ٹرین ٹو کوئٹہ۔ ایک مسافر کی داستان 6


زیرو پوائنٹ؛ خرواری بابا جاتے ہوئے راستے میں ایک پرفضا مقام آتا ہے جسے زیرو پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ زیرو پوائنٹ سے آپ نہ صرف وادیٔ زیارت کا خوبصورت نظارہ کر سکتے ہیں بلکہ ٹھنڈی ہوا کا لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔ وادی کا سب سے اونچا پہاڑ ”خلافت“ بھی یہاں سے نظر آتا ہے۔ یہاں کئی فیملیز پکنک کے لیے آتی ہیں۔ زیرو پوائنٹ کی خاص بات وہ درخت ہے جس کو دیکھیں تو اللہ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔

زیارت خرواری بابا ؛ زیارت نام کی وجہ تسمیہ اس مزار سے منسلک ہے جو ریزیڈنسی سے کچھ آگے اونچائی پر واقع ہے۔ یوں تو اس علاقے میں مزار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے لیکن خرواری بابا کی کہانی الگ ہے۔ خرواری بابا کا اصل نام مُلا طاہر ہے جو نانا صاحب میاں عبدالحکیم کے شاگرد تھے۔

قصہ زبان زدِ عام ہے کہ ایک مرتبہ نانا صاحب غوسکی میں آپ کے ہاں مہمان ہوئے اور رات کو عبادت کے دوران مُلا طاہر سے پان مانگا۔ مُلا پانی کا کٹورہ لے کر استاد کے پاس آئے تو انہیں عبادت میں مشغول پا کر پانی دینا مناسب نا سمجھا اور وہیں کھڑے رہے۔ جب نانا صاحب عبادت سے فارغ ہوئے تو مُلا طاہر سے پانی لیتے ہوئے دیکھا کہ سخت سردی سے ان کے ہاتھ کی چمڑی اتر رہی تھی۔ اس پر نانا صاحب نے آپ کو خرواری بولتے ہوئے نانا گنج کا خطاب دیا۔ یہ روایت کتنی سچی ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

آپ کے مزار کی وجہ سے غوسکی کا نام زیارت رکھا گیا کہ پشتو زبان میں مزار کو زیارت کہا جاتا ہے۔

صنوبر کے قدیم جنگلات؛ زیارت کا علاقہ صنوبر کے وسیع و عریض جنگلات سے گھرا ہوا ہے جو پاکستان میں صنوبر کے جنگلات (جونیپرس سیراوشینکا) کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔

اپریل 2016 میں محکمہ آثارِ قدیمہ پاکستان کی جانب سے یونیسکو کو جمع کروائی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق زیارت کے جنگلات لگ بھگ ایک لاکھ دس ہزار ہیکٹر پر محیط ہیں۔

ان جنگلات میں ہمیں قدیم ترین درخت ملتے ہیں جن میں سے کچھ 4000 سال پرانے ہیں۔ یوں انہیں ”لِونگ فوسلز“ یعنی زندہ رکاز کا نام دیا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنگل دنیا میں اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا جنگل ہے جسے حکومت پاکستان نے 2013 میں ایک محفوظ علاقہ قرار دیا ہے۔ یہ کالے ریچھوں اور بھیڑیوں کے ساتھ ساتھ اڑیال اور سلیمان مارخور (جنگلی بکریوں کی ایک بڑی نسل) کا مسکن بھی ہے۔

یہاں سے ہم نے زیارت کو الوداع کہا اور کوئٹہ کی جانب رخ کر لیا۔ بوستان کے قریب میں نے ٹیکسی والے بابا جی کو راستہ سمجھایا اور ہم بوستان اسٹیشن جا پہنچے جو ماضی کا ایک گنجان جنکشن ہوا کرتا تھا۔

بوستان جنکشن ؛ جہاں پنجاب و سندھ کے زیادہ تر سٹیشن پُر ہجوم اور یکساں مناظر کے حامل ہیں وہیں بلوچستان کے اسٹیشن چھوٹے، خاموش اور قدرتی مناظر کے بیچ گھرے ہوئے ہیں۔ انہی میں سے ایک ”بوستان“ ہے جو میرا پسندیدہ اسٹیشن ہے۔

بوستان کا نام کاکڑ قبیلے کے ایک سردار اور افغان جنگِ آزادی کے ہیرو، بوستان کے نام سے موسوم ہے۔ بوستان کوئٹہ کو ژوب، ہرنائی اور چمن سے ملانے والی مختلف ریلوے لائنوں پر ایک دور میں اہم جنکشن ہوا کرتا تھا لیکن ریلوے کی تباہی کے ساتھ ساتھ بوستان بھی اجڑتا گیا اور اب یہاں برف پوش پہاڑوں کے بیچ ریل کے چند ڈبے کھڑے نظر آتے ہیں۔

بوستان کو ژوب سے ملانے والی تنگ پٹڑی ایک دور میں برصغیر کی سب سے لمبی تنگ پٹڑی تھی جس پر گیارہ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ انہی میں سے ایک ”کان مہترزئی“ کو پاکستان کے سب سے بلند ریلوے اسٹیشن کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ایک دور میں خوب آباد رہنے والا بوستان اب ایک ویران اسٹیشن ہے (اگرچہ کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پیسنجر یہاں سے گزرتی ہے ) جہاں لال پہاڑوں کے بیچ بوسیدہ لائنوں پہ کھڑے ریل کے چند ڈبے اس انتظار میں ہیں کہ کسی مخلص وزیر کے ایک حکم پر کوئی انجن آئے گا اور انہیں کھینچ کے ملک کے طول و عرض میں لیتا جائے گا۔

واپس کوئٹہ پہنچے تو انوار بھائی کی شدید خواہش پر ہم نے پھر سے سرینا کا رخ کیا اور فیض بھائی کے ہمراہ میٹھے سے لطف اندوز ہوئے۔ فیض بھائی کو کل کے وعدے پر الوداع کہا اور ہم پہنچے میزان چوک جہاں کوئٹہ کی تمام بڑی مارکیٹیں کا سنگم ہوتا ہے۔ یہاں آپ کو ہر قسم کا سامان مل جائے گا جیسے کوئٹہ کی خاص نوروزی چپل، دانے دار کھلی چائے، خوشبودار گرم مصالحے، ہر قسم کا ڈرائی فروٹ، کمبلیں، رضائیاں، بیگ، جوتے، کورین ویلوٹ، ایرانی چاکلیٹس، چینی و ایرانی برتن اور وہ بھی نہایت مناسب داموں۔ اماں جی کی بنائی گئی لسٹ نکال کے میں نے کچھ شاپنگ اسی رات کر لی بقیہ کل پہ رکھ چھوڑی۔ ہوٹل کا رخ کیا اور تازہ دم ہو کے سو گئے۔

اگلا دن ہمارا کوئٹہ میں دوسرا اور آخری دن تھا کہ یہ ایک مختصر دورہ تھا سو اس دن کو بھرپور طریقے سے پلان کیا گیا۔

کوئٹہ کیفے سے دیسی ناشتے کی شروعات کی (جو کل کی نسبت بہت زیادہ لذیذ نا تھا) اور بازار کا رخ کیا۔ فارغ ہو کے ہم نے فیض کو لیا اور انہی ٹیکسی والے بابا جی کے ساتھ حنہ جھیل جا پہنچے۔

حنہ جھیل ؛حنہ جھیل دیکھنے کی مجھے کوئی خاص ایکسائٹمنٹ نہیں تھی کہ بچپن میں یہ جھیل میں دو بار دیکھ چکا تھا۔ سُنا تھا کے اس کا پانی کم یا خشک ہو گیا ہے لیکن اس دن ماشاءاللہ، جھیل کا پانی اور عوام کا سمندر دونوں ہی ٹھاٹھیں مار رہے تھے۔ چھٹی کے باعث عوام کا جم غفیر تھا۔

کوئٹہ کے شمال میں پہاڑوں کے بیچ واقع حنہ جھیل انگریز سرکار نے 1894 میں پانی کی فراہمی، زیر زمین پانی کی سطح بلند رکھنے اور آس پاس کی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے بنائی تھی۔ یہ جھیل ہجرتی پرندوں کی ایک بڑی آماجگاہ ہے۔

اس جھیل کی گہرائی لگ بھگ 43 فٹ ہے جہاں بارشوں اور برفباری کا پانی مختلف گزرگاہوں سے ہوتا ہوا اڑک روڈ پر واقع براستہ سرپل جھیل تک پہنچتا ہے۔

کافی عرصہ پہلے یہ جھیل مکمل خشک ہو گئی تھی جس سے یہاں کی سیاحت اور پرندوں کی آمد کافی متاثر ہوئی تھی۔ شدید بارشوں اور ہنگامی اقدامات کے باعث جھیل اب دوبارہ بھر چکی ہے۔

نیز فوج کی نگرانی میں ضروری حفاظتی انتظامات کے ساتھ یہاں آنے والوں کو کشتی کی سیر کروائی بھی جاتی ہے۔ جھیل کے قریب نصب لفٹ چئیر کو ایک حادثے کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔

یہاں ہم نے کئی پٹھان اور بلوچ نوجوانوں کی ٹولیاں دیکھیں جو مختلف گانوں پہ مقامی رقص اتن کر رہے تھے اور بہت سے لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ یہ رقص واقعی بہت مشکل تھا جس میں ردھم کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔

شام کو حنہ جھیل سے واپسی کے بعد اڑک کا رخ کیا جہاں ایک خوبصورت ہوٹل کے ٹھنڈے لان میں چائے پی اور رات کو کوئٹہ واپسی ہوئی۔ یہاں سے ہم نے فیض بھائی کو الوداع کہا اور اپنے ہوٹل کی راہ لی۔

اگلے دن علی الصبح اٹھے، تیار ہو کہ شالیمار ہوٹل سے ناشتہ کیا جس کی چائے پورے شہر میں مشہور ہے، اور سامان لے کر اسٹیشن پہنچ گئے۔ جعفر ایکسپریس جانے کے لیے تیار تھی۔ اپنے ڈبے میں سامان رکھا اور واپسی کا سفر شروع ہوا۔

اب بات ہو جائے کچھ حالات و واقعات کی۔ میرے بہت سے دوستوں اور پڑھنے والوں نے اس سفر کے حوالے سے مختلف سوالائے کیے تھے جن کے چیدہ چیدہ جوابات میں یہاں دینا چاہوں گا۔

کیا بلوچستان محفوظ ہے؟

اگر حقیقت کی عینک لگا کے دیکھا جائے تو پاکستان کے بیشتر علاقے محفوظ نہیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں بھی ڈکیتیاں ہو جاتی ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر علاقے جیسے ژوب، کوئٹہ، زیارت، سبی، نصیر آباد، پشین، لورالائی، رکھنی، بارکھان وغیرہ محفوظ ہیں۔ آپ یہاں بسوں پر، ٹرین پر اور اپنی سواری پر بھی جا سکتے ہیں۔ ہمارے ہوٹل کے آس پاس سب کو پتہ تھا کہ ہم سرائیکی اور پنجابی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم آرام سے رہے۔ ہاں کچھ علاقے جیسے پنجگور، تربت، مکران، ہرنائی وغیرہ یہاں اکا دکا واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن یہاں کی عوام بہت پر امن اور مہمان نواز ہے۔ اگر ان علاقوں میں آُپ کا کوئی مقامی یار دوست ہے تو آپ بلا جھجک جا سکتے ہیں۔

لوگوں کے رویے اور عوام کی حالت زار،

بلوچ قوم بہت باشعور اور کھلے ذہن کی ہے۔ پڑھنے لکھنے، رقص، موسیقی، شاعری اور سیاحت کا شوق رکھتی ہے۔ کتب بینی کو پسند کرتی ہے۔ طلبا کا جھکاؤ بائیں بازو کی سیاست کی طرف ہے۔ ملنسار اور مہمان نواز لوگ ہیں۔ کوئٹہ میں رکشے والے سے لے کر ہوٹل والے تک سب نے پیسے لینے سے انکار کیا لیکن ہم سیاح تھے، سو ہم نے پیار سے انہیں منع کر دیا اور کرایہ ادا کیا۔ شاپنگ کے وقت بھی مجھے خصوصی رعایت دی گئی، اتنی تو پنجاب اور سندھ میں بھی نہیں ملتی۔ ٹیکسی والے پٹھان بابا جی بھی کمال تھے۔ پورا راستہ ہم دوست سیاست اور علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں پر کھل کے بات کرتے آئے لیکن انہوں نے کہیں کوئی مداخلت نہیں کی نا ہی ناگواری ظاہر کی۔

عوام کی حالت زار بالکل ویسی ہے جیسے اندرون سندھ میں ہے۔ پنجاب کی عام تحصیل بھی بلوچستان کے ضلعی صدر مقام سے بڑی اور بہتر ہے۔ بلوچستان کے بیشتر شہر انفراسٹرکچر میں بہت پیچھے ہیں۔ پسماندگی جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ زیارت جیسے شہر تو اپنی خوبصورتی اور باغات کے پیچھے چھپ جاتے ہیں لیکن سبی، بوستان، ڈیرہ اللہ یار اور ڈیرہ مراد جمالی کو دیکھ کے بس یہی خیال آتا ہے کہ اس صوبے کا بجٹ آخر جاتا کہاں ہے۔ ؟

سرکاری اسپتال کوئی خاص نہیں ہیں۔ کوئٹہ کا سب سے اچھا اسپتال (سی ایم ایچ) کینٹ میں واقع ہے جہاں ہر عام شخص کا داخلہ بند ہے۔ پرائیویٹ اسپتال بھی زیادہ نہیں ہیں۔ کینسر، گردوں اور ریڈیالوجی کے ماہر ڈاکٹرز کی کمی ہے۔ بڑے شہروں کے علاوہ کہیں صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔

جاری ہے

Facebook Comments HS