قیلولے کے وقت
ریل گاڑی سرنگ سے نکلی اور کیلوں کے باغات میں سے گزرنے لگی۔ ریل گاڑی کے قریب ہی سڑک پر بیل گاڑیاں بھی چل رہی تھیں۔ ہوا مرطوب تھی اور انجن کا دھواں کھڑکی سے اندر آ رہا تھا۔ ریل گاڑی سے کچھ دور شہر کے دفاتر بھی دکھائی دے رہے تھے جن میں بجلی کے پنکھے چل رہے تھے۔
صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔ ابھی سورج کی حدت میں شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔
’کھڑکی بند کر لو‘ عورت نے مشورہ دیا
’ورنہ تمہارے بال دھوئیں کی کالک سے بھر جائیں گے‘
لڑکی نے کھڑکی بند کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی کیونکہ کھڑکی زنگ آلود تھی۔
اس دن ریل گاڑی کے تیسرے درجے کے ڈبے میں یہی دو سواریاں تھیں۔ دھوئیں سے بچنے کے لیے لڑکی نے اپنا سامان ’جس میں کھانے سے بھرا بیگ اور کاغذ میں لپٹے پھول تھے‘ اپنی سیٹ پر رکھا اور دور جا کر بیٹھ گئی۔
عورت اور لڑکی نے کالے کپڑے پہنے تھے کیونکہ وہ سوگ منا رہی تھیں۔
وہ لڑکی بارہ سال کی تھی اور وہ زندگی میں پہلی بار ریل گاڑی کا سفر کر رہی تھی۔ وہ عورت حلیے اور کپڑوں سے عمر رسیدہ دکھائی دے رہی تھی اور اس لڑکی کی ماں نہیں لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے سے وہ سنجیدگی اور اداسی جھلک رہی تھی جو غریب لوگوں کے چہروں پر وقت کے ساتھ آ جاتی ہیں۔
جب بارہ بجے تو فضا میں گرمی بڑھنے لگی۔
ریل گاڑی ایک سٹیشن پر رکی تا کہ انجن میں پانی بھرا جا سکے۔ اس سٹیشن کے قریب کوئی آبادی نہ تھی۔ پھر ریل گاڑی دو اور سٹیشنوں پر رکی جہاں کھڑکی سے بہت سے ایسے گھر دکھائی دے رہے تھے جن کے دروازے اور کھڑکیاں رنگین تھے۔
عورت تھکی ہوئی تھی اس لیے وہ اونگھنے لگی۔
لڑکی نے اپنے جوتے اتارے اور ننگے پاؤں غسل خانے گئی تا کہ پھولوں کو پانی سے تازہ رکھ سکے۔
جب لڑکی واپس آئی تو اس کی ماں کھانا کھانے کی تیاری کر رہی تھی۔
ماں نے بیگ سے بیٹی کے لیے بھی اور اپنے لیے بھی کھانے کو روٹی پنیر اور بسکٹ نکالے۔
جب وہ دونوں کھانا کھا رہے تھے تو ریل گاڑی ایک پل پر سے گزر رہی تھی۔ پھر وہ ایک شہر سے گزرے جہاں انہیں کھڑکی سے ایسا پلازا دکھائی دیا جس میں بہت سے لوگ جمع تھے اور چند فنکاروں کی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
عورت نے اپنا بیگ بند کیا اور بیٹی سے کہا
’اپنے جوتے پہن لو‘
لڑکی نے جوتے پہننے شروع کیے۔ عورت نے بیگ سے ایک کنگھی نکال کر بیٹی کو دی اور کہا
’اپنے بال سنوار لو‘
لڑکی بال سنوار رہی تھی کہ ریل کی سیٹی بجی۔ عورت نے بیٹی کی گردن سے پسینے کے قطرے صاف کیے۔
ریل گاڑی ایک اور شہر سے گزر رہی تھی۔ وہ شہر پہلے شہروں سے زیادہ کشادہ لیکن اداس دکھائی دے رہا تھا۔
عورت نے لڑکی سے کہا
’جو کرنا ہے اب کر لو بعد میں بالکل نہ رونا‘
لڑکی نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا
عورت نے کھانے کے پلاسٹک کے بیگ کو اپنے چمڑے کے بیگ میں رکھا اور لڑکی نے گیلے پھول کاغذ میں لپیٹے۔
ریل گاڑی کی رفتار میں کمی آئی۔ اس نے سیٹی بجائی اور رک گئی۔
اس سٹیشن پر اس وقت کوئی نہ تھا۔
کھڑکی سے سڑک کی دوسری طرف بادام کے درخت دکھائی دے رہے تھے جو سڑک پر سایہ کر رہے تھے۔ سارا شہر گرم ہوا میں تیر رہا تھا۔
عورت اور لڑکی ریل گاڑی سے اترے اور سنسان سٹیشن کو پار کر کے شہر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے سڑک پار کی تا کہ اس طرف چل سکیں جہاں درختوں نے سڑک پر سایہ کیا ہوا تھا۔
دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ وہ قیلولے کا وقت تھا جس وقت گھروں کے دروازے اندر سے بند کر دیے جاتے تھے۔ شہر کے دفاتر اور دکانیں سورج کی حدت کی وجہ سے گیارہ بجے سے چار بجے تک بند رہتی تھیں۔ چار بجے ریل گاڑی واپسی کا سفر شروع کر دیتی تھی۔
لڑکی اور عورت درختوں کے سائے میں شہر میں داخل ہوئیں اور سیدھا گرجے کے قریب پادری کے گھر پہنچیں۔
عورت نے دروازے پر دستک دی
گھر کے اندر سے پنکھے کے چلنے کی آواز آ رہی تھی۔
عورت نے دوبارہ دستک دی۔
پھر دروازے کے پیچھے سے ایک عورت کی آواز آئی
’کون ہے؟ ‘
’مجھے پادری سے ملنا ہے‘ عورت نے جواب دیا۔
’وہ اس وقت سو رہا ہے۔ ‘
’مجھے اس سے بہت ضروری ملنا ہے‘ اس کی آواز میں ایک خاموش تیقن تھا۔
دروازہ تھوڑا سا کھلا اور ایک فربہ جسم عورت باہر نکلی جس کی آنکھیں اس کی دبیز عینک کے شیشوں کے پیچھے بہت چھوٹی دکھائی دے رہی تھیں۔
’اندر آ جاؤ‘
لڑکی اور عورت کمرے میں داخل ہوئے۔
میزبان عورت نے کہا ’بیٹھ جاؤ‘
لڑکی بے خیالی میں بیٹھ گئی لیکن عورت کھڑی رہی۔
میزبان عورت کمرے سے چلی گئی اور چند لمحوں کے بعد لوٹی۔
’فادر کہہ رہا ہے کہ تم تین بجے کے بعد آنا وہ کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہے‘
’میں اتنی دیر انتظار نہیں کر سکتی۔ ریل گاڑی نے ساڑھے تین بجے واپس جانا ہے‘
اس کے لہجے میں اعتماد تھا۔
میزبان عورت پہلی دفعہ مسکرائی اور کہا ’اچھا یہ بات ہے‘
جب میزبان عورت پچھلے دروازے سے اندر گئی تو عورت بھی بیٹی کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے ارد گرد دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ جس کمرے میں بیٹھی ہے وہ پادری کا دفتر ہے۔ اس میں میز بھی تھا۔ میز پر فائلیں بھی تھیں اور گلدان میں پھول بھی۔ ایک طرف الماری بھی تھی۔
پھر پچھلا دروازہ کھلا اور پادری کمرے میں داخل ہوا۔ وہ اپنے رومال سے اپنی عینک کے شیشے صاف کر رہا تھا۔ جب اس نے عینک پہنی تو عورت کو اندازہ ہوا کہ وہ فربہ جسم میزبان عورت کا بھائی ہے۔
پادری نے عورت سے کہا ’میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟‘
عورت نے کہا ’مجھے آپ سے قبرستان کی چابیاں چاہئیں‘
پادری نے پہلے لڑکی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں پھول تھے پھر ماں کو دیکھا اور پھر کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھا جو بادلوں سے خالی تھا۔
پادری نے کہا
’ تم اتنی گرمی میں آئی ہو۔ سورج ڈھلنے کے بعد آتیں‘
عورت خاموش رہی۔
پادری نے الماری سے نوٹ بک نکالی اور میز پر رکھ دی۔ عورت نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ پر اس کے سر سے زیادہ بال تھے۔
پادری نے پوچھا ’تم کس کی قبر دیکھنا چاہتی ہو؟‘
’کارلوس سینٹینو کی‘
’کون؟‘
’کارلوس سینٹینو کی‘
پادری کو پھر بھی نام سمجھ نہ آیا۔
’یہ اس چور کا نام ہے جو پچھلے ہفتے اس شہر میں قتل کر دیا گیا تھا۔‘
پھر اس عورت نے چند لمحوں کے توقف کے بعد کہا
’میں اس کی ماں ہوں‘
پادری نے اس عورت کو غور سے دیکھا۔ عورت نے بھی اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھا اور پادری کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
پھر پادری نے کاغذات پر کچھ لکھنا شروع کیا۔ اس نے عورت سے کچھ تفاصیل مانگیں جو اس نے بڑے تحمل سے اسے دیں۔
کاغذات مکمل کرتے ہوئے پادری کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر رہے تھے۔
اس سارے قصے کی ابتدا پچھلے ہفتے پیر کے دن ہوئی تھی جب ایک تنہا رہنے والی بیوہ کو صبح تین بجے ایسی آوازیں آنی شروع ہوئیں جیسے کوئی اس کے گھر میں گھسنے کی کوشش کر رہا ہو۔
وہ عورت اتنی گھبرائی کہ اس نے دوسرے کمرے سے اپنا پرانا ریوالور نکالا اور اندھیرے میں باہر کے دروازے کے قریب گئی۔ اس کا اٹھائیس برس کا اکیلے رہنے کا خوف اس کی رہنمائی کر رہا تھا۔ اس نے اندازہ لگایا کہ کوئی شخص اس کے دروازے کے باہر کہاں کھڑا کس اونچائی پر تالا کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے ریوالور پکڑا اور دروازے کے باہر کھڑے چور کی طرف نشانہ بنا کر آنکھیں بند کیں اور ریوالور کی لبلبی دبا دی۔
پہلے تو اسے بارش کی آواز کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہ دی۔
پھر کسی انسان کے زمین پر گرنے کی آواز آئی اور کوئی بولا
’ہائے میری ماں‘
صبح جب لوگ جمع ہوئے تو انہیں ایک ایسے نوجوان کی لاش ملی جس کا ناک بندوق کی گولی سے لہولہان ہو چکا تھا۔ اس نے ایک رسی کو بیلٹ بنایا ہوا تھا اور وہ پاؤں سے ننگا تھا۔
اس شہر میں اس نوجوان کو کوئی نہ جانتا تھا۔
پادری نے عورت سے کہا ’تو اس نوجوان کا نام کارلوس سینٹینو تھا؟‘
’سینٹینو ایالا‘ عورت نے نام مکمل کیا۔ ’وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا‘
پادری نے عورت کو دو زنگ آلود چابیاں دیں جو دروازے کے پیچھے لٹک رہی تھیں۔
پھر پادری نے کاپی کھولی اور عورت سے کہا ’یہاں دستخط کر دو ‘
عورت نے دستخط کر دیے۔
لڑکی نے پھول اٹھائے اور ماں کے پیچھے چلنے لگی۔
پادری نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے عورت سے کہا
’تم نے اپنے بیٹے کو سیدھا راستہ کیوں نہ دکھایا؟‘
عورت چند لمحے رکی تاکہ پادری کی سرد آہ ختم ہو پھر اس نے کہا
’میرا بیٹا ایک اچھا انسان تھا۔‘
پادری نے حیرت سے عورت اور لڑکی کو دیکھا۔ عورت نے کہا
’میں نے بیٹے سے کہا تھا کہ وہ کبھی کسی بھوکے سے اس کا رزق نہ چھینے اور اس نے ہمیشہ میری نصیحت پر عمل کیا لیکن جن دنوں وہ باکسنگ کرتا تھا ان دنوں وہ بہت پریشان رہتا تھا۔ وہ بدمعاشوں سے اتنا پٹتا تھا کہ اسے ٹھیک ہونے میں چند دن لگتے تھے‘
’ وہ اتنا زخمی ہوا کہ ڈاکٹر کو اس کے دانت نکالنے پڑے‘ لڑکی نے ماں کو لقمہ دیا۔
پادری نے سر کھجاتے ہوئے کہا
’خدا کی مرضی ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ ‘
پادری کی بات میں تیقن کی کمی تھی۔ نجانے اس کے لہجے کا سطحی پن اس کی شخصیت کا آئینہ دار تھا یا موسم کی حدت کا ۔
پھر پادری نے عورت کو سمجھایا کہ وہ کس طرح قبرستان میں کارلوس کی قبر تک پہنچ سکتی ہے۔ پھر پادری نے کہا
’جب تم واپس آؤ تو دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں۔ تم چابیوں کو دروازے کے نیچے چھوڑ سکتی ہو اور دروازے کے قریب وہ ڈبہ بھی پڑا ہے جس میں تم گرجے کے لیے چندہ ڈال سکتی ہو۔‘
عورت نے پادری کی باتیں غور سے سنیں اور مسکرائے بغیر اس کا شکریہ ادا کیا۔
جب پادری عورت سے بات کر رہا تھا تو اسے احساس ہوا کہ کوئی دروازے کے باہر موجود ہے اور سوراخ سے اندر دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پادری نے دروازہ کھولا تو بہت سے بچے بھاگ گئے۔
عام حالات میں اس وقت گلیاں اور بازار سنسان ہوتے تھے۔
پھر پادری کو احساس ہوا کہ گلی میں بچے ہی نہیں جوان اور بوڑھے بھی موجود ہیں جو بادام کے درختوں کے نیچے جمع ہو رہے ہیں۔
جب پادری نے اتنے لوگوں کو دیکھا تو اسے موقع کی نزاکت کا اندازہ ہوا۔
اس نے سامنے کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔
’ذرا رک جاؤ‘
اتنی دیر میں اس کی بہن بھی آ گئی۔
’کیا ہوا؟‘ اس نے پادری سے پوچھا
’لوگوں کو پتہ چل گیا ہے‘
پادری نے عورت سے کہا
’تم پچھلے دروازے سے باہر چلی جاؤ‘
پادری کی بہن نے کہا
’ وہاں بھی لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ اب تو سارا شہر ہی اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے دیکھ رہا ہے‘
عورت کو ان حالات کا بالکل اندازہ نہ تھا۔ اس نے بیٹی کے ہاتھ سے گلدستہ لیا اور دروازے کی طرف قدم بڑھانے لگی۔ لڑکی اس کی پیچھے چلنے لگی۔
پادری نے کہا ’اگر چاہو تو سورج ڈھلنے تک رک جاؤ‘
اس کی بہن نے کہا ’تم گرمی کی شدت سے پگھل جاؤ گی۔ اگر تم اسی وقت جانا چاہتی ہو تو میں تمہیں ایک چھتری دے سکتی ہوں۔ ‘
عورت نے کہا ’ہمیں تمہاری چھتری کی کوئی ضرورت نہیں ہم ایسے ہی اچھے ہیں۔ ‘
اس نے اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
(گبرائیل گارسیا مارکیز کے افسانے TUESDAY SIESTA کی تلخیص اور ترجمہ)




اچھا ہوتا اگر عنوان کچھ اس کے سوا ہوتا۔ ممکن ہے یہ اصل کا ترجمہ ہو۔
میرے خیال میں
تپتی دھوپ میں چھاؤں
دھوپ میں پگھلتی ممتا
یا کچھ ایسا ہی موضوع
حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے کالم یہ سوچ کر کھولا تھا کہ ڈاکٹر صاحب قیلولے سے متعلق کوئی ٹپ دے رہے ہونگے