ناول”کماری والا” پر ایک تبصرہ
علی اکبر ناطق کی نثر کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان کے ہاں پلاٹ، کردار، کہانی اور زبان و بیان کی مضبوطی اردو ادب کے قاری کو نئے جہان معنی کی تلاش کے لیے مہمیز کرتی ہے۔ ناطق کی نثر بھی ان کی طرح دو ٹوک ہے لیکن وہ اپنے اندر ایسے ایسے جمالیاتی التزام رکھتی ہے کہ کہیں بھی اس کا لطیف پیرایہ کمزور نہیں پڑتا۔
اب آتے ہیں ناول کی طرف آغاز میں ناول کے مرکزی کردار ضامن علی کسی خاص مقصد کے لیے اسلام آباد سے کماری والا کا سفر کرتے ہیں۔ کماری والا میں دیہی زندگی کی خوبصورتی، وہاں کے ماحول، ثقافت اور ان لوگوں کے رہن سہن کو بہت اچھے طریقے سے بیان کیا گیا ہے، پڑھتے سمے ضامن علی کے ساتھ ساتھ لہلہاتے کھیت اور موسم کے رنگوں میں قاری بھی رنگا جاتا ہے۔ مسلسل پیدل چلنے سے ضامن علی جب تھک جاتا ہے تو قاری بھی تھکن محسوس کرنے لگتا ہے ایسا آپ کو پورے ناول میں دیکھنے کو ملے گا۔ کیفیات کو اتنی شدت اور خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے۔ ضامن کی دادی، والدہ اور والد دیہاتی اور دین دار گھرانے کے آئینہ دار کردار ہیں۔ تیس سال کی زینت اور دس سال کے ضامن کی محبت کہیں کہیں سمجھ سے باہر ہے بالکل اسی طرح جس طرح زندگی میں بہت کچھ سمجھ سے باہر ہوتا ہے مگر وہ ہوتا ہے۔
اس ناول میں حاجی فطرس کا کردار بہت پسند آیا ایسے لوگوں کا وجود آپ کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یا شاید آپ کی زندگی کے بہت سے مسائل کا بوجھ فقط ان کی قربت میں کچھ لمحے بیٹھنے سے کم محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے یا پھر کم از کم اس کو اٹھانے کی ہمت ضرور آ جاتی ہے۔
ہمارے ملک میں موجود تنظیمیں اور نام نہاد انقلابی تحریکوں کی بھر مار ہے اس کا جائزہ بھی بڑی عمدگی سے لیا گیا ہے۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان نوکری کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے وہ ضامن کے مختلف جگہ پر کام کرنے سے بڑی عمدگی سے واضح ہوتا ہے، خاص کر بڑی بڑی فیکٹریوں اور ملوں میں مزدوروں کے مسائل کو جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔
ڈبہ ولی بخش میں موجود طلال کا کردار جاگیرداری نظام کی بہترین مثال ہے اس میں قتل، ناجائز قبضہ کرنا، رعایا کے ساتھ ظالمانہ رویہ، حسد اور ہوسِ مال و زر جیسے موضوعات بڑی عمدگی سے آئے ہیں لیکن کلاس ڈیفرنس کا صحیح اندازہ ضامن کے اسلام آباد جانے کے بعد ہوتا ہے۔
فقہی اختلافات کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ ہمارے ملک میں جو رویہ اپنایا جاتا ہے وہ شاید اس اچھے انداز میں بیان کرنا علی اکبر ناطق کا ہی کام تھا اور اس سے بہتر بیان کرنا خاصہ مشکل ہو گا۔ ایسی تارگٹ کلنگ میں بے موت مرنے والوں کے وارثوں کے علاوہ شاید ہی کوئی اس کی حقیقت کو سمجھ سکے گا مگر یہ ایک واضح حقیقت ہے۔
ضامن علی کا ہر رنگ کی بزم میں اٹھنا بیٹھنا اور کسی کا رنگ اپنی اوپر جلدی نہ چڑھنے دینا خاص کر اغوا، زینت کا غائب ہونا، شیزا کی بیماری، ضامن کا خود بے یار و مددگار ہو جانا والد کا قتل ہو جانا، لبرلز اور لادین لوگوں سے یارانے ان سب کے باوجود خدا کی ذات سے انکار نہ کرنا اور مذہب اور آل محمد کی محبت کے ساتھ تعلق کو قائم رکھنا، خواہ کتنے ہی پیچ و خم اس کی زندگی میں کیوں نہ آئے ہوں، اس کے باوجود وہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کو اپنے دل پر نقش رکھتا ہے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ جس نے بھی مولا علی کی زندگی اور خصوصاً ان کی علمی بصیرت پر پڑھ سن رکھا ہو اس کے شب و روز ان کی محبت میں گزرے ہوں خواہ وہ کچھ عرصہ ہی سہی، وہ شخص اپنے مرکز سے دور نہیں بھاگ سکتا کیوں کہ ان کی محبت ایسا نور ہے خواہ کتنا ہی گہرا اور گھپ اندھیرا کیوں نہ ہو وہ نور دور سے بھی پوری آب و تاب سے چمکتا نظر آتا ہے۔ اس ناول میں شاید ایک دو موضوع ایسے ہیں جن پر میں تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں، وہ ہیں ذیشان اور ضامن کا تعلق۔ شیزا اور ضامن کی محبت۔


