سانحہ رحیم یار خان، پولیس اور ریاست پاکستان
سانحہ رحیم یار خان پر دکھ اور افسوس کے ساتھ ساتھ ریاست کی حکمت عملی اور ترجیحات پر شدید غصہ بھی آ رہا ہے۔ پولیس کے جوانوں کو ریاست نے مرنے کے لیے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ محکمہ پولیس کی مظلومیت کی ایک مکمل داستان ہے۔ ایک ایسی داستان کے جس میں مظلوم کو ہی ولن بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
اگر ہم پولیس اور فوج کا موازنہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ فرسٹ لائن آف ڈیفنس ہونے کے باوجود پولیس اور فوج کے بجٹ اور ٹریننگ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اور جو بجٹ پولیس کے حصے میں آتا ہے وہ بھی حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل نہیں ہو پاتا اور افسران کی عیاشی کی نظر ہو کر رہ جاتا ہے۔
ہماری پولیس کتنی بے بس، لاچار اور انڈر ریسورسڈ ہے اس بات کا اندازہ آپ اس حالیہ سانحے سے لگا سکتے ہیں کہ جس میں پولیس کے جوانوں پر راکٹس سے حملہ کیا گیا اور ہماری پولیس کے پاس یقیناً جوابی کارروائی کے لیے ایک میگزین برابر گولیاں بھی نہیں ہونی!
میں آج کل تعلیم کے حصول کے لیے لندن میں موجود ہوں۔ یہاں پر ایک معمولی سے کریمینل کو پکڑنے کے لیے جتنے ریسورس ریاست نے پولیس کو دے رکھے ہیں شاید اتنے ریسورس تو ہماری فوج کے پاس بھی نہیں ہوں گے (شاید! ) ۔ الفرڈ لندن میں ایک دن ہم چائے پینے کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک نشئی نے پولیس کو تنگ کیا ہوا تھا۔ اس ایک نشئی کو پکڑنے کے لیے تقریباً آٹھ سے دس پولیس کی گاڑیاں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ مجھے حیرانی اس وقت ہوئی جب میں نے اپنے سر کے اوپر ایک ہیلی کاپٹر کو منڈلاتے ہوئے دیکھا جو یقیناً اس سارے واقعے کو مانیٹر کر رہا تھا۔ ایک نشئی کو پکڑنے کے لیے اتنے اقدامات؟ بات ایک نشئی کو پکڑنے کی نہیں بلکہ پولیس کو مکمل ریسورسز سے لیس کرنے کی ہے۔
ہمارے ہاں بچارے پولیس والے وہ واحد طبقہ ہیں جو شاید سب سے زیادہ کام کرتے ہیں اور اتنے ہی زیادہ بدنام ہیں (اس بدنامی کا سبب یقیناً پولیس میں موجود چند کالی بھیڑیں ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پورا محکمہ ہی کرپٹ ہے، پولیس میں اصول پسند اور فرض شناس لوگوں کی یقیناً کوئی کمی نہیں ہے ) جبکہ اس کے برعکس ایک طبقہ ایسا ہے کہ جس نے ملک کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے اور ان کا کام اپنے بنیادی کام کے علاوہ وہ سارے کام کرنا ہے جو ان کی آئینی و قانونی ذمہ داری میں نہیں آتے۔
پولیس ہماری فرسٹ لائن آف ڈیفنس ہے۔ پولیس کے جوان چوبیس گھنٹے آن ڈیوٹی ہوتے ہیں۔ ان کی ذاتی خوشی غمی عوامی خوشی غمی میں ہی ہوتی ہے۔ کسی بھی شخص کو جو بھی مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ پولیس ہی کو اپنی آخری امید سمجھتے ہوئے اس کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے جاتا ہے۔ ہماری پولیس ہر چوک چوراہے پر بلا ناغہ موجود رہتی ہے۔ آپ نے کبھی سوچا بھی ہے کہ یہ پولیس والے کتنی تنخواہ لیتے ہیں؟ کیا ان کے بچوں کے لیے تعلیم مفت ہے؟ کیا ان کے بھی اپنے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہیں؟ کیا پولیس والوں کے لیے رہائشی کالونیاں ہیں؟ پولیس والے کم تنخواہ میں اپنے اخراجات کیسے پورے کرتے ہوں گے ؟ کیا فوج کی طرح پولیس والوں کو بھی ریٹائرمنٹ کے بعد پولیس کا محکمہ نوکری پر دوبارہ رکھتا ہے؟ کیا فوج کی طرح پولیس والوں کی بھی آٹھ آٹھ گھنٹوں کی شفٹس ہوتی ہیں یا پھر یہ چوبیس گھنٹے ہی اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں؟ آخر کار پولیس والے کیسے چوبیس گھنٹے پورا سال ڈیوٹی پر ہو سکتے ہیں؟ کیا پولیس والوں کے لیے ٹریننگ اور سیفٹی کا مکمل نظام وضع ہے؟ کیا پولیس والے انسان نہیں ہیں؟ کیا پولیس والوں کے لیے فوج کی طرز پر تربیت کے لیے ریاست کو فنڈز مہیا نہیں کرنے چاہئیں؟ کیا پولیس والوں کے ورکنگ آورز کم کر کے ان کی تعداد بڑھانی چاہیے؟
یہ وہ سوالات ہیں کہ اگر آپ ان پر غور کریں تو پولیس آپ کو ایک مظلوم اور لاوارث ہونے کے ساتھ ساتھ شاید آپ کی نظر میں محترم ٹھہرے۔
میری رائے میں پولیس کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید بنیادوں پر ٹریننگ کی بھی ضرورت ہے تاکہ رحیم یار خان جیسے سانحات سے بچا جا سکے۔ پولیس میں ورکنگ آورز کم کر کے تعداد کو بڑھایا جائے تاکہ کوالٹی آف سروس کو بہتر کیا جا سکے۔ پولیس کے لیے بھی ملازمت کے دوران اور ملازمت کے بعد فوج کی طرز پر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ پولیس والوں کے لیے اپنی جاب پر فوکس کے لیے آسانیاں پیدا ہوں اور وہ صرف سروس ڈیلیوری پر فوکس کر سکیں۔
رحیم یار خان میں شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت کی دعا کے ساتھ ساتھ ایک اور دعا کے اللہ تعالٰی اس ریاست کو ہدایت دے کے وہ اپنی ترجیحات درست سمت میں لے آئے۔ آمین۔


