تدریس کی اہم خصوصیات


یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہ رہے کہ تدریس فقط پیشہ ہی نہیں، بلکہ یہ ایک فن ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں لوگ تدریس جیسے اہم شعبے کو بھی حصول معاش کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ اس تصور پر باور رکھتے کہ جس شخص کے پاس ڈگری ہو (چاہیے اسے رشوت دے کر ہی اس نے لے رکھی ہو) وہ تعلیمی اداروں میں تدریس کر سکتا ہے۔ اسی سوچ نے تعلیمی قابلیت اور صلاحیت سے تہی بہت سارے مالدار مضبوط سفارش رکھنے والے ٹولے کو تعلیمی اداروں میں گھسنے کو ممکن بنا دیا ہے، جنہوں نے باصلاحیت تعلیم یافتہ مستحق افراد کی جگہ قبضہ کر کے بچوں کی قیمتی عمر ضائع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

انہوں نے طالب علموں کی تعلیمی اور فکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے بجائے ان کی جہالتوں میں اضافہ کر کیا نہیں اپنے مقاصد سے دور کیا! انہوں نے تعلیمی اداروں کو پیسے کمانے کی دکان سے زیادہ اہمیت نہیں دی اور انہوں نے تعلیمی اداروں میں اپنی ڈیوٹی اور حاضری کو یقینی بنانے کو ہی اپنا پورا مقصد قرار دیا گیا تاکہ ان کی تنخواہ بس چلتی رہے۔ البتہ ہماری نظر میں نا اہل افراد کو تعلیمی اداروں میں پہنچانے کا موقع دینے میں خود تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کا بھی کردار شامل ہے، جنہوں نے اپنے مختلف مفادات کے حصول کی خاطر ان کے لئے اپنے اداروں میں گھسنے کا راستہ کھلا رکھا۔

یہی وجہ ہے کہ آج عوام سرکاری تعلیمی اداروں سے بدبین ہیں۔ مالی استطاعت رکھنے والے لوگ فیس بھر کر اپنے بچوں کو غیرسرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہ سرکاری سکولوں سے مطمئن نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں پڑھانے والوں کی اکثریت میریٹ پر اساتذہ کی صف میں نہیں پہنچی ہے، وہ تعلیمی صلاحیت سے عاری ہے اور وہ بچوں کی علمی و فکری تشنگی بجھانے کی قدرت نہیں رکھتی۔

ایسے میں ہر باشعور انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام میں شعور بیدار کرے، ان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ تعلیم کا حصول ہر انسان کا بنیادی حق ہے، تعلیمی ادارے عوام کے بچوں کے لئے ہیں، جن میں قابلیت کے معیار کی بنیاد پر اساتذہ کا انتخاب نہ کرنا قوم کے بچوں کے ساتھ خیانت ہے۔ اسی طرح ان کو یہ تاکید کی جائے کہ جن جن اداروں میں نا اہل افراد پہنچے وہاں کے متعلقہ عوام مصلحتوں کا شکار ہو کر خاموش رہنے کے بجائے اس ادارے کے ذمہ داروں کے پاس جاکر انہیں نکال باہر کرنے کے لئے بھر پور آواز اٹھائیں۔

ماہرین تعلیم کے مطابق اساتذہ کلاسوں میں حاضر ہو کر طالب علموں میں تعلیمی استعداد بڑھانے کے لئے جو فعالیت سرانجام دیتے ہیں اسے تدریس کہتے ہیں۔ تدریس کا عمل ذیلی تین خصوصیات کا حامل ہونا ناگزیر ہے :

1) تدریس کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ استاد اور شاگردوں میں تعامل ہو۔ یعنی تدریس استاد اور شاگردوں پر مبنی دو طرفہ عمل ہے، جس میں ان دونوں کی بھر پور شرکت ضروری ہے۔ اس بناء پر کلاس میں بچوں کو جاہل محض فرض کر کے استاد فقط اپنی مہارت کا جوہر دکھانا فن تدریس کے خلاف ہے۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں مرسوم تدریسی نظام میں اس خصوصیت کا فقدان ہے۔ ان میں اکثر پڑھانے والے کلاسوں میں اپنی قابلیت کی نمائش ہی کرتے ہیں۔

وہ جس موضوع پر بحث کرتے ہیں اس میں طلباء کی مشارکت کی اہمیت کے قائل نہیں ہوتے۔ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ کلاسوں میں شریک بچے خالی الذہن ہوتے ہیں، جو مطالب ہم ان کے ذہنوں میں منتقل کر دیتے ہیں انہی کو ذہن نشین کر لینا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہیں بحث میں مشارکت کی اجازت دینا ان کے وقت کو تلف کرانے کا مترادف ہے۔

ایسی فکر کے حامل اساتذہ کے مطابق دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ کلاس میں شاگردوں کو بز اخفش کی طرح صرف سامع بنا کر رکھا جائے اور استاد ان کو اچھی طرح درس کے الف سے یاء تک حرف بہ حرف پڑھا اور سمجھا دیا جائے۔ ایسے اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ کر کے پڑھنے والے افراد امتحانات تک ٹیب رکارڈ ضرور بن جاتے ہیں اور ممکن ہے وہ امتحانات میں اچھے نمبروں کے ساتھ پاس ہونے میں بھی کامیابی حاصل کریں، مگر ایام امتحانات گزرنے کے بعد ان کے ذہنوں سے رٹ کر محفوظ کیے ہوئے علمی مطالب کا محو ہوجانا یقینی ہے، جس کی بنیادی وجہ دروس کو سمجھ کر ذہن کے سپرد کرنے کے بجائے طوطی کی طرح رٹ کر یاد کر لینا ہے۔

2) تدریس کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ استاد کلاس میں شاگردوں کو درس کے مطالب اچھی طرح سمجھ کر ذہن نشین کرنے کے لئے مناسب فرصت دی جائے۔ یہ درست نہیں کہ کلاس کے شروع سے آخر تک اساتذہ کرام ہی لب کشائی کرتے رہیں، وہ ہی پے در پے مطلوبہ بحث کے مختلف نکات پر بات کرتے رہیں، بلکہ منطقی طریقہ یہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ کلاس میں بحث کو آگے بڑھا دی جائیں۔ جب ایک اہم نکتے کی وضاحت ختم ہو جائے تو دوسرے نکتے کو بیان کرنے سے پہلے شاگردوں کو سوچنے کا موقع دیا جائے۔

3) تدریس کی تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ تدریس شروع کرنے سے پہلے ہی استاد کا ہدف معین ہونا چاہیے۔ اس کے لئے پوری آمادگی کے ساتھ تدریسی عمل کو سرانجام دینا ضروری ہے۔ کلاس میں اساتذہ خود بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جو اساتذہ فن تدریس کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلاس میں شاگردوں کو ٹیب ریکارڈ بننے پر مجبور کر کے فقط اپنی قابلیت کا ہنر دکھانے کے درپے ہوتے ہیں ان کی تدریس مثمر ثمر نہیں ہو جایا کرتی۔ شاید ایسے اساتذہ پر جگن ناتھ آزاد کا یہ شعر منطبق ہو جائے۔

ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا
انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

اس بات کی طرف اشارہ ہوا کہ کلاس میں شاگردوں کو سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی فرصت دینا لازم ہے، اس کے بغیر ان کے لئے دروس زیادہ مفید ثابت نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں سوال کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ متعدد روایات میں اس کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ مثلاً امام باقر؟ (ع) فرماتے ہیں :«الْعِلْمُ خَزَائِنُ وَالْمَفَاتِیحُ السُّؤَالُ فَاسْاَلُوا یَرْحَمُکُمُ اللَّھُ فَاِنَّھُ یُؤْجَرُ فِی الْعِلْمِ اَرْبَعَةٌ السَّائِلُ وَالْمُتَکَلِّمُ و َالْمُسْتَمِعُ وَالْمُحِبُّ لَھُمْ ”علم خزانوں کا نام ہے جو سوال کرنے سے کھلتے ہیں۔ پس خداوند متعال آپ پر رحم فرمائے سوال کیا کرو، کیونکہ اس کام سے چار افراد“ سوال کرنے والے، تعلیم دینے والے، سننے والے اور جواب دینے والے ”کو اجر و ثواب دیا جاتا ہے۔

سوال کرنے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ بطور نمونہ ان میں سے کچھ یہ ہیں :
1) سوال کرنے سے درس کے مفاہیم درک کرنے کے دوران پیش آنے والے ابہامات برطرف ہو جاتے ہیں۔
2) سوال کرنے سے طالب علم کی ناقص معلومات کی تکمیل ہوجاتی ہے۔
3) سوال کرنے سے طالب علم کو مطلوبہ موضوع کے بارے میں بیشتر اطلاعات کسب کرنے کی تشویق ملتی ہے۔
4) سوال کرنے سے کلاس میں موجود تمام افراد کی معلومات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
5) سوال کرنے سے طالب علموں میں اظہار خیال کی جرات پیدا ہوتی ہے۔
6) سوال کرنے سے طلباء کے ذہنوں میں تحقیق کے لئے نئی جہتوں کے دروازے وا ہو جاتے ہیں۔

7) سوال کرنے سے علمی پیچیدہ مطالب کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے اور طالب علموں میں استدلال کی قوت بڑھ جاتی ہے۔

8) سوال کرنے سے طالب علموں میں تحقیق کا انگیزہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ تحقیق کا پہلا قدم ہی سوال ہے۔
9) سوال کرنے سے طالب علموں کا ذہن درسی مطالب پر مختلف پہلووں سے سوچنے پر قادر ہوتا ہے۔

توجہ رہے کہ کلاس میں فقط سمجھنے کی نیت سے سوال کیا جائے اور اسے موضوع سیمربوط ہونا بھی لازم ہے۔ طالب علموں کو چاہیے کہ استاد کے درس کے محتوا کو مد نظر رکھ کر اپنے سوالات کو ذہن میں مرتب کر کے کلاس میں استاد کے سامنے رکھے جائیں۔ اس حوالے سے انواع و اقسام کے سوالات شاگردوں کے ذہنوں میں ابھرنا ممکن ہے ”جیسے موازنے پر مبنی سوال مثلاً فلسفہ اخلاق میں وظیفہ گرا اور غایت گرا کے نظریات میں کیا فرق ہے؟ انتخاب پر مشتمل سوال جیسے تدریس اور تحقیق میں سے کس کو ترجیح دینی چاہیے؟

علت و معلول پر مبنی سوال مثلاً بدا کیوں حاصل ہوتا ہے؟ توضیحی سوال جیسے برہان سینوی کے ذریعے کیسے واجب الوجود کو ثابت کیا جاسکتا ہے؟ خلاصہ کے تقاضا پر مشتمل سوال جیسے انقلاب اسلامی کے اثرات کا خلاصہ کیا ہے؟ مثال کی طلب پر مشتمل سوال جیسے جو مطلب آپ نے بیان فرمایا ہے اس کی کوئی مثال بیان کیجئے؟ تجزیہ و تحلیل کے مطالبے پر مبنی سوال جیسے آزادی کی خصوصیات بیان کریں؟ طبقہ بندی کی خواہش کے لئے سوال جیسے انقلاب اسلامی کا الہی نظریہ ہونا نیکی کے کون سی نظریے میں شامل ہوتا ہے؟ نتیجہ گیری کی درخواست پر مشتمل سوال جیسے امیر المومنین نے مالک اشتر کے نام لکھے ہوئے خط سے کون سا نتیجہ ہم لے سکتے ہیں؟

Facebook Comments HS