پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا زوال


پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے زوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں کئی اہم پہلوؤں پر غور کرنا ہو گا۔ حالیہ برسوں میں، کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، اور اس کی وجوہات گہری ہیں۔ اس مضمون میں، ہم ان وجوہات کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کیسے یہ مسائل پاکستان کے تعلیمی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔

سب سے پہلی اور اہم وجہ تعلیمی معیار کی کمی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اساتذہ کی تربیت کی کمی، نصاب کی پرانی ساخت، اور جدید تدریسی طریقوں کا فقدان اس بات کا سبب ہیں کہ طلباء کو وہ علم اور مہارت نہیں مل رہی جو آج کے دور میں ضروری ہیں۔ 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً 40 فیصد یونیورسٹی کے طلباء نے کہا کہ وہ اپنی تعلیم سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ انہیں جدید علوم اور مہارتوں کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح ہمارے تعلیمی ادارے جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام ہیں۔

مالی مسائل بھی ایک اہم رکاوٹ ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے زوال کا سبب بن رہی ہے۔ پاکستان میں بہت سے طلباء اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے وہ کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلہ لینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ 2020 میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 70 فیصد خاندانوں کو تعلیم کے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ اس مالی دباؤ کی وجہ سے بہت سے ہونہار طلباء اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیمی نظام میں ٹیلنٹ کا فقدان ہو جاتا ہے۔

اساتذہ کا کردار بھی اس مسئلے میں بہت اہم ہے۔ جہاں کچھ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی سے نبھاتے ہیں اور طلباء کو بہترین تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں بدقسمتی سے، بہت سے اساتذہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ 2018 کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 30 فیصد اساتذہ باقاعدگی سے غیر حاضر رہتے ہیں، جس سے طلباء کی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دوسری طرف، وہ اساتذہ جو طلباء کی تعلیم پر بھرپور توجہ دیتے ہیں، وہ ایک مثبت کردار ادا کر رہے ہیں اور طلباء کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

ہمارے تعلیمی نظام میں جدیدیت کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن ہمارے تعلیمی ادارے اس ترقی کی رفتار کے ساتھ نہیں چل رہے۔ ہمارے نصاب میں جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر توجہ نہیں دی جاتی، جو کہ آج کے دور کی ایک اہم ضرورت ہے۔ 2021 کے ایک سروے کے مطابق، 50 فیصد سے زائد یونیورسٹی طلباء نے کہا کہ ان کے نصاب میں جدید موضوعات شامل نہیں ہیں، جس سے ان کی تعلیم محدود ہو جاتی ہے اور وہ عالمی مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے مواقع کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب طلباء دیکھتے ہیں کہ ڈگری حاصل کرنے کے باوجود انہیں ملازمت نہیں ملتی، تو ان کی تعلیم میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں گریجویٹس کی بے روزگاری کی شرح تقریباً 25 فیصد تھی، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اس بے روزگاری کی وجہ سے طلباء اپنے مستقبل کے بارے میں مایوس ہو جاتے ہیں اور ان کی تعلیم کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔

آخر میں، حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کی ناکامی بھی اس زوال کا ایک بڑا سبب ہے۔ تعلیم کے لیے مختص بجٹ کم ہوتا ہے، اور جو فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، وہ بھی صحیح طریقے سے استعمال نہیں ہوتے۔ غیر معیاری تعلیمی اداروں کی موجودگی اور ان کی نگرانی کا فقدان بھی تعلیمی نظام کے زوال میں کردار ادا کرتا ہے۔ جب حکومت تعلیم پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے گی، تو تعلیمی نظام کی بہتری کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟

یہ تمام عوامل مل کر پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے زوال کا سبب بن رہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام بہتر ہو اور ہمارے نوجوان ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکیں، تو ہمیں ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا اور فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، اساتذہ کی تربیت پر توجہ دینا، جدید نصاب کو اپنانا، اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا وہ بنیادی اقدامات ہیں جو ہمیں اس زوال کو روکنے کے لیے کرنے ہوں گے۔

Facebook Comments HS