لیکن اب مہنگائی بڑھ رہی ہے اور 9 فیصد ہے حال میں اس قوم نے چائنا سے قرضہ بھی لیا ہے اور بھی مسائل تھے اس کے علاوہ ان کے اوپر بہت سے الزامات تھے جن میں سر فہرست یہ ہے کہ انھوں نے حکومت جبر سے حاصل کی ہے انہوں نے جنوری میں فورٹ کنٹریکٹ ٹرمپ جیت لیا اور الیکٹرانک رینج پر اسی پر وٹیسٹ میں اس کے خلاف پوسٹرز اور نعرے بھی دکھائے گئے جہاں پر ان کو ڈکٹیٹر کہ کر بلایا گیا اور یہ نعرہ لگایا گیا کہ
Tu ke۔ Ami ke razakar
ke boleche ke boleche
saricher saricher (bangali)
ترجمہ
میں اور تو کون رضاکار رضاکار ایسا کس نے کہا
ڈکٹیٹر ڈکٹیٹر
