آزادی کیا ہے؟


آزادی کا دن ہمیشہ کی طرح آیا اور گزر گیا۔ کسی نے پرچم لہرا کر، کسی نے ترانے بجا کر اور کسی نے خاموشی سے اس دن کو منایا۔ اس کے ساتھ ہی ہر طرف یہ بحث ہوتی رہی کہ ہم آزاد ہیں یا نہیں۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزادی آخر ہے کیا؟

آزادی ایک بنیادی تصور ہے جو عام طور پر افراد کی غیر ضروری روک ٹوک یا جبر کے بغیر عمل کرنے، سوچنے اور اظہار کرنے کی صلاحیت ہے۔ اسے اکثر سیاسی، سماجی اور ذاتی پہلوؤں سمیت مختلف طریقوں سے دیکھا جاتا ہے۔ یوں تو آزادی اظہار رائے کو سب سے پہلے رکھا جاتا ہے مگر معاشی آزادی ایک اہم پہلو ہے۔ اس کی تعریف یوں کی جاتی کہ ”جائیداد کے مالک ہونے اور استعمال کرنے کا حق، بشمول معاہدوں میں داخل ہونے اور معاشی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی آزادی، ضرورت سے زیادہ ضابطے یا پابندی کے بغیر کاروبار اور تجارت میں مشغول ہونے کی آزادی وغیرہ“

کوئی بھی انسان اس وقت تک حقیقی طور پر آزاد نہیں ہے جب تک وہ معاشی طور پر آزاد نہیں ہو جاتا۔ اس کی مثال ہم یوں لیتے ہیں کہ جب کوئی بچہ، جو ابھی کمانے کے قابل نہ ہو، والدین کے فیصلے سے بغاوت کرتا ہے تو اسے جائیداد سے عاق کر نے یا گھر سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اسی طرح کا ماحول کام کی جگہوں حتی کہ سرکاری نوکریوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یعنی آپ کی معاشی حالت آپ کی زندگی کا ہر فیصلہ کرتی ہے۔

ایک ملک کی معاشی آزادی کتنی اہم ہے؟

تاریخ پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ دنیا کے تمام مذاہب معاشی مساوات کا درس دیتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کے بڑے بڑے انقلابیوں کو دیکھا جائے تو سب کی انقلاب یا آزادی کی جدوجہد میں جو چیز مشترک ہے وہ معاشی آزادی یا معاشی مساوات ہے۔

لہٰذا کوئی بھی ملک یا قوم اس وقت تک اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتی جب تک وہ معاشی طور پر آزاد نا ہو۔ پاکستان کے قیام کے بعد قائداعظم نے جب سٹیٹ بینک کے افتتاح کے وقت سود سے پاک بینکنگ سسٹم بنانے کی بات کی تو مطلب معاشی آزادی ابھی حاصل کرنا باقی تھی۔ کسی حد تک ہم پاکستان بننے کے بعد معاشی طور پر مضبوطی کی جانب گامزن تھے اور یاد کریں تو ہم کئی چھوٹے ممالک کو قرض بھی دیا کرتے تھے۔ لیکن پھر پاکستان کے ”اکنامک ہٹ مینز“ میں سے ایک نے قرض لینے کی بنیاد رکھی اور آج ہر پیدا ہونے والے لاکھوں کے مقروض بچے اور کل آمدنی کا 74 فیصد قرض اور سود کی ادائیگی میں دینے والے ملک کے باشندے اپنے فیصلے خود کرنے کے نعرے لگاتے ہیں۔

بات وہی سر پرست کے فیصلے والی کہ کھاتے میرا ہو تو بات بھی میری ماننی ہو گی۔ پہلے برطانوی فوج کو نکالنے کے چکر میں امریکی امداد کے ساتھ ساتھ فوج کو بھی امریکن بنا دیا اور پھر اس دائرہ کار کو بڑھایا گیا۔ پھر تو گویا امداد اور قرض کی ایسی لت پڑی کہ کیا امریکہ، کیا چین اور سعودی عرب اور کیا گلف ممالک۔ تو عادت پوری کرنے کے لیے فیصلے بھی ماننے پڑے۔ رہی سہی قصر جہاد اور دہشت گردی کے نام پر ملنے والی امداد اور سیکرٹ فنڈز نے پوری کر دی اور برائے نام ایٹمی طاقت کو معاشی غلامی کے ساتھ ساتھ دو ایسے جالوں میں جکڑا جو سیاہ و سفید کے مالک ہیں یعنی آئی ایس آئی اور دہشت گرد۔

ایک تیسری زنجیر جس میں 77 سالہ ”آزاد ریاست“ جکڑی ہوئی ہے وہ پرائیویٹ انرجی سیکٹر اور کارپوریٹ سیکٹر ہے۔ ورلڈ بینک کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا حصہ پرائیویٹ انرجی سیکٹر میں ہے۔ لہٰذا کل ملا کر چار والدین ہیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ ہماری ساری پالیسیاں بناتے ہیں یا فیصلے کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف /ورلڈ بینک، امداد دینے والے ممالک (امریکہ، چین، سعودی عرب، قطر وغیرہ) اور انرجی سیکٹر /شوگر مافیا اور کارپوریٹ سیکٹر۔ اور اگر کوئی ان والدین کے فیصلے کے تھوڑا سا بھی خلاف جائے تو چاہے وہ کتنا ہی فرمانبردار بچہ کیوں نہ ہو ”جائیداد“ سے عاق کر دیا جاتا ہے۔ ان مثالوں سے ہماری 77 سالہ ”آزاد“ تاریخ بھری پڑی ہے۔

اس معیشت کے سائے میں ہمدم
اچھی صورت ہے وہ جینے کی
جس میں دو چار دن کی ”روٹی“ ملے
اور سزا چھ مہینے کی

سوائے چند کے انہی چار والدین کے نمائندے بدل بدل کر ہر دفعہ ایک نئے نعرے کے ساتھ ہم پر حکومت کرتے ہیں۔

اس معاشی افراتفری اور بے چینی نے وطن عزیز میں روز اول سے جرائم کو جنم دیا۔ اور آج پاکستان جرائم کا ایک ایسا گڑھا ہے جس سے نکلنے کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ ہر طرف رشوت، سفارش، ڈاکے اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے لیکن قانون خاموش تماشائی ہے کیونکہ

”جو قانون روٹی نہیں دے سکتا وہ ہاتھ بھی نہیں کاٹ سکتا“
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ معاشی آزادی حاصل کیسے کی جائے؟

تو جناب یہ نا تو کوئی سیاست دان کرے گا نا ہی کسی ادارے کا سربراہ کیونکہ ترقی کا نعرہ 1947 سے اور احتساب کا 90 کی دہائی سے لگتا آ رہا ہے مگر سرکاری وسائل کے مزید ضیاع کے علاوہ کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ لہذا اس کے لیے پڑھے لکھے طبقے کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

ہمارے معاشرے میں میڈیکل اور دیگر سائنس فیلڈز فیشن بن چکی ہیں اور اکنامکس، مینیجمنٹ اور بینکنگ وغیرہ پڑھنے والے لوگوں کو یوں دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کسی کام کے نہیں۔ لہذا سب سے پہلے اس رویے کو بدلا جائے اور نوجوانوں کو ان فیلڈز میں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے تا کہ عوام میں معیشت کی سمجھ بوجھ پیدا ہو۔

نوکری کی بجائے کاروبار کو فروغ دیا جائے۔

انفرادی طور پر رشوت کی حوصلہ شکنی کی جائے تا کہ ایماندار اور محنتی لوگ آگے آئیں۔ حکومتی پالیسیاں لمبے عرصے کے لئے ہوں نا کہ ہر حکومت دو سال بعد انہیں تبدیل کرے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے نیشنل پلان بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی ترقی اور آزادی کا نعرہ لگانے والوں سے سوال کیا جائے کہ ان کے پاس معاشی آزادی کا کیا پلان ہے۔ معاشی معاملات کو متعلقہ لوگوں کو دیکھنے دیا جائے اور باقی لوگ اپنا کام کریں۔

اپنی ڈومین سے نکل کر معاشی ترقی کا نعرہ لگانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ہمسایہ ممالک سے لڑائی کی بجائے دوستانہ ماحول اور تجارت کو فروغ دیا جائے تا کہ دفاعی بجٹ میں کمی لائی جا سکے۔ دیگر ممالک کی مدد پر انحصار کرنے کی بجائے مراعات کم کی جائیں اور انرجی سیکٹر سے کیے گئے تباہ کن معاہدے ختم کیے جائیں۔ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملک کے اچھے معاشی ماہرین سے معاشی پالیسی کے لیے رائے لی جائے۔ ٹیکسز میں اضافے کی بجائے بڑی بڑی کمپنیوں کی ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے اور کسی بھی خاص کارپوریٹ سیکٹر کی پراپرٹی ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے (جیسا کہ حالیہ بجٹ میں آرمی کو دی گئی)

جب تک ہم معاشی طور پر آزاد نہیں ہوتے تو ہمیں کسی بھی حکومت سے یہ امید ختم کر دینی چاہیے کہ وہ کشمیر، فلسطین یا اپنے لوگوں کے لیے کسی بھی قسم کا کوئی سٹینڈ لے سکتے ہیں۔ سیاسی آزادی، مذہبی آزادی، ڈیجیٹل آزادی، اظہار رائے کی آزادی اور سب سے بڑھ کر نیشنل اور انٹرنیشنل پالیسیز بنانے اور ان پر عمل کرنے کی آزادی معاشی آزادی سے مشروط ہے۔ ورنہ ترانے سننے اور گا کر آزادی کا جشن منانے سے ہمیں ”tarana makers“ کے لقب کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔

Facebook Comments HS