کالاشی ثقافت کے مزید دلکش رخ
ڈین کا مقصد دراصل کالاش قوم کو ضبط نفس کی تعلیم دینا ہے۔ بالعموم اس کا دورانیہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہے یعنی 14 اگست سے 29 ستمبر تک۔ بزکشی کی ادائیگی گویا اس قانون کے خاتمے کا اعلان ہے۔ اس رسم کے بعد ایک دن کے وقفے سے پوڑ کا میلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اب ہم سب کے چہروں پر بزکشی سے متعلق سوال رقم تھا۔ جسے انہوں نے پڑھا پر ان کے بولنے سے پہلے چائے آ گئی تھی۔ چائے کے ساتھ جو لوازمات آئے تھے اُن میں بھُنے ہوئے مکئی کے سفید بھُٹے مغز اخروٹ خشک خوبانی اور بسکٹ۔
میں نے مکئی کا آدھا بھٹہ اُٹھایا اُسے چھوٹی سی چکی ماری تو صاحب خانہ نے ساتھ ہی مغز اخروٹ والی پلیٹ آگے کرتے ہوئے کہا۔
” بھُٹہ اس کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔“
” بہت خوب۔“ اس نئے آمیزے کو شوق سے کھاتے ہوئے میرے منہ سے نکلا۔
” وادی کی مکئی ابھی کچی ہے کل میں چترال سے یہ لایا تھا۔ اخروٹ بھی پار سال کا ہے۔ نیا تو ابھی درختوں پر ہے۔ “
چائے کا گھونٹ بھرنے کے بعد کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے انہوں نے بات جاری رکھی۔ بزکشی کی رسم کے لیے عصر کا وقت بکری کے دو بچے وادی کے سر کردہ معزز لوگ ایک نابالغ بچہ جس نے نہانے کے بعد نئے کپڑے سر میں تیل اور آنکھوں میں سُرمہ لگایا ہو ضروری ہیں۔ یہ لوگ ہمارے سب سے طاقتور دیوتا مہاندیو جو وادی سے بہت دور چنار کے درخت کے نیچے ایک چھوٹی سی دیوار پر موجود ہوتا ہے کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔
بکری کے پہلے بچے کو نابالغ بچہ بغیر کسی مدد کے خود ذبح کرتا ہے۔ کلہاڑی سے کھال اُتارے بغیر اُسکے ٹکڑے کرتا ہے۔ مہاندیو پر اُسکے خون کے چھینٹے پھینکتا ہے اپنے سر پر بھی ملتا ہے۔ دوسرے بچے کے ساتھ وہی عمل پھر دہراتا ہے۔ اُسے بھی ٹکڑوں میں کاٹتا ہے۔
معززین میں سے ایک آدمی اس کی طرف خشک لکڑی کی ٹہنیاں پھینکتا ہے جنہیں جلا کر بچہ اُس پر گوشت بھون کر خود کھاتا ہے۔
اپنے لیے معززین کا علیحدہ گوشت بھوننا اُسے کھانا اور پھر انگوروں سے منہ میٹھا کرنا ضروری ہے۔ دو دن بعد وادی میں میوہ اُتارو کی رسم شروع ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا آپ پندرہ دن ٹھہر جائیں۔ انہوں نے ہماری طرف دیکھا۔ یقین جانئیے۔ پوڑ والے دن اس تنگ سی وادی میں حسن و رنگوں کی پچکاریاں یوں چھٹتی ہیں کہ وادی اور اس پر تنا آسمان سبھی لال گلال نظر آتے ہیں۔
باہر کی وادیوں کے لوگوں سیاحوں گاڑیوں کی بھرمار اس زمین کے چپے چپے پر زندگی کو قہقہے لگاتے شور مچاتے اور ناچتے گاتے دیکھتی ہے۔ بڑی بڑی چوبی ٹوکریوں میں میٹھا رسیلا تازہ جنت کا پھل ٹنوں کے حساب سے اُترتا ہے اور منوں کی مقدار میں مفت بانٹا جاتا ہے۔
” پھل کی اتنی بہتات تو یقیناً وادی کے لیے کاروباری نگاہ سے بہت منافع بخش ہو گی۔“
زہرہ ممتاز کا یہ سوال کچھ ایسا بھی نہ تھا کہ شیر بیگ اس پر اپنی ہنسی ہی نہ روک پاتے۔ وہ ہنسے چلے جا رہے تھے۔ شاہ حسین مسکرائے چلا جا رہا تھا اور ہم تھے کہ ہونقوں کی طرح ان کی صورتیں دیکھے چلے جاتے تھے۔
ایک دانہ نہیں بیچتے۔ ان رسیلے میٹھے انگوروں سے شراب بنتی ہے۔ نہایت بڑھیا ذائقہ دار ارغوانی رنگت والی شراب جو گندم کے گیلے آٹے میں مغز اخروٹ اور نمک گھی کی آمیزش سے بننے والی روٹی کے ساتھ ہمیں دسمبر جنوری کے تاحد نظر پھیلے برف کے صحراؤں میں برچھی کی طرح کاٹنے والی یخ بستہ ہواؤں میں زندہ رکھتی ہے۔ ہمارا دسمبر کا چاؤ موس کا تہوار بھی اس کے بغیر ادھورا ہے۔
آپ کی چترال میں آنے والی حکمران اور ایلیٹ اس شراب کے لیے مری جاتی ہے۔ معلومات فراہم کی جا رہی تھیں دو لوئر مڈل کلاس عورتیں شراب کے اس درجہ پسندیدہ ذکر پر چیں بچیں تھیں۔ اُن کی پیشانیوں کی لکیریں اور آنکھوں سے باہر جھانکتی زبان اس ذکر کو یہیں ختم کرنے کے لیے کہتی تھی۔ پر تیسری مڈل کلاسی کو یہ سب منظور نہیں تھا۔
میں پتھروں کی ہوزری دیکھتی تھی۔ زون (شراب بنانے والا آلہ) کے بارے میں سُنتی تھی۔ انگوروں کے پاؤں سے کُچلے جانے کے عمل کی تفصیل جان رہی تھی۔ وادی کا ہر گھر اس معاملے میں خود کفیل ہے۔ نیز تہواروں پر چترال کے مسلمان بھی بلا تکلف شراب پینے یہاں آتے ہیں۔
” بس کرو اب۔“ کوثر پنجابی میں چلائی۔ مسز ممتاز چلنے کے لیے کہتی ہیں۔
وہیں شراب کی ہوزری کے پاس میں نے بودلک کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ”زمانہ گزرا اس رسم کو ختم ہوئے۔ اب کوئی بودلک بھی زندہ نہیں جسے آپ کو دکھایا جائے۔ “ شیر بیگ نے رسان سے کہا۔
” مجھے یقین نہیں۔“ قطعیت سے پُر میرا جواب تھا۔
”معاشرے کے تہذیبی ارتقاء میں رسموں کا ختم ہو جانا اور نئی کا رواج پانا کچھ ایسا بھی غیر معمولی نہیں جس پر آپ کو اعتبار نہ آئے۔“
شیر بیگ کی دانائی سے پُر اس بات نے مجھے قائل تو ضرور کیا پر میری آنکھوں میں تذبذب تھا۔ سوال تھے۔ اور کچھ جاننے کی شدید خواہش۔ میں نے کوثر لوگوں سے وادی کو دیکھنے کے لیے کہا۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ اب وہ اس نئے افسانے کو سُنے جس کی حقیقت جاننے کے لیے مجھے اُچھل پیڑے لگے ہوئے تھے۔
اب یہ مشکل کام تو آپ کو ہی کرنا ہے۔ میں نے کمرے میں آنے اور بیٹھنے کے بعد کہا۔ وادی کی عورتوں کے ساتھ تو زبان یارمن ترکی ومن ترکی نمی وانم والا معاملہ ہے۔
تب وہ بولے۔


