جدید دنیا کا آدمی
جدید دنیا کا آدمی نہ صرف عجیب ہے بلکہ مجبور بھی ہے۔ جدیدیت کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے اور مختلف دکھنے کی لگن نے آج کے انسان کو اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ وہ آزادی کا داعی تو ہے مگر آزاد بالکل بھی نہیں۔ وہ تعلیم یافتہ ہونے کا دعویدار تو ہے مگر تعلیم اس کی ذات و عادات کا حصہ نہیں ہے۔ مصنوعیت کا شکار جدید آدمی اپنے مصنوعی خول کو حقیقت اور جمہوریت کا نام دینے میں تو کامیاب ہو گیا مگر اسے کامیابی کہنے سے معذوری ظاہر کرتا ہے اور یہی جدیدیت ہے اور یہی جدید دنیا کا تقاضا ہے۔
جدید دنیا آدمی کو مایوسی اور گومگوں کی کیفیت اور دانائی مخالف رویہ اور ہر طرح کی بنیاد کا انکار یا یوں کہیے کہ مقابلہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے جو کہ ایک حد تک بہت اچھی بات ہے کیونکہ یہی رویہ تخلیق کے لیے موزوں بھی ہے اور مناسب بھی۔ آدمی کا مشکوک ہونے کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر جدید دنیا اس کے شکوک و شبہات کا کوئی بھی علاج یا کوئی بدل دینے سے قاصر ہے۔ بدل یا جواب کی عدم موجودگی جدید آدمی کو ادھورا اور نامکمل بنا رہی ہے۔
تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب انسان نامکمل خیالات اور آدھے ادھورے خوابوں کے ساتھ تعمیر دنیا شروع کرتا ہے تو تعمیر کی بجائے تخریب کاری زیادہ لگتی ہے اور عوام معمار کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتی ہے حالانکہ اس میں معمار کا کوئی قصور نہیں ہوتا اور برا بھلا کہنے والے بھی غلط نہیں ہوتے کیونکہ وہ بھی جدیدیت کے تقاضوں سے ناآشنا ہوتے ہیں۔
نا آشنائیت سے آشنائیت کی تمنا بھی سب سے زیادہ کم پڑھے لکھے یا بالکل ان پڑھ لوگوں کی ہوتی ہے۔ وہ جو سب کچھ پانے سے قاصر ہوتے ہیں یا کسی وجہ سے نہیں پا سکتے ہوتے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ اپنی اولاد میں دیکھیں اور خوش ہوں۔ ( یہاں ضمنا ایک بات کرتا چلوں بحیثیت مجموعی ہم تماشے کو برا کہتے ہیں مگر تماشائی بننا پسند کرتے ہیں۔ ) اپنی اس خواہش کی تکمیل میں وہ اپنا سب کچھ لگا تو دیتے ہیں مگر نتیجتاً ان کو ایک جدید آدمی ملتا ہے تو وہ اوازاری اور بے زاری کا اظہار کرتے ہیں اور جدیدیت کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں۔
بحیثیت مجموعی ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو آدھے ادھورے خوابوں کی تعبیر کی بجائے ایک نئی تعمیر کی خاطر پہلے خود کو پہچانیں۔ کاسا لیسی سے اجتناب کریں اور اپنی اصل کو دیکھنے کی کوشش کریں۔
ایسا کرنے کے ضروری ہے کہ آپ اپنا زیادہ بدلیں اور ماضی میں رہنے کی بجائے جھانکیں اور اس کی چھان بین کریں اور سبق سیکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی دیسی یا لوکل علوم اور حکمت و دانائی کو پا کر اپنی شناخت قائم کریں اور اس شناخت کو برقرار رکھنے اور دوام دینے کے لیے جدیدیت کیا دنیا کسی بھی نظریہ کو پڑھیں سیکھیں اور اس کو اپنے حق میں استعمال کریں۔ یہ سب کرنے کے لیے آپ کا ماضی میں جھانکنا بہت مفید ہو سکتا ہے اور وہی آپ کو دوام بخش سکتا ہے جیسا کہ ایمبرٹو ایکو کہتا ہے ”پڑھائی گزشتہ ابدیت ہے“ ہم پڑھائی کرنے سے کم از کم ابدیت کا حصہ بن سکتے ہیں چاہے وہ ماضی کی ہو یا کہ مستقبل۔
درج بالا گزارشات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں بہت ساری لکیریں کھینچنی پڑیں گی۔ لکیریں تقسیم کے لیے نہیں بلکہ اصلاح احوال کے لیے۔ اپنے مستقبل کی تعمیر کی خاطر بہتر فیصلے کرنے کی لکیریں اور سب سے بڑی اور موثر لکیر کہ فیصلہ کرتے وقت اپنا اور قوم کا مفاد مقدم رکھا جائے نہ کہ دوسروں کا مقابلہ کرنے کی لگن میں اپنا منہ چپیڑوں سے لال کرنا شروع ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ شعور کے اعلیٰ درجوں میں سے ایک درجہ ہے اور اس کے حصول کے لیے تعلیم کو بنیادی مقام حاصل ہے۔


