خود کشی کوئی کیوں کرتا ہے؟


خودکشی کی اصل وجہ صرف ایک ہے ’بے حد و بے حساب مایوس ہو جانا‘ ۔ اگر کسی شخص کو کوئی راہ نظر نہ آئے، کوئی اپنا نہ لگے، کوئی ہمدرد اور غم خوار نہ ملے، تو ایسے میں اس کو دنیا کے غم بہت بڑے لگنے لگتے ہیں۔

وہ اس دنیا سے اتنی نفرت کرنے لگتا ہے کہ اس کو جینے میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ زندگی کی رعنائیاں اس کو بے رنگ لگتی ہیں۔

خودکشی صرف یہ نہیں کہ خود اپنا قتل کیا جائے، بلکہ خودکشی کے اور بھی راز ہیں :
* جیسے کوئی اپنی ہر تمنا ختم کر دے،
* جیسے کوئی اپنا ہر خواب توڑ دے،
* جیسے کوئی اچھے کپڑے پہننا چھوڑ دے،
* جیسے کوئی گھر کا آنگن چھوڑ جائے،
* جیسے کوئی تیار ہونا بھول جائے،
* جیسے کوئی محبت کرنا ترک کر دے،
* جیسے کوئی اپنا خیال رکھنا بھول جائے،
* جیسے کوئی آئینہ دیکھنا بھول بیٹھے،
* جیسے کوئی مسکرانا چھوڑ دے،
* جیسے کوئی مرنے سے پہلے مر جائے کہ بس وقت مقررہ پر لوگ اسے دفنا دیں۔

اپنے ارد گرد دیکھیں، آپ نے کسی کو اتنا ستایا ہوا دیکھا ہو، آپ نے کسی کو اتنا پریشان دیکھا ہو، آپ نے کسی کو اتنا غمزدہ دیکھا ہو:

اگر ایسا ہے تو ’غم خواری ضرور کریں۔

* لوگ موجودہ اور خود ساختہ مہنگائی سے نہایت پریشان ہیں، بالخصوص مڈل کلاس لوگ جنہوں نے سفید پوشی کا بس ایک بھرم رکھا ہوتا ہے، ان کے لیے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر کچھ کر سکیں تو ان لوگوں کی مدد کرنے کی کوئی راہ نکالیں۔ شرفا کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں۔

* بات کرنا ایک ہنر ہے اللہ نے ہمیں دو خوبیوں کی وجہ سے اشرف المخلوقات کا رتبہ عطا کیا ہے ایک خوبی عقل ہے اور دوسری خوبی زبان کا استعمال ہے۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ بہترین طریقے سے بات کرے۔ بات کرنا بھی ایک ہنر ہے جو کسی کسی کو آتا ہے۔ زہر میں بجھے ہوئے الفاظ کا استعمال دلوں کو توڑ دیتا ہے۔ ایک اچھا خاصا، ہنستا کھیلتا انسان طنز کی وجہ سے خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔

* لوگ عموماً اچھے لسنر listener نہیں ہوتے، ان کو لوگوں کی کہانیوں میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ اگر وہ کسی کی درد بھری داستان سن بھی لیں تو کم ہی لوگ کسی کے درد کو محسوس کر پاتے ہیں۔ کسی کے درد مند بن جائیں، حال دل سن لیں۔ کہتے ہیں، خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے اور درد بانٹنے سے کم ہوتا ہے۔ کسی کا حال دل سن لیں، ہو سکتا ہے اس کا درد کم ہو جائے، اس کے دل پہ مرہم رکھا جائے۔

* بہترین حس مزاح مومن کی نشانی ہوتی ہے۔ اپنے رویے کو نارمل اور مزاج کو شگفتہ رکھیں۔ کچھ وقت اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں گزاریں۔ لوگوں کے خوبصورت دانتوں کو ذرا دیکھا کریں، آپ دیکھیں گے کہ عام سی شکل و صورت والے لوگ بھی ہنستے مسکراتے ہوئے کتنے خوبصورت لگتے ہیں۔ ہنسنا مسکرانا ویسے بھی درد و غم کی ایک تھیراپی ہے۔

* اپنے ارد گرد کے لوگوں کو ایک نارمل مگر سادہ زندگی گزار کر دکھائیں۔ ایک پرسکون زندگی ہی اصل متاع حیات ہے۔ لوگوں کے دل و دماغ کو نارمل زندگی کی طرف لائیں۔

یاد رکھیے گا اس کا بڑا اجر ملے گا کیونکہ ایک انسان کو بچانا تمام انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔
نیت ہمیشہ اچھی رکھیں۔ باقی سب خیر ہو گی انشاءاللہ۔

Facebook Comments HS

One thought on “خود کشی کوئی کیوں کرتا ہے؟

  • 27/08/2024 at 2:04 شام
    Permalink

    very nice article

Comments are closed.