ویلے کا ادبی چینل
عبدل القیوم ویل صاحب ادبی حلقوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ یہ خود شاعر، ادیب حتی کہ اچھے سامع بھی نہیں۔ ان کی پیٹھ پیچھے لوگ انہیں ویلے صاحب کہتے ہیں۔ اس بیٹھک میں ان جیسے ویلے لوگوں کا کام کن سوئیاں لینا ہے۔ کون کیا کر رہا ہے کس کا کسے چکر ہے کس نے چھپ کر شادی کی ہوئی ہے، کون شراب پیتا ہے کون نوکری نہیں کرتا۔
کل عبدل القیوم ویل صاحب کا فون آیا۔
”میں نے“ اب کے بچھڑے ”چینل بنایا ہے۔ آپ تو جانتی ہیں کہ یہ چینل ادبی چینل ہے اور اس سے کمائی وغیرہ تو ہوتی نہیں ہے میں یہ صرف شوق کے لیے کرتا ہوں، ادب کی آبیاری کے لیے کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جو گمنام لوگ کونے میں پڑے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں دنیا کو بتاؤں ان کا پیغام دنیا کو پہنچاؤں“ ۔
”جی جی ویل صاحب ضرور، لیکن آپ کے چینل کا نام کچھ عجیب سا نہیں ہے“ اب کے بچھڑے ”آپ بچھڑے پر زیر لگا دیں“ ۔
”عفت صاحبہ! یہی تو نام کی انفرادیت ہے کہ کچھ لوگ اسے زیر اور کچھ زبر کے ساتھ پڑھیں گے۔ تب ہی تو یہ ہمارا چینل پاپولر ہو گا لوگ کلک کریں گے“ ۔
”لیکن ابھی تو آپ نے کہا کہ آپ اپنے چینل کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہتے“ ۔
”جی بے شک، لیکن جو ادب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں یا جو ادب سے تعلق نہیں رکھتے وہ ادب کی طرف مائل تو ہوں۔ دیکھیں کہ ہمارے ہاں ادب کے کیسے کیسے نگینے موجود ہیں“ ۔
”مگر میرا ادب سے کوئی تعلق ہے نہ مقام“ ۔
”ارے محترمہ آپ بہت مشہور ہیں“ ۔
”جی مشہور ہونے کے لیے کون سا تخلیقی جوہر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ یہ تو سب سے آسان کام ہے“ ۔
”کسرِ نفسی سے کام لے رہی ہیں۔ آپ ایسا کریں کہ اپنے انٹرویوز جو اب تک ہوئے ہوں مجھے بھیج دیں تاکہ میں ان سے سوالات نکال لوں“ ۔
”جناب آپ پہلے ہیں، جو ہمارا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ آج تک ہمارا کسی نے انٹرویو نہیں لیا“ ۔
”چلیں کوئی بات نہیں یہ اعزاز ہمارے چینل کو ملے گا۔ آپ وہ سب سوالات بھیج دیجیے، جو آپ چاہتی ہیں کہ ہم آپ سے کریں“ ۔
اگلے روز ان کا فون آیا۔ لوکیشن بھیج دیں وہ راستے میں ہیں۔
غصہ تو بہت آیا۔ کم از کم دو گھنٹے پہلے انہیں فون کرنا چاہیے تھا تیار ہونے میں بھی تو وقت لگتا ہے۔
خیر لوکیشن بھیجنے کے بعد ہم منہ دھو کر آئینے کے سامنے بیٹھ گئے۔ ، چہرے پر ڈھیروں پاؤڈر کی تھپیاں چڑھائیں۔ ہونٹوں کے حدودِ اربع کو چوڑا کر کے پر گہرے لال رنگ کی لپ اسٹک لگائی۔ اور گالوں کو بلش آن سے لال کیا۔ چشمہ اتار کر ایک طرف رکھا۔ آئینے کے قریب جا کر آنکھوں کے چاروں طرف آئی برو پینسل لگائی، بھنووں کا سیاہ کیا۔
دروازے کی بیل بجی۔ چشمہ وہیں چھوڑا۔ اور جا کر دروازہ کھولا قیوم ویل صاحب کھڑے تھے۔ ہمیں غور سے دیکھتے رہے۔
جی عفت صاحبہ ہیں؟
”ارے ویلے صاحب آپ ہمیں پہچانے نہیں“ ۔ ہم شرما گئے۔
”آپ تو چشمہ لگاتی ہیں نا“ !
”جی جی، مگر آپ انٹرویو کرنے آئے ہیں نا اس لیے نہیں لگایا۔ آپ کا کیمرہ اور سامان وغیرہ کہاں ہے“ ۔
”ہم غریب لوگ بس اس سے ہی کام چلا لیتے ہیں“ ۔ انہوں نے جیب سے موبائل نکالا۔
”اس کی بیٹری ڈاؤن ہو چکی ہے، ذرا چارجر دیجیے گا“ ۔
آدھ گھنٹے بعد انٹرویو شروع کرنے سے پہلے انہوں نے پنکھا بند کروا دیا۔
ہمارے بھیجے گئے سوالات اٹک اٹک کر ہم سے پوچھتے رہے۔ ہم چہرے سے بہتا پسینہ پونچھتے جوابات دیتے رہے۔
ویلے صاحب نے رخصت ہوتے ہوئے بتایا کہ انہیں تو آئی ٹی سے واقفیت نہیں بچوں سے ایڈیٹنگ کروا کر وہ اسے یو ٹیوب پر ڈال دیں گے بار بار تاکید کرتے رہے کہ ہم اسے سوشل میڈیا کہ ہر پلیٹ فارم پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
پندرہ روز بعد انہوں نے انٹرویو کا لنک بھیج دیا۔
ہم نے انٹرویو دیکھا، کوئی چڑیل بیٹھی تھی۔
ہم نے انہیں فون کر دیا۔
”ویلے صاحب“ !
”ویلے نہیں ویل“ ۔
”یہ آپ کے بچوں نے کس طرح کی ایڈیٹنگ کی ہے“ ؟
”کیا ہوا عفت صاحبہ“ ؟
” یہ جن خاتون کا انٹرویو آپ نے بھیجا ہے، اسے ہماری آواز میں کیوں ڈب کیا گیا ہے“ ۔
محترمہ یہ آپ ہی کا انٹرویو ہے۔ آپ ہی ہیں، بہت مختلف لگ رہی ہیں۔ آپ ویسے میک اپ نہیں کرتیں ناں اس لیے الگ نظر آ رہی ہیں۔ پلیز اپنے انٹر ویو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ دنیا بھر میں آپ کے فالوورز ہیں۔
ہم نے نا صرف ویلے کا چینل ان سبسکرائب کیا بلکہ رپورٹ بھی کر دی۔

