آسمانی، زمینی کہانی


یہ داستان اُس وقت کی ہے جب کائنات کی بنیادیں ہموار ہو رہی تھیں، اور آسمان و زمین ایک دوسرے کے سائے میں پروان چڑھ رہے تھے۔

ہر شے کی تخلیق میں ایک راز پوشیدہ تھا، اور ہر رنگ میں زندگی کی ایک نئی جہت پنہاں تھی۔

اسی دوران، تخلیق اور ارتقا کی اس کائناتی داستان کا آغاز ہوا، جہاں روشنی اور تاریکی کی سرحدیں مٹنے لگیں، اور کائنات نے خود کو ایک نئی حقیقت میں ڈھالنا شروع کیا۔

باب اول: تخلیق اور ارتقا

چھوٹے، شرارتی بادلوں کی نگہداشت اور پرورش کے لیے بڑے آسمان کو بلایا گیا تاکہ معصوم، نوخیز ملائم بادلوں کو تربیت و تعلیم سے مزین کیا جا سکے۔ اِس تعلیمی اور کائناتی سفر میں آسمانی قوتوں نے اپنے فنون کے تمام جوہر پیش کیے جانے کا باضابطہ اعلان پہلے ہی کر دیا تھا۔

سب سے پہلے سورج نے سنہری تاروں کی تادیر روشنی سے آسمان کو سلامی پیش کی اور پھر آسمان کا اِذن مل جانے کے بعد اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے چاند کی جانب دیکھنے لگا۔ سورج کا اشارہ جان کر چاند نے سیٹی بجائی۔ تمام اَبر حلقہ بند ہوئے اور آبِ حیات کا امرت خود میں یوں بھر لیا کہ کائنات کے اختتام تک کوئی انہیں خالی نہ کر سکے۔

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب سیاہی اور سفیدی ایک دوسرے کی جنگ نہ تھے اور نہ ہی ان کا مزاج منتشر تھا۔ سب کچھ ایک سا بلکہ ایک ساتھ گوندھا گیا تھا۔ فرق نام کی تمیز بھی نہ تھی مگر سیانے لوگ پھر بھی پہچان کر لیتے کہ وہ سیانے اسی ایک بات کے سبب تھے۔

پھر ہوا کچھ یوں کہ سائبان، درختوں کی شاخوں کی طرح پھیلتا چلا گیا اور تخلیق کے قلزم میں نئی زندگی کا تخم رکھا گیا۔ اَن دیکھی، اَنجانی طاقتوں نے خاطر خواہ دیکھ بھال اور سلیقے سے اِس نئی زندگی کے تخم کو سینچا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جہانِ آفاق میں ایک اور جہان آباد ہو گیا، مگر یہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا کہ قیام ایک طویل جہت کا حاصل ہے مگر اسے بھی دوام نہیں۔

تو بات ہو رہی تھی نئے جہان کی، تخلیق کے نئے قلزم کی، نئی زندگی کے بالکل نئے اور ترو تازہ ظہور کی، اور آسمانی بادلوں کی تربیت کی۔

آسمانی بادلوں کے سینے میں غم کا آتش فشاں تو نہ تھا مگر پھر بھی قدرت اور فطرت کی تفریق سمجھنے اور سمجھانے کو کبھی کبھار گھن گرج کر فضا میں وحشت اور رحمت تقسیم کرتے رہتے۔ رات کئی حصوں میں تقسیم ہونے لگتی اور دن کی ہڈیاں پسلیاں تک ٹوٹ جاتیں۔ آخر بڑی طاقتوں کے اوپر بھی انجانی طاقتوں کے پہرے تھے۔ طلسم ہوش ربا نہ تھا مگر ہوش و حواس کی ساری کنجیاں اچانک کھو جانے سے سوگ اور اضطراب کا جو مِلا جلا احساس ہوتا ہے، ویسا ہی اُس وقت سویرے اور اندھیرے کے جزئیات سے نمو ہوا۔ ایک سرکش خاموشی جو جہان و مکان کی تہہ سے سرک گئی۔ بھورے، کالے جنگلوں میں خوف اور بزدلی کے پَر قہر کی علامت بن گئے اور نیلی روشنی کے بڑے گنبد سے ایک چیخ کی گونج دار آواز طلوع ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے سارے عالم میں پھیلتی چلی گئی۔

دھندلکے نے سر اٹھایا تو اجسام برف بن گئے۔

برفیلے اجسام، بادلوں کی چاک و چو بند فوج کے چوکس دستے، اور مخملی پیڑوں کی پھیلتی شاخوں میں گم ہوتا ہوا سائبان۔

ایک تہذیب نیست و نابود ہوئی اور ایک نئے زمانے کے شگوفوں نے سر بلند کیا۔ ہر طرف خوشبو کے قافلے رقص کرنے لگے۔ چاند، سورج اور ستارے باری باری اپنی روشنی کے جوہر پیش کرتے رہے۔ کائنات میں مبارکباد کے خط بانٹے گئے۔ اس سارے اچھے سلسلے میں ایک کام ایسا بھی ہو گیا جس کے سبب آج یہ تحریر لکھنے کی نوبت آئی۔

بے رحم خداؤں کی بے رحم اولادوں نے جرم کی اندھی کوٹھڑیوں میں پرانے خستہ حال پجاریوں کو زندہ جلا دیا کہ نئے جہان میں ان کی کوئی ضرورت تھی نہ جگہ۔

یہ ایک سانحہ تھا یا حادثہ؟ دنیا میں مباحث کا آغاز ہوا۔
۔
باب دوم: بے ترتیبی اور زمان

تخلیق و ارتقا کے کائناتی مناظر میں روشنی اور حیات کا جشن عارضی تھا۔ زمان و مکان کی حدوں سے ماورا مگر ابتدا سے موجود سرکشی نے اپنا خول توڑ دیا۔ رفازر دیوتا، دائروں کا خدا، نیند سے بیدار ہوا، انگڑائی بھری، اور سارے عالم میں ایک خوفناک جنگ برپا کر دی۔

جب توڑ پھوڑ سے جی نہ بھرا تو زکوٹا جن کی داہنی پسلی توڑ دی، کائنات کے قلب میں سورج کو گیارہ حصوں میں تقسیم کر دیا اور پھر ہر حصے کی روشنی کو صندل کی لکڑی سے بنی بانسری سے گزار کر وحشت و غضب سے بھر پور ایک آسمانی نعرہ بلند کیا۔

کائنات دم بخود تھی۔ زمین کا سینہ ٹوٹ رہا تھا۔ پہاڑوں کا دل پھٹ گیا تھا۔ بادلوں پر پژمردگی طاری تھی۔ ستارے جہنم میں جا گرے تھے۔ بجلی آسمان کے بوجھ تلے کچلی گئی تھی اور فرشتوں پر ہیبت کے سائے لہرانے لگے تھے۔

یاقوت کے درخت جو صدیوں سے دور تک پھیلے تھے، وہ بھی اب پگھلنے لگے تھے۔ رفازر دیوانہ وار قہقہے لگاتا سارا تماشا دیکھتا رہا۔

الاوس دیوتا بڑی دیر سے پہلو بدلتے ہوئے ساری صورتِ حال دیکھ رہا تھا اور غصے سے مغضوب ہو رہا تھا۔ رفازر کی شرارت نے کائنات کے نظام میں ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔ کیا انسان، کیا چرند، اور کیا پرندے، سبھی اس قہر کی لپیٹ میں اپنا آپ کھو رہے تھے۔ تباہی اور بربادی کے مسلسل شور کے بعد ایک دم خاموشی ہو گئی۔

خاموشی طول پکڑنے لگی تھی۔

اب کی بار الاوس دیوتا نے پینترا بدلا اور ایک الوہی گرز گھما کر رفازر کے دماغ پر دے مارا۔ زور دار جھماکا ہوا اور ایک لمحے کو رفازر کا سر چکرا گیا۔ ابھی اس کے حواس بحال نہ ہوئے تھے کہ الاوس نے دوسرا وار کیا۔ رفازر کے دماغ میں پھلجھڑیاں سی پھٹنے لگیں۔ الاوس کے دو وار اور رفازر کا سارا غرور غارت ہو گیا۔ تباہی اور بربادی کی گردن ٹوٹ گئی۔ کائنات کی بے ترتیب دھڑکنوں میں قرار آیا۔

رفازر نے جھک کر الاوس کے قدموں میں سجدہ کیا اور بغیر کسی دفاع کے اپنی شکست تسلیم کر لی۔
سر بسجود رفازر نے ایک جملہ کہا اور پھر وہیں دم توڑ گیا :
بے ترتیبی کے اس جہان میں سلیقے سے رہنے کی روش ہمیشہ قربانی مانگتی ہے!

Facebook Comments HS