سکون صرف قبر میں
نواز شریف نے 2019 میں گجرانوالہ جلسے میں جو تقریر کی وہ آج حرف با حرف درست ثابت ہو رہی ہے۔ پاکستان میں پچھلے چھ سات سالوں میں جتنے بھی بڑے اقدامات ہوئے ان کے پیچھے ایک ہی شخص کا رول نمایاں رہا وہ شخص فیض حمید تھا۔ مسلم لیگ نون اس کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیتی ہے۔ نواز شریف آج بھی ایک ہی سوال بار بار کرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ نواز شریف اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک ہیں۔ 2017 میں جب نواز شریف کو وزارت عظمی سے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر ہٹایا گیا تو اس وقت پاکستان کی معیشت مستحکم تھی اور ڈالر کنٹرول میں تھا عام آدمی کی زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔
پاکستان کے بارے میں عالمی مالیاتی ادارے اچھی پیشگوئیاں بھی کر رہے تھے، سب سے بڑھ کر مہنگائی عام آدمی کی پہنچ کے مطابق تھی جبکہ تحریک انصاف 2017 سے خوشی کے شادیانے بجانے میں مصروف عمل تھی۔ الیکشن سے پہلے کوئی بھی سیاستدان تحریک انصاف میں شامل ہوتا تھا تو آوازیں آتی تھی کپتان نے آج اتنی وکٹیں اڑا دی ہیں۔ اگر کوئی گرفتاری ہوتی تھی تو کہا جاتا تھا سب پھڑے جان گے۔ پھر جب مہنگائی بڑھنا شروع ہوئی تو تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کہا گیا مہنگائی پاکستان کا نہیں عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔
یہ مہنگائی بڑھتے بڑھتے 69 سالہ ریکارڈ توڑ گئی لیکن عمران خان نے کہا سکون صرف قبر میں ہے۔ جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ملکی گرتی ہوئی معیشت کے بارے میں پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا کہ ہم آج بھی میثاق معیشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہاں یہ بتانا لازمی ہے کہ جب شہباز شریف یہ بات کر رہے تھے وہ ایک ہفتہ قبل ہی نیب کی حراست سے رہا ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچے تھے۔ اس وقت مراد سعید اور عمران خان نے اس کو این آر او کا نام دیا کہ شہباز شریف معیشت کی آڑ میں حکومت سے این آر او مانگ رہے ہیں جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہر روز مسلم لیگ نون کے لوگوں کی عجیب و غریب قسم کے مقدمات میں گرفتاریاں ہوتی رہیں کبھی مسلم لیگ نون کے لوگوں کو نیب اٹھا لیتی کبھی ایف آئی اے اور کبھی اینٹی کرپشن گرفتار کر لیتی۔
ان گرفتاریوں کی روزانہ کی بنیاد پر آنے والی خبروں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر برا اثر پڑا ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کا روپیہ ڈی ویلیو ہوتا رہا اور معیشت گراوٹ کا شکار ہوتی رہی اور سٹاک مارکیٹ 52 ہزار پوائنٹ سے چلتے چلتے 40 ہزار تک آ گئی لیکن عمران خان کی ایک ہی رٹ تھی کہ میں دہشت گردوں سے تو بات کر لوں گا لیکن ان چوروں ڈاکوؤں سے بات نہیں کروں گا کیونکہ اس وقت عمران خان حکومت کے گھوڑے پر سوار تھے۔
ان کو تحریک انصاف کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر جیسے جیسے اپوزیشن کا دباؤ بڑھتا گیا اسٹیبلشمنٹ نے بھی عمران خان سے ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا۔ جیسے جیسے اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹتی گئی عمران حکومت کمزور ہوتی گئی۔ پھر جس دن اسلام آباد میں سینٹ کی نشست کا الیکشن ہوا پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی الیکشن جیت گئے اور حفیظ شیخ ہار گئے بظاہر عمران حکومت کا اسلام آباد سے اقتدار کا آخری دن تھا۔ پھر عدم اعتماد آئی عمران خان کو آدھی رات کے وقت ڈائری پکڑے وزیراعظم ہاؤس سے نکلنا پڑا۔
عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس سے نکلنے کے بعد جتنے بھی فیصلے کیے ان سب میں فیض حمید فائنل اتھارٹی ہوتے تھے یہ باتیں آج درست ثابت ہو رہی ہیں۔ پارلیمنٹ سے استعفے دینے ہوں یا پنجاب اور کے پی کے اسمبلی تحلیل کرنی ہو یہ سب غلط فیصلے عمران خان نے فیض حمید کے کہنے پر کیے۔ آج وہی فیض حمید اپنے ادارے کی گرفت میں ہیں اور عمران خان کہہ رہا ہے کہ میرا فیض حمید سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس کا کورٹ مارشل فوج کا ذاتی معاملہ ہے۔
عمران خان کا یہ پسندیدہ مشغلہ ہے کہ وہ جس شخص کو جس حد تک ہو سکتا ہے استعمال کرتا ہے پھر جیسے ہی اس کا کام پورا ہو جاتا ہے وہ اس شخص کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ آج یہی کچھ فیض حمید کے ساتھ ہو رہا ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ نواز شریف کے وہ تمام الزامات صرف الزامات نہیں تھے بلکہ حقیقت پر مبنی تھے کہ ان کی حکومت کو گرانے کے لیے اور عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لیے کس طرح سے ادارہ جاتی پالیسی بنائی گئی اور مسلم لیگ نون کی پوری لیڈرشپ کو دیوار میں چنوا دینے کا پلان بنایا گیا لیکن ایک پلان اللہ تعالی کا بھی تھا وہی نواز شریف آج پاکستان میں ہیں آزاد ہیں ان کے کیسز ختم ہو چکے ہیں ان کے بھائی وزیراعظم ہیں اور بیٹی وزیراعلی پنجاب ہیں جبکہ عمران خان جیل میں ہیں فیض حمید فوج کی حراست میں ہیں اور نواز شریف کو جیل بھیجنے والے ججز ریٹائرڈ ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں ان میں آج اتنی بھی جرات نہیں کہ وہ کسی عوامی تقریب میں شرکت کر سکیں اور اپنی صفائی بیان کر سکیں۔
جو عمران خان کہتا تھا میں ان چوروں ڈاکوؤں کو چھوڑوں گا نہیں وہی عمران خان آج محمود خان اچکزئی کے ذریعے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے مذاکرات کرنے کے کبھی اعلانات کرتے ہیں اور کبھی فوج سے نو مئی کی ناکام بغاوت پر مشروط معافی کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ جنرل عاصم منیر پر شاید اللہ تعالی مہربان ہیں ان کے آرمی چیف بننے سے قبل لانگ مارچ کیا گیا پھر آرمی چیف بننے کے بعد نو مئی کی ناکام بغاوت کی گئی۔ اس کے باوجود بھی جنرل عاصم منیر نے کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھایا بلکہ تعیناتی سے لے کر آج کے دن تک وہ صرف پاکستان کے بارے میں ہی سوچ رہے ہیں۔
ان کے نزدیک عمران خان سے زیادہ پاکستان اور معیشت ہے۔ معیشت کی بحالی کے لیے ایس آئی ایف سی کا بھی مرکزی رول ہے۔ جنرل عاصم منیر پوری ذمہ داری کے ساتھ پاکستان کی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کر رہے ہیں۔ پچھلے چھ سال میں پاکستان کی معیشت کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا ہے اس کا ازالہ چند ماہ میں ممکن نہیں ہے اگر حکومت اپنے پالیسیوں کا تسلسل ایسے ہی جاری رکھتی ہے تو شاید اگلے ڈیڑھ دو سال تک پاکستان کی معیشت دوبارہ ٹریک پر واپس آ جائے۔
ایک بات طے ہے جب تک پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد نہیں ہوتا پاکستان کی معیشت ایسے ہی لڑکھڑاتی رہے گی اور مہنگائی کا طوفان آتا رہے گا۔ قرضوں پر ملک چلانے کی بجائے تجارت پر فوکس کرنا پڑے گا۔ جب تک تجارت نہیں بڑھے گی معیشت بہتر ہوگی نہ ہی پاکستان میں ڈالر آئیں گے اگر پاکستان میں ڈالر نہیں آتے تو مہنگائی کم نہیں ہوگی اگر مہنگائی کم نہ ہوئی تو غریب خوشحال نہیں ہو گا اگر غریب خوشحال نہیں ہوتا تو پاکستان خوشحال نہیں ہو گا۔ ورنہ سکون صرف قبر میں ہے۔



Highly misleading information probably writer is having a blind eye on many facts against his favorite party / its leader. Do read the Budget document 2018-19 presented by Fin Min Miftah Ismail about situation of then economy and future forecast